پاکستانتازہ ترینکاروبار

شیئرزمارکیٹ میں پھر شدید مندی، انویسٹر کے172ارب روپے ڈوب گئے

آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج پر بے یقینی کے باعث انویسٹرزتذبذب کاشکار، شیئرزکی فروخت ،انڈیکس1634پوائنٹس کم ہوکر1لاکھ10 ہزار 301پربند

لاہور،کراچی(ویب ڈیسک)آئی ایم ایف کے آئندہ مذاکرات کے نتائج پر بے یقینی اور منافع کی خاطر فروخت کے دبا ئوسے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار ی ہفتے کے چوتھے دن شدید مندی کا رجحان رہا ،کے ایس ای 100انڈیکس 1600پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ مارکیٹ 1لاکھ11ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد گر گئی اور انڈیکس1لاکھ 10ہزار300پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
مندی سے سرمایہ کاروں کو172ارب روپے سے زائد کاخسارہ برداشت کرنا پڑا جبکہ 65.74فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے ابتدائی سیشن سے ہی فروخت کا رجحان غالب رہا ،کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔اسٹاک ماہرین کے مطابق سرمایہ کار موجودہ سطح کو پرکشش نہیں پا رہے ہیں۔ مستبل قریب میں مارکیٹ محدود رہ سکتی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے آئندہ مذاکرات کے بعد ہی اسٹاک مارکیٹ مستقبل کے سمت کا تعین کریگا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو کے ایس ای 100انڈیکس1634پوائنٹس کمی سے1لاکھ10ہزار301پوائنٹس پر بند ہوا اسی طرح 638پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس34ہزار386پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 69ہزار366پوائنٹس سے گھٹ کر 68ہزار560پوائنٹس ہوگیا۔
کاروباری مندی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 172ارب 98کروڑ51لاکھ47ہزار537روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 13827 ارب61کروڑ33لاکھ90ہزار856روپے سے کم ہو کر 13654 ارب62کروڑ82لاکھ43ہزار 319روپے رہ گیا۔اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو 25ارب روپے مالیت کے59کروڑ89لاکھ30ہزارحصص کے سودے ہوئے جبکہ بدھ کو 23ارب روپے مالیت کے43کروڑ63لاکھ25ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔ادھرآل پاکستان جیمز اینڈ جیولرزایسوسی ایشن کے مطابق جمعرات کو سونے کی فی تولہ قیمت میں 900 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد سونا 2 لاکھ 98 ہزار700 روپے فی تولہ رہ گیا اسی طرح 772 روپے کی کمی سے 10 گرام سونا 2 لاکھ 56 ہزار87 روپے رہا۔
چاندی کی فی تولہ قیمت 23 روپے کے خسارے سے 3 ہزار327 روپے ہو گئی جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونا 9ڈالر گھٹ کر 2859 ڈالر فی اونس رہ گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button