انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

ہاؤس آف لارڈز لندن میں “امن بذریعہ ادب کا عالمی پیغام” کے عنوان سے شاندار تقریب، جنوبی ایشیا کے معروف ادیب، شاعر اور فنکار شریک

لندن (حافظ زاہد علی) برطانوی پارلیمنٹ (ہاؤس آف لارڈز) کے کمیٹی روم میں تحبیب کے زیر اہتمام اور Zenith Business Solutions کے تعاون سے “امن بذریعہ ادب کا عالمی پیغام” کے عنوان سے ایک شاندار ادبی و ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، یورپ اور برطانیہ بھر سے تعلق رکھنے والے نامور رائٹرز، صحافیوں، دانشوروں، ناول نگاروں، ادیبوں، شعرا اور فنون لطیفہ سے وابستہ اہم شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب میں علم و ادب، صحافت اور فلم سے وابستہ کئی ممتاز شخصیات بطور مہمانان اور پینلسٹ شریک ہوئیں جنہوں نے ادب و فن کے ذریعے عالمی سطح پر امن کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تقریب کا مرکزی سیشن ادب کی چرخہ سازی آرٹ اور میڈیا کے ذریعے تحبیب کا پیغام” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں معروف بھارتی شاعر و دانشور جاوید اختر، منصور علی، ناینیکا مہتانی، پاکستانی اداکار و سماجی کارکن احسن خان، نک کہان، اور مارٹن ڈنکرٹن شامل تھے۔

پینل میں گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے ادب، فن اور میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کے ضامن ہیں بلکہ عالمی امن کے فروغ میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مقررین نے زور دیا کہ ادب اور فنون لطیفہ نفرت اور تقسیم کے ماحول میں پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔

جاوید اختر نے اپنے مخصوص انداز میں کہاکہ ادب دردِ سر کی گولی نہیں بلکہ وٹامن ہے، جس کا اثر وقت کے ساتھ آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لکھنے اور بولنے والے لوگوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور آج کی اس کانفرنس نے جنوبی ایشیائی ثقافت کو زندہ رکھنے کی ایک خوبصورت کوشش کی ہے۔پاکستانی اداکار احسن خان نے ہاؤس آف لارڈز میں اپنے خطاب کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ “اردو ادب اور لٹریچر کو برطانیہ میں زندہ رکھنے اور فروغ دینے میں تارکین وطن پاکستانیوں کا اہم کردار ہے، جس پر میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔


اس دوران تقریب کے اارگنائزرنے کہا کہ ادب نہ صرف دلوں کو ملاتا ہے بلکہ پوری دنیا میں امن کے راستے کھولتا ہے۔ اس کی طاقت یہ ہے کہ وہ مختلف ثقافتوں اور قوموں کو آپس میں قریب لاتا ہے، نفرت کو محبت میں تبدیل کرتا ہے، اور دلوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو ادب کے ذریعے عالمی امن کو تقویت دے۔

شرکاء نے اس باوقار تقریب کے کامیاب انعقاد پر منتظمین طارق فیضی، نادیہ اعظم اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک چھت تلے یکجا کرکے ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دیا۔

تقریب میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی سید عابد کاظمی، عامر مہدی، اورنگزیب اعوان، سید عباس علی کویت ،معین احمد، لاشاری، عرفان اظہار دبئی ، صادق المتوہ کویت ، مصطفی عزیز دبئی ،عاطف توقیر اور دیگر شخصیات نے بھی بطور خاص شرکت کی، جن کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا۔یہ تقریب ادب، فن اور ثقافت کے ذریعے دنیا میں امن، محبت اور رواداری کا پیغام پھیلانے کی ایک خوبصورت مثال ثابت ہوئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button