کہتے ہیں موسم مزاجوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ہمارے تو موسم بھی انتہا پسند ہیں اس لیے ہمارے قومی مزاج میں انتہا پسندی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے لیکن ایسی بھی کوئی بات نہیں کبھی کبھی موسم بڑے خوشگوار بھی ہو جاتے ہیں لیکن خوشگوار موسم زیادہ دیر چلتے نہیں اس لیے ہم اکثر سیزنل بیماریوں کا شکار رہتے ہیں دنیا میں ہم سے بھی زیادہ سخت موسم پائے جاتے ہیں لیکن انھوں نے ان موسموں کے برے اثرات کو کنٹرول کرکے بہتر زندگی گزارنے کے نسخے دریافت کر لیے ہیں اس لیے وہ اب زیادہ بارشوں میں ڈوبتے نہیں منفی درجہ حرارت میں بھی زندگی رواں دواں رہتی ہے ہمارے ہاں تو موسموں اور بیماریوں کا کوئی پتہ نہیں چلتا ہم حل ڈھونڈنے کی بجائے خود ہی زندگی مفلوج کر بیٹھتے ہیں ہمیں بس ایک ہی کام آتا ہے زیادہ سردی پڑ جائے پھر بھی چھٹیاں کر لو زیادہ گرمی پڑ جائے پھر چھٹیاں کر لو امن و امان کنٹرول نہ ہو رہا ہو یا کوئی تہوار پر امن گزارنا ہو پھر بھی چھٹیوں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے کوئی بیماری پھیل رہی ہو تو پھر بھی ہمارے پاس ایک ہی علاج ہے چھٹیاں کرلو آج کل ہم موسم سرما کی چھٹیاں انجوائے کر رہے ہیں ہم نے بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ساتھ ہی شادیوں کا سیزن آن ہے جہاں بے شک سردی سے نمونیا ہو جائے یہ گلے شکوے ہمیں اپنے کرتا دھرتاؤں سے ہیں جو اپنی خواہشات کے لیے عوام الناس کو قربان کر رہے ہیں لیکن ہم قدرت کے شکر گزار ہیں جو ہمارے کرتوتوں کے برعکس ہمیں نواز رہی ہے اللہ کا شکر ہے لاہور نے بھی بارش کا منہ دیکھا ہے لاہوریے تو تھر کے باسیوں کی طرح بارش کو ترس گئے تھے اس بار تو سموگ نے بھی کڈ کڑاکے دتے نیں لاہور میں تو سانس لینا دشوار ہو رہا تھا شکر ہے بارش سے موسم خوشگوار ہوا ہے گردوغبار بیٹھنے سے درختوں پر بھی رونق آئی ہے اور خالص سردی کا بھی دیدار ہو گیا ہے دوسری بڑی خوشخبری یہ ہے کہ جس طرح موسموں کی بے اعتنائی نے مار دیا تھا اسی طرح سیاسی سموگ اور غیر انسانی سلوک نے بھی معاشرے کی چولیں ہلا کر رکھی ہوئی تھیں قوم اب مایوسی کے گہرے کھڈے میں گرنے والی تھی کہ امید کی کرن نے تھام لیا پوری قوم غیر یقینی کی صورتحال سے تنگ آ چکی تھی عوام چاہتے تھے کہ اب ان حالات کا کوئی حل نکل آنا چاہیے بہت کچھ ہو چکا اب زندگی نارمل ہو جانی چاہیے خدا خدا کرکے مذاکرات کی ابتدا ہوئی ہے شکر ہے بات چیت کا راستہ کھلا ہے اور جو کل تک ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے آج باہمی شیر وشکر ہونے کی تگ ودو کر رہے ہیں اللہ کرے ہمارے سیاستدانوں سمیت طاقتوروں کو صبر برداشت اور حوصلے کے ساتھ ایک دوسرے کو راستہ دینے کا سلیقہ آ جائے اور مخالف کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ تعاون سے آگے بڑھنے کی سوچ پنپ سکے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کی پہلی بیٹھک ختم ہو کر اس کی روداد بھی سامنے آ چکی ہو گئی بوقت تحریر میٹنگ شروع ہو چکی ہے اور خوش آئیند بات یہ ہے کہ اس کی سربراہی سپیکر قومی اسمبلی کر رہے ہیں حکومت نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں اپنے تمام اتحادیوں کے نمائندوں کو شامل کیا ہے پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نوید قمر ،ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور مسلم لیگ کیو کے چوہدری سالک حسین شامل ہیں تحریک انصاف نے بھی اپنے دو اتحادیوں جن کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا حامد رضا خان اور علامہ ناصر عباس کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو بھی مذاکرات میں شامل کر لیتی اس طرح سب کی ان پٹ سامنے آ جاتی ہو سکتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو خطرہ ہو کہ کہیں مولانا فضل الرحمن مذاکرات کی ساری میز ہی ہائی جیک نہ کر لیں اللہ اللہ کرکے مذاکرات شروع ہوئے ہیں تو دور کی کوڑی لانے والے اب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مذاکرات بین الاقوامی دباو کے تحت ہو رہے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جن 25 لوگوں کو 9مئی کے کیس میں ملٹری کورٹ سے سزائیں ہوئی ہیں یہ تحریک انصاف کو نفسیاتی دباو میں لانے کی کوشش ہےکہ مذاکرات میں لمبے چوڑے مطالبات رکھنے کی بجائے اپنی جان چھڑوانے کے لیے حکومت کی خواہشات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے سب سے بڑھ کر حکومت چاہتی ہے کہ تحریک انصاف ایک تو خاموشی اختیار کرلے اور دوسرا اس سیٹ اپ کو قبول کرکے چلنے دے کیونکہ خدشہ ہے کہ کہیں بین الاقوامی دباو زیادہ نہ بڑھ جائے اور کل کلاں کو کوئی ایسا ماحول نہ بن جائے جس میں بانی پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر چھوڑنا پڑ جائے اس لیے ابھی ان کے ساتھ معاملات گارنٹیوں کے ساتھ طے کر لیے جائیں دوسری جانب یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر بین الاقوامی دباو نہ آیا تو تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف بہت کچھ ہو سکتا ہے اس لیے دونوں جماعتوں کے لیے یہ اعصابی جنگ ہے اور مذاکراتی کمیٹیوں کے اراکین کے تدبر اور ذہانت کا امتحان ہے کہ کون کس کو کہاں لا کر گراتا ہے اور کون کس کو کس بات پر قائل کرتا ہے ہماری تو دعا ہے کہ یہ ڈائیلاگ نتیجہ خیز ثابت ہوں قوم جس عدم استحکام کا شکار ہے اس سے نجات ملے لوگوں کے کاروبار چلیں اور لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



