ادب اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،اگر 30 سے 40 سال پہلے کے ادبی اور صحافتی منطر نامے پر نظر ڈالیں تو لاتعداد ایسے نامورصحافی ہیں جو ادب اور صحافت کو ساتھ لے کر چلتے رہے ، شوکت صدیقی ، اطہر مسعود ، انتظارحسین ، عباس اطہر ، منو بھاہی ، نذیر ناجی، کنول فیروزایسے ہی ادیب اور صحافی ہیں جن کی تحریریں امرہوگئیں۔

عصر حاضر میں بھی کچھ ایسے گوہر نایاب ہیں جو ادب وصحافت دونوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ان ہی میں خواجہ آفتاب حسن کا بھی شمار ہوتا ہے ۔
خواجہ آفتاب لاہور کے صحافتی حلقوں میں ایک جاناپہچانا نام ہیں جن کی شخصیت کئی اہم پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ،خواجہ افتاب لاہور پریس کلب کی بھی پہچان اور اہم حصہ ہیں۔
خواجہ آفتاب کی زندگی کے تین نمایاں پہلو اور خصوصیات ہیں ،خواجہ آفتاب ایک ایسے عامل صحافی ہیں جومیگزین اور نیوز روم کا انتہائی اہم حصہ ہیں ،مضامین ،خبروں کی کانٹ چھانٹ ہو یا اسلوب ان کو اپنے کام پر عبور حاصل ہے ۔
خواجہ آفتاب ایک فکشن نگار اور ٹریڈ یونیسٹ بھی ہیں جو پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے حوالے سے اہم مقام رکھتے ہیں اور ان کی سیاست پر بھی گہری نظر اور صحافی برادری کیلئے کافی خدمات ہیں۔
خواجہ افتاب لاہور پریس کلب کی تاریخ کا وہ نمایاں کردار ہیں جو صحافت ادب اور سیاست تینوں کو کامیابی سے ساتھ لے کر چل رہے ہیں ان کی اہلیہ تمثیلہ چشتی بھی نامور صحافی ہیں۔
راقم الخروف کے صحافتی شعبہ کے پہلے استاد خواجہ آفتاب ہیں جنہوں نے ہمیشہ بڑے بھائی اور دوست کی طرح حوصلہ افزائی کی ،روزنامہ مساوات میں ان کی زیر نگرانی فیچر اور کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے ۔
پیکا ایکٹ ہو ،صحافیوں کی جبری برطرفی یا ظلم وجبر خواجہ افتاب اس کے خلاف علم بلند کرنے والوں میں سب سے آگے ہوتے ہیں ، انکی افسانوں کی کتاب’’ خالی سٹرک‘‘ ایک شاہکار ہے ۔
خواجہ افتاب ان صحافیوں میں شامل ہیں جو بیک وقت حلقہ ارباب ذوق اور پریس کلب کے رکن ہیں طویل عرصے سے حلقہ ادب و صحافت بھی چلاتے ہیں،ان کی تصنیف خالی سٹرک میں شامل افسانے ، موت کا فرشتہ ، شمشان گھاٹ ،گورکن، سرخ جوڑا، اکھاڑہ، تیرے خیال کا پہلو،اور بکواس بند کروشامل ہیں۔
خواجہ آفتاب کی پہلی کتاب ’’ فنکاریاں ‘‘خاکہ نگاری پر تھی جو فکشن کی ایک صنف ہے اب افسانوں کی کتاب’’ خالی سٹرک ‘‘خواجہ آفتاب حسن کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے ، ہم خواجہ آفتاب سے مزید تخلیقات کی توقع رکھتے ہیں ،وہ اپنی تکونی شخصیت ایک صحافی ،ادیب اور سیاستدان کو ساتھ لے کر یوں ہی کامیابی سے چلتے رہیں گے۔




بہت اچھا کالم ۔۔۔