غزہ:سکولوں، امدادی سنٹر پر بمباری،138فلسطینی شہید،452زخمی
صیہونی فوج کا خان یونس سے ہنگامی انخلا کا حکم،اسرائیل نے صورت حال کو مکمل تباہی میں بدل دیا :گوتریس، جنگ پرحماس کا ردعمل 24گھنٹوں میں معلوم ہو جائیگا:ٹرمپ
غزہ، واشنگٹن(ویب ڈیسک) غزہ پر اسرائیل کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، صیہونی فوج کھانا لینے کیلئے جمع ہونے والے فاقوں کا شکار فلسطینیوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ صیہونی طیاروں نے گزشتہ روز بھی 2سکولوں، خیمہ بستی، رہائشی عمارتوں اور ایک امدادی سنٹر پر تباہ کن بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 138فلسطینی شہید اور 452زخمی ہو گئے۔
فضائی حملوں میں الصبرہ گرلز سکول، الحریہ سکول اور خان یونس میں امدادی سنٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مزید کئی علاقوں سے فلسطینیوں کو نکل جانے کا حکم جاری کر دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی شدت سے دہشت زدہ ہیں ،غزہ کی زندگی کو باقی رکھنے والی آخری سانسیں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں کیونکہ قابض اسرائیل نے تمام گزرگاہیں بند کر دی ہیں۔
انہوں نے انسانی المیے پر شدید صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے خوراک، پانی اور ادویات کی بندش نے صورتحال کو مکمل انسانی تباہی میں بدل دیا ہے،انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ غزہ کے عوم کوفوری اور مسلسل انسانی امداد فراہم کی جائے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ غزہ کے لوگ جہنم سے گزر چکے ہیں، میں ان کیلئےسلامتی چاہتا ہوں، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غزہ کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہو ،یہی سب سے اہم بات ہے۔حماس کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز کو منظور کرنے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں آئندہ 24 گھنٹوں میں معلوم ہو جائے گا کہ ان کا جواب کیا ہے۔



