انٹر نیشنلتازہ ترین

ایران کے اسرائیلی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سمیت اہم مقامات پر حملے،3صہیونی ہلاک،متعددزخمی

تہران:(ویب ڈیسک)ایران نے مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے کیے ہیں جن میں3افراد ہلاک جبکہ متعددصہیونی زخمی ہوگئے، ایران کے حملوں میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور موساد کے آپریشن سینٹر میں آگ بھڑک اٹھی۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق منگل 17 جون کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کے بعد کیے گئے ایران کے تازہ میزائل حملے میں کے بعد اسرائیلی افواج نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ناکارہ بنادیا، ایران نے 10 میزائل داغے تھے، اسرائیلی شہری پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ’ہم نے تل ابیب میں صہیونی حکومت کی فوج کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی ’امان‘ اور صہیونی حکومت کی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے مرکز ’موساد‘ کو نشانہ بنایا ہے، جو اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے‘۔

ایران کا اسرائیل کے ’سائنسی و عسکری دماغ‘ پر حملہ
ایران کے حالیہ میزائل حملے نے وسطی مقبوضہ فلسطین کے شہر رہووت میں واقع وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی نے لبنانی نشریاتی ادارے ’المیادین‘ کے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کے جنگی تحقیقی مرکز کی متعدد عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جب کہ ایک اہم تجربہ گاہ مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئی۔

یہ مقام زندگی کے علوم، مصنوعی ذہانت، اور مالیکیولر بائیولوجی میں جدید تحقیق کا مرکز تھا، اور ان شعبوں میں ہونے والی تحقیق اسرائیلی ریاست کو نگرانی، ٹارگٹنگ، اور ہتھیاروں کے نظام کی تیاری میں مدد فراہم کر رہی تھی، یہ وہی نظام ہیں، جو خطے بھر میں کی گئی اسرائیلی جارحیت میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے وائزمین انسٹیٹیوٹ کو ’اسرائیل کا سائنسی و عسکری دماغ‘ قرار دیا ہے، یہ ادارہ ایسی ٹیکنالوجیز کی تحقیق و ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے جو فضائی حملوں کے ہم آہنگی نظام، ڈرون وار فیئر، اور میدانِ جنگ میں طبی امداد کے سلسلے میں استعمال ہوتی ہیں، اور ان سب کو غزہ، لبنان، یمن، اور حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف حملوں میں بروئے کار لایا گیا ہے۔

تباہ ہونے والی تجربہ گاہوں میں ایک لیبارٹری اسرائیلی پروفیسر ایلداڈ زاحور کی زیر نگرانی تھی، جو مالیکیولر سیل بائیولوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں، ایک اور متاثرہ لیب مصنوعی ذہانت کے ماہر پروفیسر ایران سیگل کی تھی، جس میں موجود لاکھوں ڈالر مالیت کا تحقیقی سامان پانی اور ساختی نقصان کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے، سیگل کی لیب نے مبینہ طور پر ایسے الگورتھمز تیار کیے تھے جو میدانِ جنگ میں فیصلے کرنے اور نگرانی کے نظام میں مدد فراہم کرتے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں جلی ہوئی اندرونی دیواریں، گری ہوئی منزلیں، تباہ شدہ بجلی کا نظام، اور عمارت کو پہنچنے والا شدید نقصان دیکھا جا سکتا ہے، جو مبینہ طور پر ایک درست نشانے پر کیے گئے حملے کا نتیجہ تھا۔

اگرچہ اسرائیلی حکام اس حملے کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ’دی مارکر‘ نے تسلیم کیا کہ یہ حملہ ’اتفاقی‘ نہیں تھا، بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا جس کا مقصد ایک ایسے ادارے کو نشانہ بنانا تھا جو عسکری طاقت میں سائنسی تحقیق کے ذریعے کردار ادا کر رہا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں اس حملے کو ایران کے جوہری سائنس دانوں کے قتل کا براہِ راست بدلہ قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسٹیٹیوٹ کے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں سے گہرے تعلقات نے اسے ایران کی نظر میں ایک جائز عسکری ہدف بنا دیا، خاص طور پر کیوں کہ یہ ادارہ ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں شریک ہے جو شہریوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں میں استعمال ہوتی ہے۔

پروفیسر شارل فلیش مین (جن کی لیب اس حملے میں محفوظ رہی) نے تسلیم کیا کہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے، ان کا کہنا تھا لائف سائنسز کی لیبارٹریز ایسے مواد پر انحصار کرتی ہیں جنہیں کئی سال کی محنت سے جمع اور محفوظ کیا جاتا ہے، جب ایک لیب تباہ ہو جاتی ہے، تو وہ تمام مواد بھی ضائع ہو جاتا ہے، جو ناقابلِ تلافی ہے۔

ایک اور اسرائیلی محقق، پروفیسر اورن شلڈینر نے ’دی مارکر‘ کو بتایا کہ ایسا لگا جیسے لیب ہوا میں تحلیل ہو گئی ہو، شلڈینر کے مطابق متاثرہ لیبارٹریوں کو دوبارہ تعمیر کرنے اور ان کی صلاحیتیں بحال کرنے میں کم از کم 2 سال لگیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وائزمین انسٹیٹیوٹ کی تباہی تہران کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے، اسرائیلی قبضے کے ادارے جو تحقیق کے ساتھ ساتھ فوجی سرگرمیوں میں بھی شریک ہیں، وہ اب سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button