قرآن مجید اپنے موضوع اور مضامین کے لحاظ سے ایک بالکل منفرد کتاب ہے۔یہ تئیس برس کی مدت میں نازل ہوا۔کبھی دو چار آیات ،کبھی ایک ایک جن دو دو رکوع اور کبھی پوری سورت۔یعنی دوسری آسمانی کتابوں کی طرح یہ ایک مجموعہ کی شکل میں نازل نہیں ہوا بلکہ جب جب جیسے ضرورت لاحق ہوئی احکامات اترتے گئے اس لیے اگر ایک موضوع کا تزکرہ پہلی سورہ میں ہے تو اسی موضوع کو آخری سورۃ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
مثلا بہتان تراشی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے مختلف سورتوں میں بار بار ڈرایا گیا۔سورہ النسائ،سورہ نور،سورہ احزاب اور اسی طرح سورہ الممتحنہ میں بھی۔قرآن مجید غور وفکر کی کتاب ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تلاوت قرآن حصول ثواب کے ساتھ ساتھ آنکھوں کا نور دلوں کی شادابی،سکون و راحت کا ذریعہ ہے لیکن اصل بات قرآن کو سمجھنا ہے،اس کے ہر لفظ میں چھپے وسیع معنی و مفہوم پر غور کرنا اور ان میں بیان ھدایات کے مطابق کامیاب دینی و دنیاوی زندگی گزارنا ہے کیونکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔
تخلیق کائنات کے ابتدائی مرحلے سے لیکرپیدائش انسانی تک اللّٰہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں جو کچھ بھی پیدا کیا وہ انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہی پیدا کیا۔پھر انسانوں کو ظاہری اور باطنی،جسمانی اور روحانی نعمتیں عطا کیں۔لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا انعام رشد وہدایت کا وہ نظام ہے جو رسولوں کی بعثت اور آسمانی صحیفوں کے ذریعے قائم کیا۔کیونکہ اگر یہ نظام نہ ہوتا تو انسان جسے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا وہ حیوانوں سے بھی بدتر اور گمراہ ہوتا۔
جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں خود قرآن میں انھیں ”یہ لوگ (منکرین ہدایت) چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں“(سورہ الاعراف)کہا گیا۔جب اللہ تعالیٰ کو مقصود ہوا کہ نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ ختم کر دیا جائے اور ھدایت و رہنمائی کے لیے ایک ایسا صحیفہ نازل کیا جائے جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہو ،جو ابد تک کے لیے روشنی کا مینار ہو،جس سے آنے والی قومیں رہنمائی حاصل کرتی رہیں ،جس کا پیغام علاقائی حدود و قیود ،زبان و مکان سے ماورا ہو تو اس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر دین و دنیا کی فلاح و سعادت اور رشد و ہدایت کا ایک جامع اور کامل دستور نازل کیا۔
کمالات نبوت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ختم کر کے ”خاتم الانبیاء“کے منصب پر فائز کیا اور آپ پر نازل ہونے والے اس دستور ہدایت کو تمام پچھلی آسمانی کتابوں کا خلاصہ و لب لباب اور ام الکتاب بنایا۔سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ”بلا شبہ یہ قرآن سب سے سیدھے راستے کی نشان دہی کرتاہے۔“ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاءآئے وہ کسی خاص علاقے یا قوم کی اصلاح کے لیے آیااور ان پر نازل کردہ آسمانی کتابیں اور صحیفے بھی اسی دور کے مطابق رہے۔
ان میں یہ صلاحیت و استعداد نہ تھی کہ وہ مشرق و مغرب ،شمال جنوب کی وسعتوں میں بسنے والی اقوام کا احاطہ کر سکتیں لیکن قرآن مجید نبی آخر الزماں پہ اتاری جانے والی آخری کتاب ہے جس کی شان اور اعلیٰ مرتبے کا یہ عالم ہے کہ اس میں تمام علوم الٰہیہ کو جمع کیا گیا اور اس کو جامع اور ابدی دستور حیات کا درجہ دیا گیا تاکہ ہر دور ،ہر علاقے کے لوگ اس سے دین و دنیا کی فلاح و سعادت حاصل کرتے رہیں۔
انسان کی اخلاقی اور باطنی تربیت ہو سکے اور انسانیت اس پہ عمل پیرا ہو کر اخلاق و کردار کی بلندیوں کو چھو سکے۔قرآنی تعلیمات تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ اور نچوڑ ہے اس پر ایمان لانا تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ہے اور اس سے انکار گویا تمام آسمانی کتابوں سے انکار ہے۔یہ ایسی کتاب ہے جو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔اس کی عبارت فصاحت و بلاغت کا مرقع ،انداز بیاں موثر اور شگفتہ جو دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔سادہ اور معتدل تعلیم جو ہر زمانے ہر مزاج کے مطابق ہے۔
حکم ایسے جچے تلے ہیں عقل سلیم اور انسانی فطرت کے عین مطابق جن پہ عمل کرنا کسی کے لیے بھی دشوار نہیں غرض ہر تفریق سے پاک۔قرآن اپنی عظمت و جلال کی وجہ سے ایسی شان رکھتا ہے کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ اللّٰہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا مگر حضرت انسان کے دل کیسے پتھر ہیں یا اس سے بھی سخت کہ کلام پاک کو سنتے ہیں مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ؟؟
قرآن اول و آخر تک نصیحت ہے۔
یہ دلوں کے امراض کی شفا ہے،خوشنودئی رب کے حصول کا ذریعہ ہے۔قرآن میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور شفا ہے دلوں کے روگ کی اور ہدایت ہے مسلمانوں کے لیے۔“یہ ایسی ہدایت ہے کہ اس کی پیروی کرنے والے بےراہ نہیں ہو سکتے۔یہ ایسا کلام ہے جو ہمیشہ کے لیے تروتازہ ہے جتنی بار پڑھا جائے پرانا نہیں ہوتا ہر بار قاری ایک نئی حقیقت کے سبق سے آگاہ ہوتا ہے۔
یہ دین و دنیا کی سعادتوں کا ضامن ہے۔ایک مکمل دستور حیات و ضابطہ حیات ہے۔یہ عمل کی کتاب ہے اس پہ عمل کر کے ہی ابدی سعادت حاصل کی جا سکتی ہے اور اسی پہ عمل کر کے امت مسلمہ تمام دنیا پہ غالب آسکتی ہے۔اگر آج امت مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کو بھلا دیا اس کلام الٰہی سے وہ رشتہ نہ جوڑا جس کا یہ حقدار ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآن کو انفرادی و اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں اسی کے احکام پہ عمل پیرا ہوں کیونکہ اسی میں نجات ہے۔



