اسلام آباد:(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے فوجی اہلکاروں کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق دینے اور فیصلوں کی تحریری کاپی فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں قائم بینچ نے اہم آئینی و قانونی معاملے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس جمال مندوخیل نے موجودہ اپیلیٹ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئےقانون کے مطابق اپیل آرمی چیف یا ان کا نامزد کردہ افسر سنتا ہے،آرمی چیف فوج کا سربراہ ہوتا ہے، کیا بیٹے کے جرم کا فیصلہ باپ سے کروائیں گے؟۔
اگر سزا کے خلاف کوئی ٹریبونل نہیں بنایا جاتا تو ملزم سول فورم پر بھی جا سکتا ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت اپیل کا حق دینا ضروری ہے۔جسٹس عرفان سعادت نے ملزم کو الزامات کی تفصیلات نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ملزم کو یہ تو پتہ ہونا چاہیے کہ اسے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر الزام لگایا ہے تو اس کا مواد بھی دینا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب ملزم کو بنیاد ہی نہیں بتائی جائے گی تو اپیل میں اس کی لائن آف ڈیفنس کیا ہوگی؟۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی اپیل صرف ایک مشاہدے کی حد تک ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیاآرمی اہلکار سروس آف پاکستان کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا سات رکنی بینچ کے سابقہ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔عدالت نے عدالتی معاون اسلم خاکی کو تحریری موقف جمع کرانے کی ہدایت کی ۔
واضح رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے ملزمان کو فیصلوں کی کاپیاں فراہم کرنے کے لیے چھ ماہ میں قانون میں ترامیم کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع نے 2008 میں سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے ہدایات طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔



