پاکستانتازہ ترینصحت

میاں منشی ہسپتال:کرپشن پر ایم ایس ڈاکٹر اختر گجر معطل

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کرپٹ نااہل میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے خلاف سرگرم ہوگئیں

لاہور ( بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) میاں منشی اسپتال میں تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر گجر کے خلاف محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر نے معطلی کے آرڈر جاری کر دئیے، میاں منشی اسپتال کے ایم ایس کے خلاف کروڑوں کی کرپشن، بدعنوانی، ادویات کی عدم دستیابی کی متعدد شکایات پر ڈپٹی سیکرٹری سارہ لونی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر اچانک چھاپہ مارا اور چھاپے کے دوران میاں منشی اسپتال آئے مریضوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے۔

میاں منشی ہسپتال سے معطل ہونے والا ایم ایس اختر گجر

ادویات کی عدم دستیابی، بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت نا ہونے کی شکایات پر ڈپٹی سیکرٹری نے اپنی رپورٹ مرتب کرکے سیکرٹری ہیلتھ عظمت محمود کو جمع کروا دی جب کہ میاں منشی اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اختر نے عمران یونس نامی بلڈ ٹیکنیشن کو فرنٹ مین کے طور پر رکھا ہوا تھا، جو کہ میڈیسن کمپنیوں سے ساز باز کرتا تھا اور ادویات چوری کے حوالے سے بھی بلڈ ٹیکنیشن عمران یونس قومی خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا چکا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک اور فرنٹ مین بجٹ اینڈ اکاؤنٹ آفیسر منظور شاہ ادویات ساز کمپنیوں کے بل پاس کروانے کی بھاری رشوت لیتا رہا ہے۔
منظور شاہ کو ایم ایس اختر گجر نے ماورائے قانون پروموشن دیکر کمیشن ایجنٹ کے طور پررکھا ہوا تھا، ان دو فرنٹ مینز کی وجہ سے میاں منشی اسپتال سے ایم ایس اختر گجر نے مبینہ طور پر غریب عوام کے علاج معالجےکے پیسوں کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا، جبکہ گزشتہ روز ہونے والے سرپرائز چھاپے میں ڈپٹی سیکرٹری سارہ لونی نے بجٹ اکاونٹ آفیسر منظور شاہ اور بلڈ ٹیکنیشن عمران یونس کو اتارنے کے احکامات جاری کر دئیے تھے، لیکن ان پر عملدرآمد نا ہوسکا نئے تعینات ہونے والے ایم ایس ڈاکٹر انجم رشید کا کہنا ہے، کہ کرپٹ عناصر ملازمین کی میاں منشی اسپتال میں کوئی جگہ نہیں ہے، مریضوں کے پیسوں اور ادویات پر کسی مافیا کو حق تلفی نہیں کرنے دیں گے۔


میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انجم رشید کا مزید کہنا تھا، کہ میرے دروازے اسپتال آنے والے تمام مریضوں کے لئے کھلے ہیں، شکایات کی صورت ملوث افراد کو نشان عبرت بنا دیں گے، میاں منشی اسپتال میں ادویات کا وافر سٹاک موجود ہے، جو کہ مریضوں کو دینا شروع کر دیا ہے اب میاں منشی ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو ٹوٹل ادوایات اندر سے مہیاں کی جائے گی اور ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو عزت دی جائے گی اُن کو عزت کے ساتھ چیک اپ ہوا کرے گا،

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button