لاہور ( بیورو چیف/سید ظہیر نقوی ) پنجاب میں فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی پر مبنی 271سوشل میڈیا اکائونٹ پی ٹی اے کو رپورٹ کئے گئے جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی میں ملوث 17افراد کو گرفتار کیا گیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 31واں اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت صوبائی وزیر صحت اور چیئرمین خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر چودھری شافع حسین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محرم الحرام کے سکیورٹی پلان پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بریفنگ دی۔
کابینہ کمیٹی نے سائبر پٹرولنگ اینڈ کوئیک ایکشن سیل کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ بتایا گیا کہ فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی پر مبنی 271اکائونٹ پی ٹی اے کو رپورٹ کئے گئے، سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی میں ملوث 17افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کمیٹی نے محرم الحرام کے دوران فزیکل کے ساتھ سائبر سپیس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے کابینہ کمیٹی کو انتظامات بارے آگاہ کیا۔
اجلاس میں پنجاب قرآن بورڈ کے عہدیداروں کی نامزدگی کیلئے تجاویز پر غور کیا گیا۔ چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر امن و امان کی فضا کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے، سائبر پٹرولنگ سیل 24؍7متحرک ہے اور فرقہ واریت میں ملوث افراد گرفتار کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران پولیس کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، پولیس کے ساتھ آرمی اور رینجرز کے جوان بھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں، محرم الحرام کے دوران تمام مکاتب فکر سے رواداری اور اخوت کا پیغام پھیلانے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 9اور 10محرم کو دفعہ 144کے تحت ڈبل سواری کی پابندی کو یقینی بنایا جائے گا، صوبے بھر میں اسلحے کی نمائش کی کسی صورت اجازت نہیں، محرم الحرام کے دوران امن کی فضا کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں، امن کمیٹیوں اور علمائے کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے کہا کہ محرم الحرام کے حوالے سے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز فیلڈ میں متحرک رہیں، اپنے اضلاع میں فلیگ مارچ کریں اور تمام قواعد و ضوابط پر من وعن عمل کریں۔



