اسلام آباد ( ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو ( نیب) کے خصوصی تربیتی شعبے، پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی ( پاکا) نے اپنے سالانہ تربیتی منصوبے 2026کے تحت پہلے صلاحیت سازی کورس اور تکنیکی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا افتتاح چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) نذیر احمد نے کیا۔
اس تربیتی کورس کا بنیادی مقصد تفتیشی افسروں اور پراسیکیوٹرز کو منی لانڈرنگ کے جدید رجحانات اور اس سے متعلقہ قوانین کی گہری سمجھ بوجھ سے آراستہ کرنا ہے۔ یہ پروگرام بالخصوص پیشہ ورانہ افراد کو جدید تفتیشی طریقہ کار اور قانونی مہارتوں سے لیس کرتے ہوئے مالیاتی جرائم کا موثر انداز میں تدارک کرنے کے قابل بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
تربیتی کورس میں نامور ماہرین نے شرکاء کو عالمی و قومی(AML/CFT)فریم ورک کے بارے میں جامع معلومات فراہم کیں۔ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے منی لانڈرنگ کیسز سے متعلق نیب کے ترمیم شدہ تفتیشی طریقہ کارکا جامع جائزہ پیش کیا۔
جس میں ثبوتوں کے حصول اور اداروں کے باہمی پروٹوکولز پر توجہ دی گئی۔نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احسان صادق نے ایف اے ٹی ایف (FATF)کے معیار پر پاکستان کی عملدرآمد کی صورتحال اورکارپوریٹ گورننس میں خطرات پر مبنی طریقہ کارکی اہمیت پر سیشن منعقد کیا۔تکنیکی مہارت میں اضافے کے لیے سپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل محمد طاہر نے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010پر تفصیلی سیشن منعقدکیا، جس میں اثاثوں کی نشاندہی اور ناجائز دولت کیخلاف قانونی کارروائی کے بدلتے ہوئے طریقہ کار پرخصوصی توجہ دی گئی۔ مزید برآں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر نورالسحر نے مشکوک مالیاتی لین دین کی شناخت میں مالیاتی انٹیلی جنس کے کردار پر اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
تربیتی پروگرام میں عملی ورکشاپ کا انعقادکیا گیا، جس کا عنوان ’’ نیب کے اہم منی لانڈرنگ مقدمات کا فرضی ٹرائل‘‘ تھا۔اس مشق کے دوران شرکاء کو ریمانڈکی درخواستوں سے لے کر گواہوں کے بیانات اور جائیدادکی ضبطی جیسے قانونی مراحل کا عملی تجربہ فراہم کیاگیا۔تفتیش سے لے کر عدالتی فیصلے تک کے مراحل پر مشتمل اس مشق نے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا۔تربیتی کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) نذیر احمد نے مالیاتی جرائم کیخلاف حکومت پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور قومی معیشت کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔اپنے خطاب میں چیئرمین نیب نے اکیڈمی کو قومی احتساب بیوروکی بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ہراول دستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کی پیچیدگیاں اس امرکی متقاضی ہیںکہ ادارے کی افرادی قوت نہ صرف روایتی تفتیش میں مہارت رکھتی ہو بلکہ جدید بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2026ء کا تربیتی سلسلہ بالخصوص ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور افسران کو بدعنوانی کے خلاف عالمی چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے جدید آلات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی فراہمی کے مقصد سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ نے اس صلاحیتی تربیتی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیوروکی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ایسی منظم اور عملی تربیت ناگزیر ہے۔ڈائریکٹر جنرل پاکا، غلام صفدر شاہ نے اپنے خطاب میں اکیڈمی کے رواں سال کے ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے مالیاتی تحقیقات، فرانزک تجزیہ اور تحقیقی سرگرمیوں میں جدید ترین رہنمائی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نصاب منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے انسداد سے متعلق عالمی معیارات کے عین مطابق ہے، تاکہ پاکستان کا تفتیشی نظام بین الاقوامی سطح پر ایک موثر اور فعال ادارے کے طور پر اپنی پہچان مزید مستحکم کر سکے۔



