فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر آجکل امریکہ کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر گاہے بگاہے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے ،شریکوں کوبڑی آگ لگتی ہے، وہ سڑ بھن کر کوئلہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مشرقی ہمسایہ جسے ہم سے خدا واسطے کا بیر ہے وہ پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت سے بہت پریشان ہے۔ وہ امریکہ کو اپنی بڑی آبادی کی اہمیت جتلانے کی کوشش کرتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مودی کے نام سے بھی چڑ ہوچکی ہے۔ انھوں نے پاک بھارت سیز فائر کو مودی کی چھیڑ بنا لیا وہ کوئی موقع ضائع کیے بغیر سیز فائر کا قصہ چھیڑ دیتے ہیں جس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی بالادستی کی داستان عیاں ہو جاتی ہے۔
دراصل ٹرمپ کو مودی پر بہت غصہ ہے کہ انھوں نے مودی کے ہی کہنے پر پاک بھارت جنگ بند کروائی، انھوں نے پاکستان کے سپہ سالار کو فون کرکے سیز فائر کے لیے کہا پاکستان نے امریکہ کو عزت دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا بھارت نے جنگ بندی کے موقع پر ٹرمپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ متنازعہ امور پر ڈائیلاگ کرے گا لیکن جنگ بندی کے بعد مودی مکر گیا ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات کی، بھارت نے کہا ہم نہیں مانتے ٹرمپ کے ضابطے۔
بھارت نے نہ صرف ٹرمپ کی ثالثی کو ماننے سے انکار کر دیا بلکہ مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا دل کرے گا ہم شملہ معاہدہ کے تحت دوطرفہ بات چیت کے ذریعے متنازعہ امور کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے جس کا امریکہ کو واضح پیغام تھا،تہانوں چوہدری بنن دی ضرورت نیں اساں اپنا مسئلہ آپے ای حل کر لاں گے،اس کے برعکس پاکستان نے امریکی صدر کے کردار کو سراہا اور انھیں نوبل امن ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی جس سے پاکستان امریکہ کے اور زیادہ قریب ہو گیا ان ہی دنوں فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر امریکی افواج کی تقریبات میں شرکت کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے مودی ان دنوں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کینڈا میں تھے ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کو فون کیا اور انھیں کھانے کی دعوت دی جو مودی نے ٹال دی ٹرمپ کو اس پر بڑا غصہ آیا کہ اس کے کہنے پر میں نے سیز فائر کروایا اور اب یہ مسلسل مجھے نظر انداز کر رہا ہے حالانکہ دنیا کے تمام حکمران امریکی صدر سے ملاقات کے لیے لابیاں کرتے ہیں دراصل مودی کو بھنک پڑ گئی تھی کہ ٹرمپ مجھے کھانے پر بلا کر جنرل عاصم منیر کے ساتھ بٹھا دے گا جس کا بلوم برگ نے بھی ذکر کیا ہے۔
مودی کسی طور بھی جنرل عاصم منیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ تھا ذرائع تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کر کے تصویر بنوانا چاہتے تھے اور دنیا کو یہ باور کروانا چاہ رہے تھے کہ دیکھو میں نے دو ایٹمی طاقتوں کی صلح کروا دی ہے مودی کو یہ کسی صورت وارا نہیں کھاتا تھا اسے پتہ تھا کہ اگر ایسا ہو گیا تو جنگ تو وہ پہلے ہی ہار چکا ہے، اب وہ سیاست سے بھی فارغ ہو جائے گا۔ مودی کے انکار نے بھارت کو امریکہ سے دور کر دیا یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اب بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ بھارت کے روس اور ایران سے تیل خریدنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
ماضی میں بھارت ایران اور روس سے سستا تیل خرید کر موجیں مارتا رہا ہے اب بھارت کے برے دن شروع ہو چکے ہیں بھارت دنیا میں تنہائی کا شکار ہو رہا اس کی معیشت کا بھٹہ بیٹھ رہا ہے طرح طرح کی پابندیوں سے بھارت کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ بھارت کے سنجیدہ حلقے یہ سوچ رہے ہیں کہ کسی طرح مودی سے جان چھڑوا لی جائے ورنہ بھارت کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔
بھارت رجیم چینج کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ اگر مودی رہتا ہے تو بھارت کے مسائل بڑھتے جائیں گے نئی بھارتی قیادت ہی بہتری کی راہ نکال سکتی ہے۔ مودی کو اب کوئی منہ لگانے کے لیے تیار نہیں، مودی اب چین اور روس سے راہ ورسم بڑھانے کی کوشش میں ہے لیکن دونوں مودی کی ارتھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں جبکہ پاکستان کے لیے نہ صرف دنیا کے دروازے کھل رہے ہیں بلکہ سرمایہ کاری تجارت اور تعاون کے بیش قیمت مواقع میسر آ رہے ہیں۔
دنیا مختلف شعبوں میں پاکستان سے تعاون کی خواہاں ہے ہمارے ہاں کچھ لوگ اس پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ کی مہربانیوں سے بچیں کل کو امریکہ پاکستان کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ کر جائے ان لوگوں کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے۔ دنیا تو ایسے مواقعوں کی تلاش میں رہتی ہے۔
اگر پاکستان کو خوش قسمتی سے ایسے مواقع مل رہے ہیں تو اس سے فائدہ اٹھایا جائے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ بھارت کو امریکہ سے مزید دور کیا جائے یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بھی امتحان ہے ہمیں نہ صرف امریکہ سے خوشگوار تعلقات کا فائدہ اٹھانا ہے بلکہ چین، روس،اور ایران سے بھی اپنے اچھے تعلقات پروان چڑھانے ہیں تاکہ بھارت کو دنیا میں اکیلا کر دیا جائے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان کی عسکری قیادت کا ڈنکا بج رہا ہے فیلڈ مارشل کا ڈیڑھ ماہ میں یہ امریکہ کا دوسرا دورہ ہے، انھیں امریکہ میں خصوصی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔
ویسے تو وہ امریکی سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ اور نئے سپہ سالار کی تقرری کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے ہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے اعزاز میں ظہرانہ دے رہے ہیں۔ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک دونوں راہنماؤں کی ملاقات بھی ہو چکی ہو گئی اور ظہرانے اور ملاقات کی تفصیلات بھی سامنے آ چکی ہوں گی۔ ڈیڑھ ماہ میں فیلڈ مارشل کی ڈونلڈ ٹرمپ سے دوسری ملاقات ان کے اعزاز میں امریکی صدر کی دوسری دعوت دنیا کو حیران کر رہی ہے کہ آخر ایسا کیا معاملہ ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کی عسکری قیادت کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں۔ سیّد عاصم منیر کے مختصر مدت میں امریکہ کے دوسرے وزٹ کے بعد وہ دنیا کی بااثر شخصیت میں شمار ہونے لگے ہیں یقینی طور پر ان کے اس کردار سے پاکستان کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ دنیا کے بہت سارے ممالک اور اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔



