
فائروال ایک ایسا نام ہے جو سن کرذہن میں آگ کی دیوار کا تصورابھرتا ہے، مگرحقیقت میں یہ آگ نہیں بلکہ ایک خاموش نگہبان ہے جو ڈیجیٹل دنیا کی سرحدوں پرکھڑا رہتا ہے۔ جیسے قدیم قلعوں کے گرد گہری خندقیں اورمضبوط دروازے ہوتے تھے تاکہ دشمن اندرنہ گھس سکے، ویسے ہی فائروال انٹرنیٹ کے لامحدود سمندر میں آپ کے کمپیوٹر یا نیٹ ورک کو ایک محفوظ جزیرے کی مانند محفوظ رکھتی ہے۔
یہ مسلسل جاگتی رہتی ہے، ہرآنے والی اورجانے والی معلومات کی جانچ کرتی ہے، اور صرف ان کو گزرنے دیتی ہے جو قابل اعتماد ہوں۔ جب کوئی مشکوک پیکٹ دروازے پر دستک دیتا ہے تو یہ بغیر کسی شور کے اسے روک لیتی ہے، گویا ایک تجربہ کار دربان جو چہرے دیکھ کر ہی پہچان لے کہ مہمان ہے یا چور۔۔۔
اس کی طاقت صرف روکنے میں نہیں بلکہ سمجھنے میں بھی ہے۔ یہ قواعد کے ایک مجموعے پرعمل کرتی ہے جو صارف یا منتظم نے مقرر کیے ہوتے ہیں، اورانہی قواعد کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے کہ کون سی بات چیت جائزہے اورکون سی خطرناک، فائروال کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ صرف بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی نہیں ہوتی، اسے اندرسے باہر جانے والی بعض سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اسی لیے فائر وال جدید ڈیجیٹل دنیا میں صرف ایک تکنیکی آلہ نہیں رہی۔یہ رسائی، اجازت، نگرانی اورتحفظ کے پورے نظام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ دنیا جوں جوں ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے، فائروال کی اہمیت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کیونکہ رابطے بڑھ رہے ہیں، معلومات بڑھ رہی ہیں، نیٹ ورک بڑھ رہے ہیں، خطرات کی نوعیت بدل رہی ہے۔
ہم نے فائروال کا پہلی بارنام اس وقت سنا جب تحریک انصاف کی حکومت اوراسٹبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی عروج پرتھی،کپتان کے فالورزسوشل میڈیا سے اندھا دھند بمباری کررہے تھے،موجودہ حکومت نے سوشل میڈیا سے بمباری روکنے کیلئے فائروال کاسہارا لیا تھا،جس کیلئے بیس ارب روپے خرچ کئے گئے تھے۔۔۔
یہ تھی فائروال یعنی کمپیوٹرنیٹ ورک سکیورٹی سسٹم کی کہانی۔۔۔۔اب آپ چند سیکنڈ رکیں،ہم دوبارہ فائروال کی طرف آئیں گے۔۔۔
پٹرولیم قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا،عام آدمی شدید پریشان،جماعت اسلامی نے پٹرولیم قیمتوں کیخلاف ملک بھرمیں دھرنا دیا، ہوا کیا۔۔۔۔؟ مہنگائی سے پریشان عوام کو پورا دن مزید پریشان کیا گیا،حکومت کو کوئی اثرپڑا۔۔۔؟
حکمرانوں کا کچھ بگڑا۔۔۔؟ اشرافیہ کا راستہ بند ہوا۔۔۔؟ چند ماہ قبل بھی جماعت اسلامی نے پٹرولیم قیمتوں اورمہنگائی کیخلاف دھرنا دیا تھا،اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا۔۔۔؟ سوائے عوام کی خواری کے۔۔۔جماعت اسلامی تسلسل سے ایسا کررہی ہے۔۔۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔۔۔؟ وہ وجہ آپکو بتاتا ہوں۔۔۔تھوڑی دیرکیلئے ہم جمعیت علما اسلام کی طرف چلتے ہیں،چند روز قبل مولانا فضل الرحمٰن نے اچانک اسٹبلیشمنٹ اورحکومت پرچڑھائی کردی،شہدا سے متعلق بھی غیرمناسب گفتگو کی،اس خطاب کے بعد مکمل خاموشی،جے یوآئی تسلسل سے ایسا کررہی ہے۔۔۔
اس کی ایک خاص وجہ ہے۔۔۔؟ وہ وجہ آپکوبتاتا ہوں۔۔۔تھوڑی دیرکیلئے ہم کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی طرف چلتے ہیں،آپ نے اکثردیکھا ہوگا ٹی ایل پی رہنماؤں کو،جب انہوں نے احتجاج کیلئے نکلنا ہوتا ہے،نہیں نکلتے،جب احتجاج کا کوئی جوازنہیں ہوتا،وہ سڑکیں بند کردیتے ہیں،پچھلے دنوں آپ نے دیکھا ہوگا کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے لاہور میں احتجاج کیا تھا،حالانکہ انکی قیادت منظرعام پر نہیں،ان کیلئے کبھی ایک رکن بھی باہرنہیں نکلا۔۔۔کالعدم ٹی ایل پی تسلسل سے ایسا کررہی ہے۔۔۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔۔۔؟ وہ وجہ آپکوبتاتا ہوں۔۔۔
تھوڑی دیرکیلئے ہم علما مشائخ گروپ کی طرف چلتے ہیں،ان کا طریقہ کار بھی جماعت اسلامی،جےیوآئی،ٹی ایل پی جیسا ہے،مخصوص حالات میں پریس کانفرنسیں،سیمینارکرتے ہیں۔۔۔۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔۔۔؟ آپ سول سوسائٹی اوردیگرچھوٹے موٹے گروپس اوراین جی اوزکو دیکھ لیں،وہ بھی بالکل ان مذہبی جماعتوں کی طرح چلتے ہیں،ایسے ہی کسی روز شام کو موم بتیاں اٹھائے سڑکوں پرآبیٹھتے ہیں۔۔۔۔
اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔۔۔؟ آپکی آسانی کیلئے ایک بارہم پھرفائروال کی طرف چلتے ہیں،فائروال، صرف بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی نہیں ہوتی، اسے اندرسے باہر جانے والی بعض سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،حکومت اسے پی ٹی آئی کے ’’ جنگجوؤں ‘‘ کیخلاف استعمال کرنے کا تجربہ کرچکی۔۔۔
ہم دوبارہ مذہبی جماعتوں کی طرف چلتے ہیں،ان سب کا طریقہ ایک جیسا کیوں ہے،وہ خاص وجہ کیا ہے،اب اس پربات کرتے ہیں،کسی بھی ملک کی اسٹبلیشمنٹ ہویا حکومت ،انہیں بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرات ہوتے ہیں،اورانہیں ڈربھی زیادہ اندرونی خطرات کا ہوتا ہے،یہ آج کی بات نہیں،صدیوں کی داستانیں ہیں،ہراسٹبلیشمنٹ،ہرحکومت اندرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنا اپنا لائحہ عمل تخلیق کرتی ہیں۔
پاکستان میں اندرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے طریقہ کار کیا ہے۔۔۔؟خاص کرآج کل،جب تمام ہمسایہ ممالک میں جین زی اپنی طاقت دکھا چکے ہیں،حکومت نے اندرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ’’ سیاسی فائروال ‘‘کا سہارا لیا ہوا ہے۔۔۔۔آسان الفاظ میں بتاتا چلوں،یہ تمام مذہبی جماعتیں اسٹبلیشمنٹ کی ’’فائروال ‘‘ ہیں،یہ ان کی مرضی سے ہی سڑکوں پرآتی ہیں،ان کی مرضی سے ہی جاتی ہیں،زمینی حقائق بتاتے ہیں،انہیں ٹارگٹ دیئے جاتے ہیں۔۔۔
ملک کا کوئی بھی ایسا مسئلہ ہو،جس پرعام عوام سیخ پا ہوں،غصے میں ہوں، سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیارہوں،ان تمام جماعتوں میں ایک جماعت چند سو افراد لیکر سڑکوں پر آجاتی ہے،دھرنا دیتی ہے،انقلابی خطاب کرتے ہیں، دوبارہ آنے کا کہہ کر شام کو گھروں میں چلے جاتے ہیں۔
مسئلہ دب جاتا ہے،عام لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے،مولانا کی ایک بیان نے رضا ڈار کا کیس،بلوچستان والا بڑا مسئلہ عوام کے ذہن سے نکال دیا تھا،نئی بحث چھیڑ دی تھی،یہ دونوں مسئلے حکومت کیلئے درد سربن رہے تھے،مولانا چند منٹوں میں حکومت کو ریلیف لے دیا۔۔۔اب،عوام پٹرولیم قیمتوں پر چیخ رہے ہیں،اس سے پہلے کوئی عوامی تحریک اٹھے،جماعت اسلامی حکومت کی ’’فائروال ‘‘ بن گئی۔۔۔
یہ تمام جماعتیں ایک دوسرے کا متبادل ہیں،بعض اوقات کوئی وظیفہ نہ ملنے پرناراض بھی ہوسکتا ہے۔۔۔لکھ کررکھ لیں،جب تک یہ ’’ سیاسی فائروال ‘‘ بند نہیں ہوتی،ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی نہ ہی کوئی انقلاب آئےگا۔یہ سب مذہبی جماعتیں،سول سوسائٹیز،این جی اوز تبدیلی اورانقلاب کی دشمن ہیں۔



