داعش نامی کسی منظم گروہ کا بلوچستان میں کوئی وجود نہیں۔ یہ صرف را کا نیا ماسک ہے تاکہ BLA/BLF اور BYC کی شکست کا داغ مٹایا جا سکے اور عالمی توجہ پاکستان کے خلاف موڑی جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے 2016 میں کلبھوشن یادو کے نیٹ ورک کو گوجرات سری لنکا سمگلنگ رُوٹ کے پردے میں چھپایا گیا تھا، آج داعش خراسان بھی ایک جعلی پردہ ہے جس کے پیچھے وہی پرانی آوازیں ہیں، وہی ہتھیار ہیں اور وہی ناپاک مقاصد۔
فتنۂ الہندوستان (BLA/BLF) اور اُن کے سیاسی چہرے BYC کی پے در پے ناکامیوں نے را کو ایک نئی حکمتِ عملی ترتیب دینے پر مجبور کیا۔ اب اسی شکست خوردہ نیٹ ورک کو داعش خراسان کے نام سے ری-برانڈ کر کے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ خانہ جنگی کا تاثر قائم رکھا جائے اور پاکستان کی عسکری و خفیہ ایجنسیوں پر انگلی اُٹھائی جا سکے۔بلوچستان میں آپریشن نے خضدار، آواران اور گوادر میں BLA/BLF کے بنیادی ڈھانچے کو توڑ کر رکھ دیا۔ BYC کی شہری شیلڈ حکمتِ عملی بھی بری طرح بے نقاب ہوئی افغان بارڈر سے کٹتی سپلائی لائن، چند ماہ میں 42 سے زائد اہم کمانڈروں کی ہلاکت اور فنڈنگ چینلز کا منجمد ہونا اس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔

اسی طرح کا ایک کردار وشال کانیٹ ہے عرف فاطمہ عرف بلوچستان فیکٹس۔جسے مارچ 2025 میں آئی ایس آئی اور ایف آئی اے سائبر ونگ نے مشترکہ طور پر وشال کا نیٹ ورک میپ کیا۔وشال کا کمرو گاؤں تحصیل سنگلا، ضلع کنور ریاست ہماچل پردیش پِن کوڈ 172106ہے ۔وشال کانیٹ، جس کا اصل نام وشال چندر کانیٹ ہے، را (RAW) کی میڈیا وارفیئر کا تربیت یافتہ ایجنٹ ہے، جو فاطمہ اور بلوچستان فیکٹس جیسے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ وار کا اہم کردار ہے۔
وشال 12 جولائی 1994 کو بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے گاؤں کمرُو (سنگلا، ضلع کنور) میں پیدا ہوا۔ اس نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے ماس کمیونی کیشن میں ڈگری حاصل کی اور مختلف زبانوں انگریزی، پنجابی، بلوچی، فارسی اور گجراتی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے متعدد سرٹیفکیٹ کورسز کیے۔وشال نے 2017 میں را کے انفارمیشن وارفیئر ٹاسک گروپ (IWTG) میں شمولیت اختیار کی، جہاں اسے پاکستان مخالف ڈیجیٹل پروپیگنڈہ مہمات کے لیے چُنا گیا۔اس کے خاندان کا فوجی پس منظر اس کے انتخاب میں مددگار ثابت ہوا۔
اس کے والد ریٹائرڈ صوبیدار میجر (14 ڈوگرہ رجمنٹ)، بھائی بی ایس ایف میں ڈپٹی کمانڈنٹ، بہن سی آر پی ایف میں ٹرینی آفیسر، جبکہ والدہ مقامی اسکول میں معلمہ ہیں۔ خاندانی ریکارڈ ہماچل کے پنشن بورڈ لاگز میں بھی درج ہے۔اس وقت وشال نئی دہلی میں واقع مکان نمبر 29-B، راج بھون روڈ پر رہائش پذیر ہے، جو خاص طور پر را کے میڈیا اینالسٹس کے لیے مختص ایک لیڈ ریزیڈنشل کمپلیکس ہے۔ اس کا نام انٹیلی جنس فائل IF-227/BLN-RAW-25 اور MIWD Facility Ledger 03-24 میں بھی درج ہے، جبکہ PCVC Threat Brief 07-25 میں اس کے عرفی نام اور سوشل میڈیا کردار کو باقاعدہ خطرے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔وشال کانیٹ کا را (RAW) سے تعلق محض ایک بھرتی کی روداد نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند ذہنی جنگ کا آغاز تھا، جو 2016 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک سوشل میڈیا ورکشاپ کے دوران ہوا۔
اس ورکشاپ میں وشال کی "ٹیکسٹ مینپولیشن” یعنی مواد کو مخصوص بیانیے میں ڈھالنے کی مہارت پر را کے ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ کے افسران کی نظر پڑی۔ اگلے ہی سال، 2017 میں، اسے “آپریشن ہنی بَج” کے تحت MIWD (میڈیا انفارمیشن وارفئیر ڈویژن) میں شامل کر لیا گیا جہاں اس نے چھ ماہ کی نفسیاتی اثر اندازی (Psy-Impact) کی تربیت حاصل کی۔2018 میں Project Saffron Echo کے تحت اسے بلوچستان میں علیحدگی پسند بیانیے کو سوشل میڈیا پر فروغ دینے کا ٹاسک ملا۔ اس مشن کے تحت وشال نے 2020 میں “فاطمہ” کے نام سے پہلا ٹرول اکاؤنٹ لانچ کیا، جس کا بنیادی ہدف پاکستان کے قومی بیانیے کو کمزور کرنا اور بلوچ نوجوانوں میں بدظنی پیدا کرنا تھا۔ 2024 میں اس نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے “بلوچستان فیکٹس” کے نام سے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم قائم کیا، جس پر ’فیکٹ چیک‘ کے پردے میں پاکستان مخالف مواد، جعلی خبریں، اور را کا تیار کردہ پروپیگنڈہ مستقل بنیادوں پر شیئر کیا جانے لگا۔
یہ سب کچھ اُس خاموش ڈیجیٹل جنگ کا حصہ تھا جس کے تانے بانے دہلی کے خفیہ دفاتر میں بُنے جا رہے تھےوشال کانیٹ نے را کے میڈیا ونگ کے لیے محض ایک سوشل میڈیا ایجنٹ کا کردار نہیں نبھایا بلکہ ایک مکمل "ڈیجیٹل جنگجو” کی حیثیت اختیار کرلی، جس کے پاس نفسیاتی اور تکنیکی حملوں کا پورا ذخیرہ موجود تھا۔ اس نے مصنوعی ذہانت، خصوصاً چیٹ جی پی ٹی، کو بطور پرمپٹ انجینئر استعمال کرتے ہوئے اپنے بیانیے کی تیاری میں مہارت حاصل کی۔
"ٹارگٹ نیریٹیو” یعنی مخصوص نظریاتی مواد تیار کرنے کے لیے وہ ایک ہی پرمپٹ کے سانچے میں معمولی تبدیلیاں کر کے درجنوں مختلف مگر ہم خیال بیانیے جنریٹ کرتا، جنہیں بعد ازاں مختلف پلیٹ فارمز پر پھیلایا جاتا۔اس کے بعد اس نے ایک مکمل ٹوئٹر بوٹ نیٹ ورک ترتیب دیا، جس میں 29 جعلی اکاؤنٹس شامل تھے (جیسا کہ HUMINT Summary BL-OS-9/25 میں رپورٹ کیا گیا)۔ یہ اکاؤنٹس روزانہ کم از کم 70 پوسٹس یا ری پوسٹس کرتے، تاکہ سوشل میڈیا پر غلط بیانیوں کو وائرل بنایا جا سکے۔
ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے وہ اپنے ہی اصل مواد کو خود ہی لائک، شیئر اور ری پوسٹ کر کے اسے عوامی تاثر کا لبادہ پہناتا۔مزید برآں، وشال نے “بلوچستان فیکٹس” کے نام سے ایک ہائبرڈ ٹیلگرام چینل بھی لانچ کیا، جہاں ‘بلوچ مزاحمت’ کے نام پر من گھڑت خبریں، فوٹو شاپ تصاویر، اور جھوٹے بیانیے اپ لوڈ کیے جاتے۔ بعد ازاں انہی لنکس کو یو آر ایل شارٹنرز کے ذریعے شارٹ کر کے ایکس (ٹوئٹر) پر پھیلایا جاتا، تاکہ سوشل میڈیا الگورتھمز میں ان کا اثر بڑھایا جا سکے۔
یوں وشال نہ صرف بیانیہ تیار کرتا تھا بلکہ اس کی ڈیجیٹل ترسیل اور تاثر سازی کا بھی ماہر تھا ایک ایسا سائبر ایجنٹ جو میدان جنگ کی بجائے کی بورڈ اور کوڈ سے لڑتا ہے۔21 مئی 2025 کے دہشت گرد حملے میں بی ایل اے نے معصوم طلبہ کو نشانہ بنایا۔وشال نے محض 11 منٹ بعد “بلوچستان Facts” اور فاطمہ سے دعویٰ کیا کہ “آرمی اسٹاف بس” پر حملہ ہوا ہے۔جبکہ ND-SAT-ELINT فریم 11287 کی مطابق اس کا ٹویٹ اُن ہی GPS کوآرڈی نیٹس سے اُٹھا جہاں بی ایل اے کا “اسپیکر” سیٹلائٹ فون فعال تھا۔پھر PCVC Threat-Flash 09-25 نے ثابت کیا کہ یہ حادثاتی نہیں، منظم میڈیا کور تھا۔
والد ریٹائرڈ صوبیدار میجر نے “قومی سپاہی والنٹیر فنڈ” سے 25 لاکھ بھارتی روپے وشال کے نام پر منتقل کیے (ITR Extract SM-14-21)پھر RAW نے اسے “Saffron Rise Pvt. Ltd.” کے فِنٹیک اکاؤنٹ سے کرپٹو واؤچرز دیے وہی چینل بی ایل اے کے فنانسرز بھی استعمال کرتے ہیں (FATF Typology Alert ME-BLA-2025)۔بہن کی CRPF ٹریننگ فیس بھی اسی غیر مُعلن فِنڈ سے ادا ہوئی ، جو بھارتی ٹیکس قوانین کی صریح خلاف ورزی ہےمکران ڈویژن میں حقیقی سوشل میڈیا رضاکار جب بھی زمینی حقائق شیئر کرتے، وشال اُنہیں ISPR بلاگر یا پنجابی اکاؤنٹس کہہ کر بدنام کرتا۔
وشال کے ماتحت بلوچ طلبہ تنظیموں کے نام پر چلنے والے جعلی اکاؤنٹس سے لسانی نفرت کو ہوا دی گئی۔یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق نشستوں کے دوران وشال کے فیکٹ شیٹس بطور سورس بھی کوٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہےمارچ 2025 میں آئی ایس آئی اور ایف آئی اے سائبر ونگ نے مشترکہ طور پر وشال کا نیٹ ورک میپ کیا۔12 مئی کو PCVC Special Bulletin نے ایک Red Flag Advisory جاری کی جس پر فیس بک اور ایکس نے 17 بوٹ اکاؤنٹس معطل کیے۔ جس میں وشال کا فاطمہ نام کا اکاؤنٹ بھی شامل تھا60 دن میں وشال کے اکاؤنٹس کی پوسٹس کی امپریشن ریٹ 42→9 ملین تک گر گئی۔سَنگلا کی برفانی چوٹیوں سے نکلنے والا یہ ’ڈیجیٹل سپاہی‘ بظاہر اکیلا نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں ایک وسیع ہائبرڈ وار مشین کا پرزہ ہے۔
وشال کانیٹ کے پردے چاک ہونے سے یہ واضح ہو گیا کہ پہاڑوں کے اُس پار بیٹھے انڈین را کے ایجنٹ بلوچستان کو صرف بارود سے نہیں، کی بورڈ سے بھی جلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں اگر اس نفسیاتی محاذ پر مسلسل مستعد رہیں تو “فاطمہ” یا “بلوچستان فیکٹس” جیسے ہر کردار کا انجام وہی ہو گا جو میدانِ جنگ میں اُن کے سرپرستوں کا ہوتا ہے یعنی ناکامی، رسوائی اور تاریخ کے کوڑے دان میں گم نامی۔
بشکریہ ،،بلوچستان انسائٹ
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



