پاکستان میں آج کل سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں بڑی شدومد کے ساتھ یہ بحث ہو رہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر بہت دباؤ ہے اور پاکستان شاید کسی دباو کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے۔ ہماری مجموعی نفسیات ہے کہ ہم نیگٹو بات کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں اس میں تجسّس بھی زیادہ ہوتا ہے اور ہماری عادت بھی چسکولی ہےہم مثبت بات کی طرف دھیان کم دیتے ہیں حکمت کی بات سننا گوارا نہیں کرتے جبکہ بےتکی باتوں کے محل کھڑے کر دیتے ہیں۔
نارمل حالات میں بھی لوگ کسی طور پر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات سننا گوارا نہیں کرتے چہ جائے کہ آجکل کے جنگی حالات میں ایسی بات کی جائے۔یہ بیوقوفی ہے ابھی تازہ تازہ ایران اسرائیل جنگ میں سیز فائر ہوا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو کربلا بنا رکھا ہے 50 ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں ایسے ماحول میں تو مسلم امہ کا کوئی ملک یہ رسک نہیں لے سکتا۔
اسرائیل کی حمایت میں ایک لفظ نہیں بول سکتا مسلمان ممالک تو کجا امریکہ سمیت مغربی ملکوں میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور یہودی خود نتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان سے یہ توقع کرنا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا، انتہائی فضول بات ہے۔ البتہ یہ پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے فوری پاکستان کے اصولی موقف کو دہرانا چاہیے۔ ایسے حالات میں جبکہ امریکہ خود حالات نارملائز کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایسے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا ممکن ہی نہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر انھیں وہ تحریری خط بھی پیش کیا جس میں اسرائیل امریکی صدر کو ایران اسرائیل جنگ بندی کروانے پر امن کے نوبل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے نتن یاہو نے کہا کہ وہ یہودیوں اور اسرائیلیوں کی جانب سے ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ وہ ایک کے بعد دوسرے ملک اور خطے میں امن قائم کر رہے ہیں۔
لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب 2026ء کے نوبل امن ایوارڈ کے لیے باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں وہ بیسوں دفعہ اس بات کا کریڈٹ لے چکے ہیں کہ انھوں نے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو رکوایا ہے انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کروائی، سربیا اور کوسوو،روانڈا اور کانگو سمیت جو جو لڑ رہے تھے وہاں امن کے لیے اقدامات کیے۔ وہ روس اور یوکرائن کی جنگ بند کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہم نے اسرائیل اور ایران میں سیز فائر کروایا‘ اب ایران کے ساتھ اسی ہفتے مذاکرات کرنے جا رہے ہیں ٹرمپ نے ایران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم لوگ ہیں، ہم ایران سے پابندیاں اٹھا کر اسے موقع دینا چاہ رہے ہیں ان کے پاس تیل کی دولت ہے ایران بھی امن چاہتا ہے اور اب اسرائیل ایران جنگ بھی ختم ہو چکی ہے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں اٹھا لیں گے۔
امریکہ حماس اور اسرائیل کے درمیان بھی صلح کروانا چاہ رہا ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ امریکہ امن کے ادھورے مشن کو برقرار رکھ کر دنیا سے کچھ منوانا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے مابین جو سیز فائر ہوا ہے وہ زبانی کلامی ٹویٹ کے ذریعے سیز فائر ہوا ہے اور بھارت تاحال یہ کہہ رہا ہے کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے۔
امریکہ ابھی تک بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت نت نئے دفاعی ہتھیار خرید رہا ہے۔ اسی طرح ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی بھی ٹرمپ آرڈر کے ذریعے ہوئی ہے اور دونوں فریقین کے مابین کوئی معاہدہ طے نہیں پایا نہ ہی امریکہ کی ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا ہے البتہ امریکہ ایران کو تسلسل کے ساتھ سنہری خواب دکھا رہا ہے کہ میرے ساتھ نیوکلیر معاہدہ کر لو تو ساری دنیا کے دروازے آپ پر کھل جائیں گے۔
ایران کسی بھی گفتگو سے قبل اس بات کی گارنٹی مانگ رہا ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ایران پر کوئی حملہ نہیں ہو گا ٹرمپ اگر واقعی امن کا نوبل ایوارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پائیدار امن کی طرف آئیں کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ کے حل کے بغیر دنیا میں پائیدار امن ممکن نہیں اس لیے ان دونوں مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تو پوری دنیا ٹرمپ کو امن ایوارڈ کے لیے نامزد کر دے گی بلکہ ٹرمپ تاریخ کے سنہری باب کے طور پر جانے جائیں گے۔



