انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے تنازع میں امریکہ کی دلچسپی کیوں ؟

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 800 کلومیٹر طویل سرحد پر تنازعہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس کی جڑیں نوآبادیاتی دور سے ملتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، یہ تنازعہ ایک بار پھر تشدد کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں، فضائی حملے کیے گئے ہیں، اور ہزاروں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ اس تنازعہ کے مرکز میں صدیوں پرانے ہندو مندر ہیں، جن پر دونوں ممالک اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس تنازعہ کی تاریخی جڑوں، حالیہ کشیدگی کے محرکات، اور اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کیا یہ تنازعہ مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازعہ 20ویں صدی کے اوائل میں فرانسیسی نوآبادیاتی حکام کی طرف خالص کھینچی گئی سرحد سے شروع ہوا۔ اس سرحد کی کئی جگہوں پر اب بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہیں۔ خاص طور پر، کئی قدیم ہندو مندر، جیسے کہ پریہ ویہار، اس تنازعہ کا مرکز ہیں۔ یہ مندر ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں پریہ دونوں ممالک ان پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

1962 میں، کمبوڈیا نے پریہ ویہار مندر کے تنازعہ کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پیش کیا، جس نے کمبوڈیا کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، تھائی لینڈ نے اس فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا5 اور سرحدی علاقوں میں تنازعات جاری رہے۔ 2003 میں، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اس وقت مزید خراب ہوئے جب پنوم پنہ میں تھائی سفارتخانے کو نذر آتش کر دیا گیا۔ 2008 اور 2011 میں بھی اسی طرح کے تنازعات شدت اختیار کر گئے۔

حالیہ تشدد کی ابتدا اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحدی علاقوں میں فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگایا۔ کمبوڈیا کا کہنا ہے کہ تھائی فوج نے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور سرحدی علاقوں میں موجود قدیم مندروں کے قریب بمباری کی۔ رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ نے کمبوڈیائی علاقے پر بم گرائے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے، دوسری طرف کمبوڈیائی افواج نے دعوی کیاکہ ان حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا گیا۔ تھائی لینڈ کا دعویٰ ہے کہ تنازعہ اس وقت بڑھا جب اس کا ایک فوجی کمبوڈین بارودی سرنگ سے زخمی ہوا۔

اس تنازعہ نے نہ صرف سرحدی علاقوں میں تباہی مچائی بلکہ ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان روزانہ لاکھوں ڈالر کی سرحدی تجارت رک گئی ہے۔ تھائی لینڈ نے4 مسلح ڈرونز کے ذریعے کمبوڈیا کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ کمبوڈیا نے اپنی پوزیشنز کو مضبوط کرنے کے لیے نئی خندقیں کھودی ہیں۔

تھائی لینڈ کی اندرونی سیاسی صورتحال نے بھی اس تنازعہ کو ہوا دی ہے۔ تھائی لینڈ کی وزیراعظم پونگتن شیناوات کو حال ہی میں آئینی عدالت نے وزارتی اخلاقیات کی خلاف ورزی کے الزام میں معطل کر دیا۔ یہ الزام ایک لیک شدہ فون کال کے بعد لگا، جس میں انہوں نے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کو "انکل” کہہ کر پکارا اور تھائی فوج کے سربراہ کو اپنا "مخالف” قرار دیا۔ اس لیک نے تھائی لینڈ میں سیاسی طوفان برپا کر دیا اور قومی سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔

دوسری طرف، کمبوڈیا میں ہن سین، جو اب بھی ایک بااثر شخصیت ہیں، اپنے بیٹے اور موجودہ وزیراعظم ہن مانیت کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنما اپنے سیاسی اڈوں سالمی مضبوط کرنے کے لیے اس تنازعہ کو استعمال کر رہے ہیں۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جاری تنازعہ نے عالمی برادری کی توجہ حاصل کی ہے۔ الجزیرہ کے رپورٹ کے مطابق فریقین بات چیت کے لیے بہت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ملائیشیا کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم انور ابراہیم نے امن معاہدہ کروا دیا ہے، لیکن تھائی وزارت خارجہ نے فوراً اس کی تردید کر دی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کو کہا کہ امریکی اہلکار ملائیشیا میں امن کوششوں میں مدد کے لیے موجود ہیں، جبکہ انور نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کی توجہ فوری جنگ بندی کے حصول پر مرکوز ہے۔ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد دونوں رہنماؤں کو بحران کو پرامن طور پر حل کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

ادھر تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ یہ سرحدی جھڑپیں ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے لیے جنگ کے متحمل ہونے کی صلاحیت محدود ہے۔ کمبوڈیا کی معیشت سیاحت اور سرحدی تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جبکہ تھائی لینڈ بھی سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

اگرچہ تھائی لینڈ کے دعوئوں اور حملوں سے کمبوڈیا کی خودمختاری خطرے میں ہے، لیکن یہ تنازعہ تاریخی سرحدی مسائل سے زیادہ سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تھائی لینڈ 18ویں صدی سے کمبوڈیا کے علاقوں پر دعویٰ کرتا رہا ہے، لیکن عالمی عدالت انصاف نے ہمیشہ کمبوڈیا کے حق میں فیصلہ دیا۔

دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے ذریعے اس تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن تھائی لینڈ انڈیا کی طرح دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ کمبوڈیا عالمی اداروں جیسے کہ اقوام متحدہ یا آسیان سے مدد مانگ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسیان یا چین جیسے تیسرے فریق کی ثالثی سے اس تنازعہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔

دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر ان تاریخی مندروں تک رسائی کے معاہدے پر غور کرنا چاہیے۔ یہ مندر سیاحت کے لیے ایک بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ تاہم، دونوں اطراف کے رہنماؤں کی قوم پرستانہ بیان بازی اور سیاسی مفادات اس تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازعہ تاریخی، ثقافتی، اور سیاسی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اگرچہ موجودہ تشدد نے علاقائی استحکام کے لیے خطرات کو بڑھا دیا ہے، لیکن دونوں ممالک کے پاس اس تنازعہ کو سفارتی طور پر حل کرنے کا موقع موجود ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر آسیان، چین، یا حتیٰ کہ امریکی حمایت سے، اس تنازعہ کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، جب تک دونوں ممالک اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہیں گے، یہ تنازعہ بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button