انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

امن، طاقت اور قیادت کا امتحان

دنیا کے نقشے پر ایک بڑی عمارت کھڑی ہے، جس کے اندر سفارت کار بیٹھے ہیں، کانوں پر ہیڈفون ہیں اور سامنے بند مائیک رکھے ہیں۔ باہر دنیا میں جنگیں جاری ہیں، شہر جل رہے ہیں، معصوم بچوں کے بستے خون سے سرخ ہو رہے ہیں، مگر اندر سے صرف ایک ہی لفظ گونجتا ہے: “Condemn”۔ یہ عمارت United Nations کی علامت ہے، وہ ادارہ جسے انسانیت نے امن کے تحفظ کے لیے قائم کیا تھا۔
آج دنیا کی صورتحال ایسی ہے جیسے انسانیت ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو۔ چند طاقتور ممالک کے پاس ایسی مہلک ٹیکنالوجی موجود ہے جو زمین کو کئی بار ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان طاقتوں میں سے ایک نے نہ صرف یہ ہتھیار بنائے بلکہ انہیں عملی طور پر استعمال بھی کیا، اور وہ ملک United States ہے۔
جب طاقت احتساب سے آزاد ہو جائے تو وہ دفاع سے آگے بڑھ کر جارحیت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طاقت کی سیاست نے دنیا کو بارہا خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر Iran، Lebanon اور دیگر خطوں میں حالات نے دنیا کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، اور بہت سے تجزیہ کار اس میں Israel کی پالیسیوں کو بھی اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری انسانیت ایک ایسے مریض کی طرح ہو جو وینٹی لیٹر پر آخری سانسوں کے قریب ہو۔ اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا تو شاید انسانیت کو واپس زندگی کی طرف لانا ممکن نہ رہتا۔
مگر اسی خطرناک ماحول میں کچھ کوششیں ایسی بھی سامنے آئیں جنہوں نے جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی۔ ان کوششوں میں Pakistan کا کردار نمایاں رہا۔ پاکستان اگر چاہتا تو اس کشیدگی کو اپنے مفاد میں استعمال کر سکتا تھا، خلیجی ممالک خصوصاً Saudi Arabia کو جنگی ماحول میں دھکیل کر معاشی فائدہ حاصل کر سکتا تھا، مگر اس کے برعکس اس نے کوشش کی کہ خطہ مزید تباہی سے بچ جائے۔
پاکستان نے سفارتی راستے اختیار کیے اور کوشش کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پھیلنے کے بجائے اسے روکا جائے، کیونکہ ایسی جنگ صرف ایک خطے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔
اسی نازک دور میں پاکستان کی قیادت کے کردار پر عالمی سطح پر گفتگو سامنے آئی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر Field Marshal Syed Asim Munir کی قیادت میں کیے گئے اقدامات اور سفارتی رابطوں کو ایک اہم اور جرات مندانہ کوشش کے طور پر دیکھا گیا، جبکہ وزیر اعظم محمد شہبازشریف کی حکومت نے بھی کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
اسی تناظر میں ایک اہم لمحہ وہ تھا جب مشکل ترین حالات میں عسکری قیادت نے ایران کا دورہ کیا۔ ایسے وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی اور عالمی دباؤ کا شکار تھا، کسی اعلیٰ عسکری شخصیت کا اس ماحول میں جانا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ یہ دورہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک خطرناک مگر ذمہ دارانہ قدم تھا۔
یہ سفر اس مقصد کے لیے تھا کہ کشیدگی کو کم کیا جائے، رابطے برقرار رہیں اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ ایسے حالات میں یہ اقدام ایک جرات مندانہ کوشش کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ اس وقت ایران اور United States کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے محسوس کیا کہ امن صرف تقاریر سے نہیں بلکہ مشکل راستوں پر چل کر حاصل کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ خوف کے ماحول میں بھی امن کا راستہ تلاش کرے۔
اگر دنیا واقعی امن کی قدر کرتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کوششوں کو کیوں نہ سراہا جائے جنہوں نے جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا؟
اسی تناظر میں Nobel Peace Prize جیسے عالمی اعزاز کے بارے میں یہ رائے سامنے آتی ہے کہ اسے صرف روایتی سیاست تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان عملی کوششوں کو بھی تسلیم کیا جائے جنہوں نے دنیا کو تباہی سے بچانے کی کوشش کی۔
آخر میں اصل حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا وینٹی لیٹر پر ہو، تو اسے صرف الفاظ نہیں بلکہ وہ فیصلے بچاتے ہیں جو جرأت، ذمہ داری اور انسانیت کے احساس کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button