جشن،تقریبات،مبارکبادیں،اعزازات،ترقیاں،مشہوریاں کافی ہوگئیں،طاقت میں بھی اضافہ ہوگیا،ساکھ بھی بحال ہوگئی،لمبی اننگز کھیلنےکا موقع بھی مل گیا۔۔۔۔ بڑا ہوگیا،بس کریں،چلو آئیں !! اب بھارت کے ساتھ معیشت ،قانون کی حکمرانی اورتعلیم کا مقابلہ شروع کریں۔۔۔۔ جب ریاستیں ناکام اورقومیں زوال پزیر ہوتی ہیں تو کیا ہوتا ہے ؟ جو دیکھ رہے ہیں ،یہی کچھ ہوتا ہے، ابن خلدون نے سات سو سال قبل بتا دیا تھا۔۔۔۔ رانا ثناءاللہ کی بات سے الماس بوبی یاد آگئی ،حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے، یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے۔۔۔
تازہ ترین رپورٹ ،بھارت نے خود کو دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کردیا، آئی ایم ایف کی اپریل 2025 کی ’’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘‘ رپورٹ کے مطابق، انڈیا کی جی ڈی پی 4.187 کھرب ڈالر تک جا پہنچی ہے، جب کہ جاپان کی معیشت 4.186 کھرب ڈالر پر ہے، جس سے انڈیا نے معمولی فرق سے چوتھی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو انڈیا 2028 تک جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن سکتا ہے، جس کی جی ڈی پی 5.5 کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، بھارت کی فی کس آمدنی بھی قابل ذکر حد تک بڑھی ہے، جو 2013-14 میں 1,438 ڈالر تھی اور 2025 میں 2,880 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔۔۔پاکستان کی معیشت کی طرف آئیں،جی ڈی پی صرف340 سے370ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے،زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کے قرضوں،چین اور سعودی عرب کی ادائیگیوں کو رول اوور کرنے کے بعد بھی9ارب ڈالر کے قریب ہیں،فی کس آمدنی1600ڈالر ہے۔
تمام اعدادشمار کے مطابق دنیا بھر میں بھارت چوتھے اورپاکستان47ویں نمبر پرہے۔تعلیم کی طرف آئیں،بھارت میں شرح خواندگی80اعشاریہ 90 فیصداور پاکستان میں شرح خواندگی62فیصد ہے،قانون کی حکمرانی کا جائزہ لیتے ہیں،193ممالک کی فہرست میں پاکستان منفی زیرو اعشاریہ 86 کے ساتھ149 ویں نمبر ہے اور بھارت زیرو اعشاریہ 19 پوائنٹ کے ساتھ81 ویں نمبر پر ہے۔۔۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل صاحب !! بہت جشن ہوگیا،دنیا بھر میں بلے بلے ہوگئی،اللہ تعالیٰ نے عزت رکھ لی،چلو اب اصل کام پرتوجہ دیں،گھر میں اسلحہ ہو لیکن روٹی نہ ہو،دشمن اسلحہ بھی اٹھاکر لے جاتے ہیں اور جن ریاستوں میں رول آف لا ء نہ ہو،ان کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے ،سیاست،سیاست کھیلنا بند کریں،ملک اورقوم کا مستقبل سوچیں۔۔۔
ابن خلدون نے سات سو سال قبل جو کہا اس پر غور کیا جانا چاہیے،یوں لگ رہا جیسے ہمارے بارے میں کہا ہو، جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں۔
حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں ،مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے،بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں ،بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے ’’ہجرت‘‘، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے۔
تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔۔۔نجات کا راستہ۔۔۔۔؟پچھلے تین سالوں میں تقریبا ً 19لاکھ افراد پاکستان چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ہاں !! وہ الماس بوبی والی بات،رانا ثناءاللہ نے کہا وہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں مانتے،ویسے رانا صاحب سے توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے،وہ کچھ بھی بول سکتے ہیں،کچھ بھی کرسکتے ہیں، دوشفٹوں والا اور جرنیلوں کی ترقی والا بیان آپ پہلے سن ہی چکے ہیں،ان کےنزدیک تو نواز شریف ہی قائد اعظم،نواز شریف ہی ایٹم بم اور میزائل تیار کرنے والا سائنسدان،نواز شریف ہی پاکستان کو ترقی کی راستے پر لےجانے والا معیشت دان،نواز شریف ہی نیلسن منڈیلا ہیں۔
رانا ثنا کے نہ ماننے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی عزت میں کیا کمی آئی ؟مجھے یاد ہےالماس بوبی جب شی میل کی چیئرمین منتخب ہوئی،حامد میر نے انہیں سوا ل کیا،الماس صاحبہ !! بہت ساری شی میلز آپکو چیئرمین نہیں مان رہیں،اس پر آپ کیا کہیں گی ؟ الماس بوبی بولیں ،میر صاحب !!مجھے نہیں مانتی تو کیا فرق پڑا۔۔۔ ؟ یہاں تو کچھ لوگ رب کو رب بھی نہیں مانتے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



