پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکاروبار

چھوٹے دکاندار خبردار،ہوشیار، حکومت کا بڑاکارنامہ، فکس ٹیکس متعارف

ملک میں 40 لاکھ چھوٹے دکان دار ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ میں لانا اہم سنگ میل ہے، محمد اورنگزیب، بلال اظہر کیانی،پریس کانفرنس

لاہور:(بیوروچیف)حکومت نے چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرادی۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے نیوز کانفرنس کی۔

تاجروں کیلئے بجٹ میں فکسڈ ٹیکس کا مطالبہ, بڑے دکان دار پر ماہانہ 20 ہزار ٹیکس کی تجویز

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کم سے کم بھی دکاندار کو 25 ہزار روپے جمع کروانا ہوگا، اگر دکاندار کے ٹرن اوور کی مقدار زیادہ ہوگی تو اس حساب سے ایک فیصد ٹیکس ہوگا، یہ ایک صفحے کا فارم ہے جس پر دکاندار اپنے مال کی فروخت درج کریں گے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ جو بھی دکاندار اس اسکیم میں شامل ہونا چاہتا ہے وہ فارم بھرے، جو دکاندار اس اسکیم میں آئے گا اسے ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی، اس پلیٹ پر دکاندار کا نام، دکان کا نام اور دیگر تفصیلات ہوں گی، اس اسکیم میں نان فائلر اور فائلر دکاندار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم سے مستفید ہونے کیلئے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال جتنی ہونی چاہیے، جو بھی دکاندار اس اسکیم میں آئیں گے انہیں پی او ایس سے استثنیٰ مل جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، اپنے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے کر جانا بہت اہم ہے، ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ ہوئی ہیں، سب کہتے ہیں اس وقت ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی ضرورت ہے، ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں وہ چھوٹے دکانداروں کیلئے ہے، 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل میں اپنا حصہ ملائیں۔

 

محمد اورنگزیب نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی مشاورت اور مطالبے کے ساتھ اسکیم لائی جا رہی ہے، ٹیکس دہندگان ٹیکس میں آسانی چاہتے ہیں، جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کررہے تھے وہ اب خود کو پیش کررہے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

 

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرادی ہے، اسکیم تاجروں اور انجمنِ تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، اس اسکیم کا اطلاق ایسے دکان داروں پر ہوگا جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے، جبکہ دکان دار اپنی مرضی سے موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اسکیم میں شامل دکان داروں کو ایف بی آر کی جانب سے خصوصی شناختی پلیٹ جاری کی جائے گی، شناختی پلیٹ پر دکان کا نام، این ٹی این اور ٹیکس سے متعلق معلومات درج ہوں گی، پلیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ایف بی آر انسپکٹر تصدیق کرے گا، کیو آر کوڈ اسکین کیے بغیر کسی انسپکٹر کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اسکیم میں شامل دکان داروں کو عمومی آڈٹ سے استثنا حاصل ہوگا، کسی خصوصی آڈٹ سے قبل تاجر تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی، آڈٹ معاملات کے لیے ایک باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، ملک میں 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکان دار موجود ہیں اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ کی حمایت سے اس اسکیم کو نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایف بی آر حکام اور تاجر برادری کے تعاون سے اسے حتمی شکل دی گئی ہے، تاجروں کے ساتھ مل کر اس اسکیم کو کامیاب بنایا جائے گا۔

دریں اثنا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں وسعت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی اور حکومت نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ اپنے وسائل سے کیا، کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی، ملک میں ایک منصفانہ اور مؤثر ٹیکس نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری جانب چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کاروبار تباہ ہوچکےہیں کبھی لاک ڈائون کبھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جینا محال ہوچکا ہے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کاروبار تباہ ہوچکےہیں کبھی لاک ڈائون کبھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جینا محال ہوچکا ہے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button