کیلیفورنیاآتشزدگی سے غزہ، ہیروشیما،ناگاساکی کا منظر پیش کرنے لگا، ہلاکتوں میں اضافہ
بائیڈن کا 100فیصد اخرجات برداشت کرنے کا اعلان ،گورنر مستعفی ہوں:ٹرمپ،امدادی کارروائیوں کیلئے قیدی بھی طلب
واشنگٹن :(ویب ڈیسک ) کیلیفورنیا میں آتشزدگی سے جاری ہیں ،کیلیفورنیا غزہ،ہیروشیما اورناگا ساکی کا منظر پیش کرنے لگا ہے،امدادی کارروائیوں کیلئے جیلوں سے قیدی بھی طلب کرلئے گئے ہیں جبکہ متاثرہ علاقے آفت زدہ قراردیئے گئے ہیں،
امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ لگنے سے ہونے والی تباہی پر اگلے چھ ماہ تک 100 فیصد اخراجات اٹھانے کا اعلان کردیا، انہوں نے آتشزدگی کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ قرار دیا ہے، آتشزدگی پر بریفنگ کے دوران صدر جو بائیڈن نے کہا کہ فنڈنگ کی رقم سے متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹایا جائے گا اور عارضی پناہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔
لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ کئی ہزار ایکڑ رقبے تک پھیل گئی جبکہ اب تک 10 ہزار سے زائد گھر جل چکے ہیں، آگ سے اب تک 7 افراد کی اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
لاس اینجلس کے شیرف رابرٹ لونا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آگ سے متاثرعلاقے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان علاقوں پر ایٹم بم گرایا گیا ہو مجھے آگ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ لاس اینجلس پورا مٹ گیا، آگ پر زرہ برابر بھی قابو نہیں پایا گیا،بیانواشنگٹن(این این آئی) نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک جل کر راکھ ہوگیا جس کے زمہ دار ڈیموکریٹ گورنر نیوسم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس پورا مٹ گیا، تین دن میں آگ پر زرہ برابر بھی قابو نہیں پایا گیا، گورنر اور میئر دونوں نااہل ہیں۔
دریں اثنا امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی خوفناک آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کو کیلیفورنیا کے جیل نظام سے بھی مدد مل رہی ہے۔
لاس اینجلس میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 14 ہزار فائر فائٹر کام کررہے ہیں جن میں تقریباً 400 قیدی بھی شامل ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق فی الحال ریاست کیلیفورنیا کی فائر فائٹنگ فورس کا تقریباً 30 فیصد حصہ قیدیوں پر مشتمل ہے۔
کیلیفورنیا میں آگ بجھانے کے لیے قیدیوں کا استعمال پہلی بار نہیں کیا جارہا بلکہ ریاست میں 1915 سے ہی آگ بجھانے کے لیے قیدیوں کی مدد حاصل کی جاتی رہی ہے۔
ایک امریکی جریدے کے مطابق قیدیوں کو فائر فائٹنگ کے طریقوں کی مناسب تربیت دینے کے لیے 1946 میں ایک فائر کیمپ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔
قیدیوں سے بطور فائر فائٹر کام لینے کا پروگرام اتنا ہی رضاکارانہ ہے جتنا کہ ایک جیلر اور ایک قیدی کے درمیان کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قیدی کو فائر فائٹنگ ٹیموں میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاتا اور جو بھی بھی قیدی اس میں شامل ہوتا ہے وہ اپنی مرضی سے ایسا کرتا ہے۔



