جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی ایران کو فوری جوہری مذاکرات کی پیشکش
تنائو پر گہری نظر، چاہتے ہیں معاملات مزید خراب ہونے سے پہلے سفارتی حل نکالا جائے، امید ہے تہران مثبت جواب دیگا، جرمن وزیر خارجہ
برسلز، بیجنگ، بغداد،دوحہ (ویب ڈیسک ) جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران کو جوہری پروگرام پر فوری مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان واڈے فل نے کہا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
جوہان واڈے فل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یورپی طاقتیں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں جاری تنا ئوپر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاملات مزید خراب ہونے سے پہلے سفارتی راستے سے حل نکالا جائے۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے فوری مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے، ایران نے ماضی میں مذاکرات کے مواقع ضائع کیے لیکن امید ہے اب تہران مثبت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں یورپی طاقتیں ایران سے سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ ایٹمی تنصیبات پر حملے کرکے اسرائیل خطرناک روایت قائم کر رہا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں چین ایران کے ساتھ ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے کبھی بھی پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف عراق نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی طیاروں کو ایران پر حملوں کے لیے عراقی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکے۔
عراقی فوج کے ترجمان صباح النعمان نے ایک بیان میں کہا کہ عراق اور امریکہ کے درمیان طے شدہ معاہدوں کے تحت صدر ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اسرائیل کو روکے۔ مزید برآں قطر نے بھی اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گزشتہ شام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کیا۔ صدر پزشکیان نے امیر قطر سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے دن سے ہی میں نے ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش کی تاکہ خطے میں ترقی اور استحکام لایا جا سکے۔ تاہم، پہلے دن سے ہی صیہونی حکومت نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے اور خطے کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایران پر حملے میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت کی امریکی حمایت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر اسرائیلی حکومت کی جنگی پالیسیوں کے ذریعے اپنے ناجائز مطالبات نہیں تھوپ سکتا۔
ایرانی صدر نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف اسلامی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کی سالمیت اور عوام کے حقوق کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا کہنا تھا کہ قطر اس بزدلانہ جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اس کا جواب دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور تنازعات کے حل اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے ایران کے مذاکرات کے نظریے کی حمایت کرتا ہے۔ مزید کہا کہ قطر اس موقف کو اپنی سفارتی سرگرمیوں میں دوسرے ممالک تک پہنچا رہا ہے اور صیہونی حکومت کی جارحیت کو روکنے کے لیے تعاون کے استحکام اور دبائو کے حق میں ہے۔



