پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

کیا لائسنس دے دیں کہ اپنی بیویوں کومار دو؟:سپریم کورٹ

اویس نے سارہ کوقتل کیا ہے، یہ خودکشی کاکیس نہیں:عدالت کے ریمارکس، 18کلو700گرام چرس برآمدگی کیس،ملزم کی عمرقیدکے خلاف اپیل خارج

اسلام آباد:(ویب ڈیسک )سپریم کورٹ نے 11اگست 2014کو اسلام آباد میں قتل ہونے والی 20سالہ لڑکی سارہ کے کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے شوہر اویس کی سزاکے خلاف درخواست پرسماعت کی جسٹس ملک شہزاد کاکہنا تھا اویس نے سارہ کوقتل کیا ہے، بدقسمتی کی بات ہے کہ بیویوں کوقتل کردیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کوئی گواہ نہیں۔

، کیا لائسنس دے دیں کہ اپنی بیویوں کومار دو، بے چاری کو شادی کرکے لے گیا، مارنے کی 100وجوہات ہوتی ہیں، شادی کے بعد شک کرنا شروع کردیتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اﷲ کاکہنا تھا یہ خودکشی کاکیس نہیں جسٹس عرفان سعادت خان کاکہنا تھا کہ کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے، خودکشی ایسے نہیں ہوتی ،وہ تو گلے میں پھنداڈال کرہوتی ہے، مقتولہ کے جسم پر بہت سے زخم ہیں یاتوپہلے ہاتھا پائی ہوئی اور پھر گولی چلی۔

جسٹس عرفان سعادت خان کاکہنا تھا کچھ ایسی چیزیں ہیں جو میں پڑھنا بھی نہیں چاہتا، 2فٹ سے زائد فاصلے سے گولی ماری گئی جو مقتولہ خود نہیں مارسکتی، اسی وجہ سے ملزم کی پھانسی کی سزاکوعمر قید میں تبدیل کیا گیا۔ جسٹس اطہر من اﷲ کاکہنا تھا ملزم مانتا ہے پستول میری ہے۔ بینچ نے سماعت ملتو ی کردی۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے 18کلو700گرام چرس برآمدگی کیس میں ملزم ارشاد کی عمرقید کی سزاکے خلاف اپیل خارج کردی۔ بینچ نے کسی بھی کیس میں گواہ کے منحرف ہونے کے معاملہ پر وکلاء سے مزید معاونت طلب کرلی۔

جسٹس اطہر من اﷲ نے ریمارکس دیئے ہم نے ہرچیز کی وجوہات دیناہوتی ہیں۔ جسٹس ملک شہزاداحمد خان نے ریمارکس دیئے منشیات برآمدگی کے 90فیصد کیسوں میں گاڑی ملزم کے نام پر نہیں ہوتی،ہم نے توزندگی میں چرس نہیں دیکھی۔ جسٹس اطہر من اﷲ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے فوجداری کیسز کی سماعت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button