لاہور:(انٹرویو/ایازخان)سی این این اردوڈاٹ کام نے ایران کے حوالے سے ناظرین کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھنے کیلئے ایرانی صحافی جون حسین سے انٹرویو کیا تاکہ ایران سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
ایک طرف دنیا بھر کے میڈیا پر پاکستان کی کامیاب ڈپلومیسی کے چرچے جاری ہیں کہ کس طرح پاکستان کی موثر ڈپلومیٹک کوششوں سے ایک مثبت فضا قائم ہوئی ہے اور چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں آبنائے ہرمز بھی کھل گئی لیکن پھر اگلے ہی روزمنظر بدل گیا ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے اور دو جہازوں پر فائرنگ کی گئی ہےاس صورتحال کو سمجھنے کے لیے سی این این اردوڈاٹ کام نے تہران میں موجود سینئر جرنلسٹ جون حسین سے رابطہ کیا۔
جون حسین، بہت بہت شکریہ آپ کا ہمارے پروگرام میں شامل ہونے کے لیے۔
جون حسین: بہت شکریہ ایاز صاحب مجھے بلانے کا۔
ایاز خان: جون صاحب، کل تک تو لگ رہا تھا کہ صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ لبنان میں جنگ بندی ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھول کر ایک ماسٹر سٹروک کھیلا، اور ہم توقع کر رہے تھے کہ اگلا پڑاؤ اسلام آباد میں مذاکرات کا ہوگا۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی؟ وہاں پر اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
جون حسین: دیکھیے ایاز صاحب، شروع سے ہی صدر ٹرمپ پبلک کانفیڈنس مینٹین کرنے اور خود کو راضی کرنے کے لیے بار بار جھوٹے ٹویٹس کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران نے نیوکلیئر ہتھیار تیار کر لیے ہیں اور وہ انہیں دے دے گا۔ ایران نے سٹریٹ آف ہرمز کو مستقل طور پر کھول دیا ہے اور کوئی کیش یا مالی لین دین نہیں ہوگا۔ ان جھوٹوں کو دیکھتے ہوئے ایرانیوں نے ابتدائی طور پر تھوڑا برداشت کیا کیونکہ ایک اہم شخصیت نے بھی ایک رکن پارلیمنٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ ٹرمپ یہ صرف اپنی عوام کو دکھانے کے لیے کر رہے ہیں، ان کی کشتیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
لیکن جب ٹینشن بڑھی اور امریکہ نے بلاکیڈ بڑھانا شروع کیا تو ایرانیوں نے وارننگ دی کہ اگر ایسا جاری رہا تو ہم سٹریٹ آف ہرمز بند کر دیں گے۔ کل رات ٹرمپ کے جھوٹے ٹویٹس کے بعد ایران نے یہ وارننگ عملی جامہ پہنایا اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا۔جون حسین نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے چیف اور پولیٹیکل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ خاتم الانبیاء کا بیان بھی آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو وارن کیا گیا تھا، آپ نہیں سدھرے تو اب یہ بند ہو گیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
ایاز خان: کیا یہ صرف ٹرمپ کے مسلسل جھوٹے ٹویٹس کا ردعمل ہے؟ کیا ایرانی قیادت کو لگا کہ ٹرمپ سارا کریڈٹ لے رہے ہیں؟
جون حسین: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے جو نیول بلاکیڈ لگایا تھا وہ پہلے سے ایک مسئلہ تھا۔ آپ کشتیوں کو نہیں روک رہے تھے مگر آپ کی موجودگی تھی۔ جب امریکہ کی بے عزتی ہونا شروع ہوئی تو اس نے درجہ حرارت بڑھانا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ کشتیوں کو روکنا شروع کر دیا۔ اس لیے ایران نے اپنی کشتیوں کی حرکت آگے بڑھا دی۔ کیونکہ سٹریٹ آف ہرمز تقریباً کھلا ہوا تھا، ایران یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ امریکہ اپنی کشتیاں لے کر اگریسیو پوزیشن میں آ جائے۔
ایاز خان : آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے ایک تحریری پیغام آیا ہے۔ لوگ بہت فکرمند ہیں۔ فارن میڈیا میں بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کیسی ہے؟ آخری بار ان کی انجری کی خبر آئی تھی، اس کے بعد ان کی کوئی ظاہری تصویر یا ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ کیا آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں؟
جون حسین: آفیشلز نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران میں ہی ہیں اور فیصلے لے رہے ہیں۔ مذاکرات کے دوران نبیویان صاحب (نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیف) نے بتایا کہ پہلا ڈرافٹ قالیباف سے گزر کر خامنہ ای تک پہنچا اور اس میں دو بار تبادلہ خیال ہوا۔ ابتدائی 20 پوائنٹس والا ڈرافٹ 14 پوائنٹس پر آیا اور آخر میں 10 پوائنٹس کا پروپوزل سامنے آیا۔ خامنہ ای پوری فیصلہ سازی میں مکمل طور پر ملوث ہیں۔ ان کی جو سیکریسی برقرار رکھی جا رہی ہے وہ بہت اچھی بات ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ 10 امریکی سائنسدان یا تو راکٹ سائنسدان ہیں یا نیوکلیئر سائنسدان، وہ یا تو لاپتہ ہیں یا مارے جا چکے ہیں۔ ان میں مونیکا رضا شامل ہیں جو ناسا کی پروپلشن ٹیکنالوجی میں راکٹ انجن پر کام کر رہی تھیں۔ ایک ریٹائرڈ میجر جنرل بھی لاپتہ ہیں جو لاس ایلموس فیسیلٹی (مین ہٹن پروجیکٹ والی) سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ فیسیلٹی اب بھی نیوکلیئر ویپنز کی 16 ریسرچ فیسیلٹیز میں سب سے اہم شمار ہوتی ہے۔ ٹرمپ سے میڈیا اب یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ یہ سائنسدان کہاں گئے؟ میرے خیال میں یہ زیادہ دلچسپ مسئلہ ہے۔
ایاز خان: یورپ کے تقریباً 48 ممالک اکٹھے ہو رہے تھے کہ آبنائے ہرمز کو کیسے کھلوایا جائے۔ ایران نے انہیں خوشخبری دے دی۔ گلف ممالک کی روزی روٹی بھی اسی راستے سے ہے۔ کیا ایران کی طرف سے کوئی مالی آفر یا ڈیل کی گئی تھی؟
جون حسین: ایران کو اس بلاکیڈ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ 27-28 فروری تک سٹریٹ آف ہرمز تقریباً کھلا ہوا تھا، کوئی پابندی نہیں تھی۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار صرف امریکہ ہے۔
خلیج کے برادر اسلامی ممالک نے امریکہ کو اڈے دیئے ،امریکی فوجیوں کو چھپایا، حماس اور رسل خما سے میزائلیں بھیجیں، کویت کے بوبیان پورٹ سے بھی۔ انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے جہازوں کو تیل پلایا۔ یہاں معصوم بچے مر رہے ہیں، یہ کام یورپ نے بھی نہیں کیا۔ اس لیے ان کے لیے اس وقت کوئی ہمدردی نہیں رکھی جا سکتی۔
دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کا ذمہ دار صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ ایران سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی قانونی نیول باؤنڈری (12 نیوٹیکل مائلز) سے پیچھے ہٹ جائے؟ ایران ہر وہ اقدام اٹھائے گا جو اس کی نیشنل سیکیورٹی اور سروائیول کے لیے ضروری ہو۔ آبنائے ہرمز کھولنا اس وقت سرنڈر کے مترادف ہوگا۔
ایاز خان: ایران نے بھی بلاکیڈ کر دیا ہے۔ ایرانی تیل گزر نہیں پا رہا۔ ایران کی اکانومی اسے کتنی دیر تک برداشت کر سکے گی؟
جون حسین: دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاکیڈ کے باوجود ایران نے کل تک 9 ملین بیرل تیل بیچا۔ ایران کی اپنی کشتیاں جا رہی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کی بھی کشتیاں پہنچیں پابندیوں کے باوجود کشتیاں چل رہی ہیں۔
ایران جنگ میں ہے لوگ اکانومی، کرنسی یا کھانے کی فکر نہیں کر رہے صرف امریکہ کو شکست دینے کی فکر ہے۔ ایک ایرانی نے مجھ سے کہا کہ نیوکلیئر بم سے بڑی چیز امریکہ نے ہم پر کی ہے ہمارے سپریم لیڈر کو شہید کرنا۔ ایرانی عوام کسی بھی قیمت پر اس جنگ کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایاز خان: ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر یورینیم لے کر جائیں گے۔ ایران کی طرف سے کیا موقف ہے؟ کیا مذاکرات میں 5 سال کی پابندی یا 20 سال کی ڈیمانڈ پر بات ہوئی؟ کیا 200 بلین ڈالر کی کوئی آفر ہوئی؟
جون حسین: ایران یورینیم کسی بھی ملک کو نہیں دے گا۔قالیباف اور عباس عراقچی نے واضح کہہ دیا ہے کہ یہ دھرتی کی طرح مقدس ہے۔ اینرچمنٹ کو کم کیا جا سکتا ہے، ڈائلیوشن پر بات ہو سکتی ہے، لیکن باہر منتقل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پیسوں کا معاملہ نیوکلیئر سے الگ ہے۔ پہلے ہی 10 پوائنٹ فریم ورک پر بات طے ہو چکی تھی۔ لبنان اس کا حصہ تھا۔ ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ ایران بہت پیسے کما لے گا، ری کنسٹرکشن شروع کر دو۔ ایران کہتا ہے کہ امریکہ جنگ میں ہار چکا ہے، اب مذاکرات کی میز پر وہ زیادہ مطالبات نہیں کر سکتا۔
تاہم فیس سیونگ کے لیے امریکہ کو کچھ نیوکلیئر حوالے سے دکھانا پڑ سکتا ہے۔ اینرچمنٹ کی کیپنگ یا 10 سال کے لیے محدود کرنے پر بات ہو سکتی ہے، لیکن اینرچڈ یورینیم ٹرانسفر نہیں ہوگا۔ فروزن ایسٹس کی ریلیز پر بات ہو سکتی ہے۔
ایاز خان: کیا سفارتی کوششیں ضائع ہو رہی ہیں؟ کب تک مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو سکتا ہے؟
جون حسین: سفارتی کوششیں ضائع نہیں ہوئیں انہی کی وجہ سے سیز فائر ہوا ہے۔ پہلی ٹاکس اسلام آباد میں فیلیئر نہیں تھی۔ جنگ بندی اسی کا نتیجہ ہے۔ دوسری ٹاکس ہو یا نہ ہو، ناراضگی نہیں ہونی چاہیے۔
20 ارب ڈالر کے فروزن ایسٹس ریلیز کے عمل میں ہیں۔ لبنان کی جنگ بندی ایک پری کنڈیشن تھی جو مکمل ہو چکی۔ دوسری فروزن ایسٹس کی ہے۔ ٹرمپ نے سرپرائز کا ذکر کیا ہے، شاید قطر میں پھنسے 6 ارب ڈالر کی بات ہو۔
اب فوکس یہ ہے کہ دونوں ممالک بلاکیڈ ختم کریں۔ مذاکرات آگے بڑھیں گے۔ انشاءاللہ۔
ایاز خان: عوام کی آواز کیسے پہنچ رہی ہے؟ انٹرنیٹ کی صورتحال کیا ہے؟
جون حسین: میں اپنے یوٹیوب اور فیس بک پر باقاعدہ لائیو جاتا ہوں۔ رات 8 بجے سے صبح 4 بجے تک شہروں میں رش دیکھ کر یقین نہیں آتا۔ ایرانیوں کے پاس لوکل انٹرنیٹ ہے۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس، روبیکا، ایتا، کمیونیکیشن ایپس سب چل رہی ہیں۔ گلوبل انٹرنیٹ کاٹا ہوا ہے جیسے چین میں ہوتا ہے۔
یہ موساد اور سی آئی اے کے ہینڈلرز کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جب گلوبل انٹرنیٹ کھلے گا تو وہ اپنے نیٹ ورک ایکٹیویٹ کر دیں گے۔ ایرانی عوام عموماً ٹوئٹر نہیں، انسٹاگرام استعمال کرتی ہے۔ فارسی ویڈیوز بہت اچھی آ رہی ہیں۔
مغربی سوشل میڈیا معاشروں میں بہت گندگی اور پروپیگنڈا پھیلاتا ہے۔ پاکستان میں بھی لوکل انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور لوکل سوشل میڈیا ایپس ہونی چاہییں۔ ہر ملک کو اپنا کلچرل، سوشل اور آئیڈیالوجیکل سپیس ہونا چاہیے جو ویسٹرن پروپیگنڈا مسلسل روکتا ہے۔
ایاز خان: بہت بہت شکریہ جون حسین صاحب آپ نے وقت دیا۔



