انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تنہائی بھی اللہ کی نعمت ہے

تحریر:راحیلہ رحمن(اسلام آباد)

تنہائی ایک کیفیت کا نام ہے جب کسی پرحاوی ہوتی ہے تو اس کے اندر طوفان برپا کر دیتی ہے۔بیک وقت مثبت ومنفی دونوں طرح کےرجحانات اپنے اندر سموئے ہوتی ہے اگر یہ مثبت ہو تو بندے کو رب سے ملا دیتی ہے اور اگر منفی ہو تو غلط راستوں کا راہی بنا دیتی ہے ،جہاں قلوب کو بصیرت کی روشنی سے سرفراز کرتی ہے وہیں مایوسی کے گہرے اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے۔

یہ وہ خاموش دریا ہے جس میں انسان اپنے خیالات کے ساتھ بہتا ہے کبھی یہ سکون کی نائو بن کر دل کو ساحل دیتی ہے تو کبھی یادوں کا طوفان بن کر روح کو ہلا دیتی ہے، شاعروں کا ہتھیار اور دنیا فتح کرنے کا عزم رکھنے والوں کے لیے نعمت سے کم نہیں ۔ معرفت الہٰی ہو رجوع الا اللہ تقوی ٰکا حصول یا قرب الٰہی سب تنہائی سے مشروط ہیں، لوگوں کے ہجوم میں تو انسان فرائض کی ادائیگی دلجمعی سے ادا کر لے تو غنیمت ہے لیکن تعلق باللہ مضبوط کرنا ہے تو اس کے لیے تنہائی درکار ہے۔

مگر آج کے جدید اور تیز رفتار دور کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھتا ہو،عمر کے کسی بھی حصے میں ہو چند انچ کا ڈبہ اپنے ہاتھوں میں لیے دنیا و مافیا سے بیگانہ اس سحر میں گرفتار ہے،یہی ہمہ وقت اس کا ساتھی ہے اب کسی کو بھی دوسرے انسان کی ضرورت نہیں بلکہ کسی کا ساتھ کچھ لمحات کے لیے اتفاقا میسر آجائے تو یہ بوجھ لگتا ہے اور انسان جلد از جلد اس تعلق سے رہا ہو کر اسی ڈبے میں قید ہونے کے لیے بے چین نظرآتا ہے۔

ایک وقت تھا جب محلے کے کسی ایک گھر میں ٹیلی فون ہوا کرتا تھا جس پر تمام محلے والوں کی کالز آیا کرتی تھیں کسی کا عزیز بیرون ملک ہوتا تو لوگ گھنٹوں پہلے کال کے انتظار میں آکر بیٹھ جاتے اور اس طرح لوگ اپس میں ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے ، اور مہمان نوازی کی برکات حاصل کرتے۔ ٹیلی ویژن کو اچھی چیز نہیں سمجھا جاتا مگر اس فتنے سے کہیں بہتر تھا کہ جس گھرمیں ہوتا تو بچے اور عورتیں اس گھر میں اپنے پسندیدہ ڈرامے کی قسط دیکھنے جمع ہو جاتے تھے مخصوص وقت کی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتے اور باقی وقت عبادات اور ضروری کاموں میں صرف کرتے طرح میل ملاقات اور محبت بڑھتی کوئی گھرانہ کسی کی آمد پر پریشان نہ ہوتا ،ماتھے پر تیوریاں نہ آتیں،ہر دروازہ دوسرے کیلئے کھلا ہوتا لیکن اب ہر چھوٹے بڑے نے اپنے کل دنیا اپنے ہاتھوں میں پکڑ رکھی ہے ٹیلی ویژن، ٹیلی فون ،گھڑی، کیلنڈر، کیلکولیٹر کتابیں غرض کے ہر رشتے کی جگہ اس موبائل نے لے لی ہے۔

اب انسان کو سوائے اس دلدل میں ڈوبنے کے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا باہر والوں سے تو درکنار گھر والوں کا ایک دوسرے سے تعلق ناپید ہوکر رہ گیا ہے،باجماعت نماز کے فوائد میں ایک فائدہ ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت بھی تھا مگر نماز ختم ہوتے ہی سب موبائل اسکرین پر نظریں جمائے ارد گرد سے بے نیاز اسطرح اپنے گھروں کی طرف چل رہے ہوتے ہیں گویا موبائل کے بٹن سے چلنے والے روبوٹ ہوں۔

پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق متعدد احادیث ہیں ان کا خیال رکھنا عزت کرنا اور مدد کرنا اور اچھا برتائو کرنا ایمان کا تقاضا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے اتنے حقوق بتائے کہ صحابہ کرام کو لگنے لگا تھا کہ کہیں جائیداد میں حصہ بھی پڑوسیوں کو نہ دے دیا جائے۔ مگر موجودہ حالات میں معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے، اب تو یہ بھی بمشکل پتہ ہوتا ہے کہ کس گھر میں کون مقیم ہے۔جب قومیں اپنی اقدار، تہذیب اور احکامات سے روگردانی کرتی ہیں تو تباہی کے دہانے تک پہنچ جاتی ہیں کسی کی خبر گیری کرنے کا ہمارے پاس وقت ہے ہے نہ ضرورت یہی لا تعلقی بہت سوں کے گلے کا پھندا بن گئی،ٹی وی آرٹسٹ عائشہ خان اور حمیرہ اصغر کی طرح نہ جانے کتنے لوگ اپنے ارد گرد والوں کی بے حسی کی نذر ہوئے ہوں گے جو منظر عام پر بھی نہ آسکے۔

اس لحاظ سے حالیہ دور تاریخ کو تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے جب بڑھتے ہوئے خطرات، قدرتی آفات ،اجتماعی اموات ، قتل و غارت گری، خودکشیوں کا بڑھتا رجحان، اور غیرت کے نام پر ہونے والے مظالم نے خطہ ارض پاک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔یہ سوچ درست لگتی ہے کہ ایک دوسرے سے کٹ کر ہر شخص نے خود کو تنہا کر لیا ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بھی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چند انچ کا یہ ڈبہ چند لمحوں کیلئے بھی انسان کو تنہا نہیں رہنے دیتا کہ بندہ اپنے خالق سے تعلق مضبوط کر سکے، اس لیے یہ حقیقت انسان کا ذہن تسلیم کرتا ہے کہ بظاہر اکیلا نظر آنے والا کوئی شخص بھی تنہا نہیں ہوتا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ نے صرف حیران ہی نہیں کیا بلکہ اس تسلیم شدہ حقیقت کی نفی بھی کر دی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں تنہائی سالانہ 8 لاکھ افراد کی جان لے رہی ہے۔دنیا بھر میں ہر6 میں سے 1 شخص تنہائی کا شکار ہے۔دنیا بھر میں ہر گھنٹہ 100 افراد کی موت تنہائی کے باعث وقوع پذیر ہو رہی ہے۔تنہا رہنا انسانی صحت کے لیے تمبا کو نوشی، موٹاپے اور فضائی آلودگی جتنا ہی خطرناک ہے۔تنہائی کا شکار افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ دگنا ہو گیا ہے۔ میل جول اور قریبی سماجی تعلقات رکھنے والے لوگ لمبی عمر پاتے ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک میں 24 فیصد جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں 11 فیصد لوگ تنہائی کا شکار ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی یہ رپورٹ سوچ کے نئے دریچے کھولتی ہے اس حقیقت پرمہر ثبت کرتی ہے کہ خواہ بذریعہ ٹیکنالوجی ساری دنیا انسان کی مٹھی میں ہو ،AI کتنے ہی مصنوعی وجودات بنا ڈالے، آسمان کی بلندیوں کو چھوئے یا زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپے اسرار ڈھونڈ لے مگر انسان کی انسان کے لیے فطری طلب کا خاتمہ کرنے سے قاصر ہے سماجی تعلق انسان کے ذہن و جسم پر جو ثمرات مرتب کرتا ہے اسکا اندازہ اس رپورٹ کے تناظر میں لگایا جا سکتا ہے۔ یہ رپورٹ بظاہر خوش آئند نہیں لیکن جس طرح خزاں رسیدہ شجر میں بہار آتے ہی نئی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں راکھ میں چھپی چنگاری سے ماحول کو روشن بھی تو کیا جاسکتا ہے اسلئے جو ڈپریشن مجھے اکثر ہونے لگتا تھا کہ ہم کس راہ پر چل نکلے ہیں جہاں تمام مقاصد کو پس پشت ڈال کر ہم صرف موبائل کی لغویات میں مصروف ہیں لحو الحدیث ہمارا مقصد بن چکی ہے ہمیں پتہ ہی نہیں ارد گرد کیا ہو رہا ہے، لوگ کس حال میں ہیں ،کس کو ہماری ضرورت ہے ،کس کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں ،کس کو ہماری مدد بھنورے سے نکال سکتی ہے، جب یہ ساری باتیں سوچنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں تو کائنات پر تدبر کرنے کے لیے وقت کہاں سے نصیب ہوگا، لیکن اب یہ سوچ امید کی کرن روشن کر چکی ہے کہ یہ سب وقتی اثرات ہیں جن کے چنگل میں ہماری نسل پھنسی ہوئی ہے۔

یہ فتنہ مشینوں کو اپنے اندر سموکر ان کی ضرورت کو تو ختم کر سکتا ہے مگر انسان کا انسان کیلئے فطری تقاضے کوختم کرنا اس کے بس کی بات نہیں انشائ اللہ ایک وقت ایسا ضرور ائے گا جب اس مصنوعی نشے سے وہ اچاٹ ہو کر ہم اپنے اصل کی طرف لوٹیں گے ،ہمارے بچے اس سے بیزار ہو کر اپنے مقصد کے جدوجہد کے لیے میدان عمل میں آئیں گے ،صد فیصد مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کے لیے قدم بڑھائیں گے جسے ابھی چند فیصد لوگ ادا کر رہے ہیں جس کے لیے ہمیں روئے زمین پر اتارا گیا اس وقت ہر بشر کو پتہ ہوگا کہ اس کے ارد گرد رہنے والے کس حال میں ہیں کوئی بے بس لاچار بھوکا اور بے یار و مددگار نہ رہے گا تب تک ہمیں اپنے اپنے طور پر اس وقت کو جلد لانے کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا ہے ہوگا۔

مجھے اس وقت کا شدت سے انتظار ہے جب ہم یہودیوں کی اس ایجاد کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے استعمال کریں گے، جب ہمارے بچے بچے کو پتہ ہوگا کہ ہمارا ابدی مقصد کیا ہے،اور دشمن کس کس طرح زندگیوں میں داخل ہو کر ہمیں الجھانےاور اپنے مقصد سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دشمن کی سازشوں اور ایجادات کو اسی کے خلاف استعمال کرکے دین و ملک کا دفاع اور اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں گے، وہ وقت دور نہیں جب مسلمان دنیا کی راہ چھوڑ کر دین کی شاہراہ پر چلنا اپنا نصب العین بنا لیں گے ،مجھے تو اس وقت کا شدت سے انتظار ہے کیا آپ کو بھی ہے؟۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button