بلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

گندم اور چینی کے سکینڈلز ، عوام کیلئےمہنگائی، اشرافیہ کواربوں کی کمائی!

عاطف عارف

پاکستان کی معیشت اور سیاست ایک ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ہر دورِ حکومت میں ایک نیا سکینڈل سامنے آتا ہے، اربوں روپے کی لوٹ مار کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں، میڈیا پر شور مچتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، مگر آخرکار سب کچھ دھواں بن کر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ عوام کے نصیب میں مہنگائی، غربت اور بدحالی کے سوا کچھ نہیں آتا جبکہ طاقتور طبقات مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں دو بڑے سکینڈلز نے ملک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا: نگران حکومت کے دور میں سامنے آنے والا گندم سکینڈل اور موجودہ فارم 47 حکومت کے دور میں اُبھرنے والا چینی سکینڈل۔ یہ دونوں واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ادارے طاقتور طبقے کے سامنے بے بس ہیں اور احتساب صرف کمزوروں کے لیے رہ گیا ہے۔

نگران حکومت اور گندم کا سکینڈل

سن 2023-24 کے دوران نگران حکومت کے دور میں ملک میں گندم کے بحران نے ایک نیا طوفان کھڑا کیا۔ رپورٹوں کے مطابق اربوں روپے کی سبسڈی، امپورٹ اور ذخیرہ اندوزی میں ایسی بے ضابطگیاں ہوئیں جنہوں نے اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ تک کو ہلا کر رکھ دیا۔

اسکینڈل کیسے شروع ہوا؟

ملک میں اچانک آٹے کی قلت پیدا ہوئی، سرکاری گوداموں میں موجود اسٹاک کم دکھایا گیا، اور درآمد کی فوری ضرورت ظاہر کی گئی۔ اس موقع پر حکومت نے ڈالرز میں مہنگی گندم منگوائی، جس میں کمیشن مافیا نے اربوں روپے کما لیے۔ حیرت انگیز طور پر، بعد میں پتا چلا کہ سرکاری گوداموں میں پہلے سے ہی وافر مقدار میں گندم موجود تھی مگر اسے "غائب” کر دیا گیا تاکہ بحران کھڑا ہو اور امپورٹ کا جواز بنایا جا سکے۔

کردار کون تھے؟

اس اسکینڈل میں کئی بڑے بیوروکریٹس، نگران کابینہ کے وزراء، اور ملٹی نیشنل امپورٹرز کے نام آئے۔ مگر کسی کے خلاف براہِ راست کارروائی نہ ہو سکی۔ میڈیا پر شور ضرور مچا، تحقیقاتی رپورٹس تیار ہوئیں، لیکن وہ آج تک منظرِ عام پر نہیں آئیں۔

عوامی اثرات

آٹے کی قیمت آسمان کو چھونے لگی۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ عام آدمی کے لیے روٹی خریدنا مشکل ہو گیا۔ گندم جیسے بنیادی اناج کو بھی "سونے” کے بھاؤ فروخت کیا جانے لگا۔ اس بحران نے ثابت کر دیا کہ نگران حکومتیں "غیر جانبدار” نہیں ہوتیں بلکہ طاقتور طبقے کے مفادات کی محافظ بن کر آتی ہیں۔

فارم 47 حکومت اور چینی کا میگا سکینڈل

گندم سکینڈل کے بعد یہ توقع تھی کہ شاید نئی حکومت کچھ احتسابی اقدامات کرے گی، لیکن جلد ہی ایک نیا بحران سامنے آ گیا۔ اس بار ہدف بنی چینی۔

بحران کی ابتدا

2024-25 میں اچانک چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی گئی، ملز مالکان نے جان بوجھ کر چینی روک لی تاکہ قیمتیں بڑھ سکیں۔ یوں ایک بار پھر عوام کے لیے سب سے بنیادی ضرورت چینی پہنچ سے باہر ہو گئی۔

سیاسی تعلقات اور تحفظ

چینی سکینڈل میں وہی پرانے کردار سامنے آئے جنہیں ماضی میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ طاقتور سیاستدانوں کے شوگر ملز، بیوروکریٹس کی ملی بھگت اور حکومتی سرپرستی نے اس بحران کو جنم دیا۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں شوگر انڈسٹری ہمیشہ سیاسی خاندانوں کے کنٹرول میں رہی ہے۔ چاہے وہ حکمران پیپلز پارٹی کے ہوں، مسلم لیگ کے یا تحریک انصاف کے، چینی کے کاروبار میں تقریباً ہر بڑا سیاسی خاندان شامل ہے۔

تحقیقات کا انجام؟

حکومت نے اعلان کیا کہ تحقیقات ہوں گی، کمیٹیاں بنیں گی، اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ مگر عملاً کچھ نہ ہوا۔ چند چھوٹے تاجر اور ڈیلرز گرفتار ہوئے، مگر اصل کردار، یعنی ملز مالکان، آج بھی کھلے عام سیاست کر رہے ہیں اور کابینہ کا حصہ ہیں۔

ایک ہی کہانی، مختلف چہرے

اگر غور کیا جائے تو گندم اور چینی دونوں سکینڈلز میں ایک ہی پیٹرن سامنے آتا ہے:

1. مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے۔

2. عوام کو پریشانی میں ڈالا جاتا ہے۔

3. حکومت ڈالرز یا سبسڈی دیتی ہے۔

4. چند خاندان اربوں روپے کما لیتے ہیں۔

5. تحقیقات شروع ہوتی ہیں مگر کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔

6. عوام مہنگائی اور غربت کی سزا بھگتتے ہیں۔

 

عوام پر مارشل لاء، اشرافیہ کے لیے معافی

یہ سوال اب ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ آخر کب تک یہ کھیل جاری رہے گا؟ کیا ہمارے ملک میں صرف عوام کے لیے ہی "مارشل لاء” ہے؟ ٹیکس، مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور غربت عوام پر مسلط کی جاتی ہے، جبکہ سیاستدان، بیوروکریٹس اور بڑے سرمایہ دار ہر جرم کے بعد عام معافی پا لیتے ہیں۔

جب بھی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ "تحقیقات جاری ہیں”، "ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا” اور "کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا”۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ ریاست طاقتوروں کو تحفظ دینے کے لیے بنی ہے، نہ کہ عوام کو انصاف دینے کے لیے۔

مستقبل کا سوال

پاکستان اس وقت بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ روپے کی قدر گر رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر گندم اور چینی جیسے بنیادی اجناس کے اسکینڈلز میں بھی انصاف نہ ہو تو عوام کس پر اعتماد کریں گے؟

کیا پارلیمنٹ ان اسکینڈلز پر کھلی بحث کرے گی؟ کیا عدلیہ نوٹس لے گی؟ کیا نیب یا ایف آئی اے کبھی ان "بڑے ناموں” کو پکڑ سکیں گے؟ یا پھر ایک بار پھر سب کچھ پرانے پاکستان کی طرح "دھندلا” دیا جائے گا؟

نتیجہ

گندم اور چینی کے اسکینڈلز صرف مالی کرپشن کی کہانیاں نہیں ہیں، یہ پاکستان کے نظام کی اصل تصویر ہیں۔ ایک ایسا نظام جس میں عوام کی جان، مال اور عزت کی کوئی اہمیت نہیں، مگر طاقتور طبقے کے مفادات ہر حال میں محفوظ رہتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ قوم سوال کرے:

کب تک عوام روٹی اور چینی کے لیے قطاروں میں خوار ہوں گے؟

کب تک اربوں روپے کی لوٹ مار پر کمیٹیاں بنتی رہیں گی؟

کب تک سیاستدان اپنی ملوں اور کارخانوں کو بچاتے رہیں گے؟

اگر آج عوام نے آواز نہ اٹھائی تو کل یہ فہرست مزید لمبی ہو گی۔ گندم اور چینی کے بعد شاید دال۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button