انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

ترقی کا دھوکہ، اصل چہرہ بے نقاب

تحریر:عاطف عارف

آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو حکومت کی جانب سے "ترقی” کے نعرے اور دعوے ہماری سماعتوں پر مسلسل دستک دے رہے ہیں۔ میڈیا پر بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملک معاشی بہتری کی طرف گامزن ہے، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، سب کچھ سنور رہا ہے۔ حکومتی ترجمان ایسے لب و لہجے میں گفتگو کرتے ہیں جیسے سب کچھ سنور چکا ہو، جیسے عوام اب کسی جنت میں جی رہی ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ کی شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔

وزارتِ خزانہ کی حالیہ رپورٹ خود حکومت کے دعوئوں کو جھٹلا رہی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ملکی آمدن 9 ہزار 946 ارب روپے رہی، جب کہ اخراجات 17 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ خسارہ بذات خود چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ حکومت اپنی مالی ترجیحات درست طریقے سے ترتیب دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک عام گھر کا خرچ آمدن سے زیادہ ہو، تو وہ گھر قرض لے کر کیسے ٹکے گا؟ کیا ہم قرض لے کر گھر چلانے کو "ترقی” کہیں گے؟ اور یہی کچھ اس وقت پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔

قرضوں کا دلدل اور بھاگتے ہوئے سرمایہ کار
پاکستان مسلسل قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں، اور اس کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی، بیروزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے کچلا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ملک سے فرار ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں موجودہ نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ بدعنوانی، غیر یقینی سیاسی و معاشی صورتحال، اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے نہ صرف ملکی سرمایہ کاروں کو مایوس کیا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی روک دیا ہے۔

بیوروکریسی اور اشرافیہ کی لوٹ مار
وزیر دفاع خواجہ آصف کی حالیہ ٹویٹ نے ملک کی بیوروکریسی کی کرپشن اور دوہری وفاداری کا پردہ چاک کر دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آدھی سے زیادہ اعلیٰ بیوروکریسی نے پرتگال میں پراپرٹی حاصل کر لی ہے اور شہریت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ وہی بیوروکریٹس ہیں جو عوامی وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب بیرون ملک پرتعیش زندگی گزارنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں عوام فاقہ کشی کا شکار ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مگر ملک کے چند مخصوص طبقات نے اپنے لیے جنت ارضی بنا رکھی ہے؟ سیاستدان انہی بیوروکریٹس کے بچا کھچا حصہ کھاتے ہیں اور عوام کے سامنے دلفریب تقاریر کے ذریعے حقائق چھپاتے ہیں۔ نہ ان کے پاس بیرونِ ملک شہریت ہوتی ہے اور نہ ہی پلاٹوں کی بھرمار، کیونکہ ان کا مقصد صرف انتخابات لڑنا اور پھر اقتدار کے مزے لوٹنا ہے۔

برین ڈرین اور صحت کا بگڑتا ہوا نظام
رواں سال کے صرف ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں، جن میں ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور نرسز شامل ہیں۔ یہ افرادی قوت وہ ہے جو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، مگر ہمارے ملک میں ان کے لیے نہ مواقع ہیں، نہ عزت، نہ تحفظ۔ نتیجہ یہ کہ نظامِ صحت جیسا حساس شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی، تربیت یافتہ عملے کی قلت اور بنیادی سہولیات کا فقدان عام ہوتا جا رہا ہے۔

ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ تقرری نوجوانوں کے مستقبل پر ڈاکہ
ایک اور المیہ یہ ہے کہ ملک میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور افسران کو دوبارہ ملازمتیں دی جا رہی ہیں، جب کہ ہزاروں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در بدر پھر رہے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنے پسندیدہ افسران کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیتی ہے، تاکہ اپنی مرضی کے فیصلے کروا سکے۔ اس طرح میرٹ، شفافیت اور انصاف کے تمام اصول روند دیے جاتے ہیں۔
ایک نوجوان جب دن رات محنت کرکے ڈگری حاصل کرتا ہے اور پھر نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے، تو وہ مایوسی، ذہنی دباؤ اور فرار کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیروزگاری، نفسیاتی مسائل اور منشیات کا رجحان نوجوانوں میں بڑھتا جا رہا ہے۔

نظام انصاف کی زبوں حالی
پاکستان کا نظام انصاف بھی دنیا کے نچلے ترین ممالک کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں طاقتور کے لیے قانون الگ، اور کمزور کے لیے الگ اصول ہیں۔ عام آدمی برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے، مگر بااثر طبقہ دنوں میں ضمانتیں، رعایتیں اور معافی حاصل کر لیتا ہے۔ جب ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو اعتماد، امن، اور ترقی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟

حل کیا ہےاب سوال یہ ہے کہ اس بگاڑ کو کیسے درست کیا جائے؟

سب سے پہلے، ہمیں ہر سطح پر میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہر شعبے میں اہل افراد کی تعیناتی ہونی چاہیے، چاہے وہ سرکاری نوکری ہو یا نجی ادارہ۔ ریٹائرڈ افراد کی دوبارہ تعیناتی بند ہونی چاہیے اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں۔
دوسرا، ملک میں قانون کی بالادستی کو بحال کرنا ہوگا۔ اگر بڑے مگرمچھوں کو قانون کے شکنجے میں نہ لایا گیا تو معاشرے میں بگاڑ بڑھتا چلا جائے گا۔
تیسرا، ہمیں اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافہ کے لیے موثر پالیسیز وضع کرنی ہوں گی، تاکہ قرضوں پر انحصار کم ہو۔ پبلسٹی اور بے جا تشہیر پر ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات بند کیے جائیں اور ان رقوم کو تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی پر صرف کیا جائے۔
چوتھا، ملکی اثاثوں اور افسران کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں۔ جو لوگ ملک کا سرمایہ لوٹ کر باہر جائیدادیں بنا چکے ہیں، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا، تاکہ یہاں عوام کو باعزت زندگی، روزگار، انصاف اور آزادی میسر ہو۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران اور اشرافیہ صرف اپنی ذات اور مفاد کی سوچ میں گم ہو چکے ہیں۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر اپنی سوچ نہیں بدلیں گے، تباہی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کو عقل، ایمانداری اور دیانتداری عطا فرمائے تاکہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کر سکیں۔ آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button