پاکستانتازہ ترینکالم

زبان کی بیماری ۔۔

ایازخان

مریم نواز کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مخالفین کو جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے تشبیہ دی، ایک سیاسی تنازع بن گیا۔ اگرچہ انہوں نے پی ٹی آئی یا عمران خان کا نام نہیں لیا، ان کا مقصد واضح تھا: وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ یہ بیان جمہوری سیاست میں اختلاف رائے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔

ایک تقریب میں مریم نواز کا کہنا تھا: "انہیں فٹ اینڈ ماؤتھ کی بیماری ہے” اور "ہم نہ صرف جانوروں کی بیماریوں کا علاج کریں گے بلکہ کئی سیاسی جماعتوں کو جو بیماریاں ہیں اس کا بھی علاج کریں گے”۔
اس قسم کی زبان سیاسی ماحول میں زہر گھولتی ہے۔ جمہوریت میں اختلافات کو احترام کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اس زبان سے تقسیم بڑھتی ہے۔ اعلامہ اقبال نے فرمایا تھا:
"یہ جو حرفِ دل نواز ہے، اُس کا اثر ہونا چاہیے،
یہ جو لفظِ سوز ہے، وہ جان و دل میں گھر ہونا چاہیے”

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ الفاظ کا اثر دلوں پر گہرا ہوتا ہے، اور جو زبان استعمال کی جائے، اس کا مقصد انسانیت اور احترام کو فروغ دینا چاہیے۔

دنیا بھر میں اس طرح کے بیانات کے اثرات سامنے آ چکے ہیں۔ 2016 میں امریکہ میں سیاسی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی، جس سے ملک میں مزید تقسیم پیدا ہوئی۔ نامور صحافی، مضمون نگار ، ناول نگار اور نقاد جارج اورویل نے اپنی ایک کتاب میں کہا تھاکہ "جب زبان کو منفی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ سچائی کو چھپانے اور جھوٹ کو پھیلانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔”

جب مریم نواز پر بات کی جاتی ہے، ان کے حامی یہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک عورت ہیں، اس لیے ان کی ذات پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، یہ سوال ہے کہ مریم نواز خود اپنی زبان کے انتخاب میں محتاط کیوں نہیں رہتیں؟ اگر وہ مخالفین کو جانوروں کی بیماریوں سے تشبیہ دیں تو اس کا کیا اثر پڑے گا؟ ان کو بھی اپنے الفاظ پر قابو پانا چاہیے تاکہ ان کی ذات پر تبصرے نہ کیے جائیں۔

مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں، اور اس حیثیت میں انہیں ذمہ دار رہنما کی طرح کام کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات کو گالیوں اور توہین سے نہیں بلکہ تعمیری بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف ان کی جماعت کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ پورے سیاسی ماحول میں احترام کی فضا قائم ہوگی۔

مخالفین کو جمہوری فضا میں جگہ دینا ضروری ہے۔
دنیا بھر میں جمہوریت میں اختلاف رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر مریم نواز اپنے مخالفین کو جانوروں کی بیماریوں سے تشبیہ دے کر سیاسی مکالمے کو زہر آلود کریں گی تو یہ جمہوریت کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کو اپنی آواز اٹھانے کا حق ہے، اور اس آواز کو احترام کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔

جمہوریت میں اخلاقی معیار کی ضرورت

سیاسی زبان کی اہمیت کو سمجھے بغیر جمہوریت کا فروغ ممکن نہیں۔ اگر ہم نے جمہوریت میں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے بیچ احترام اور تحمل کے اصولوں کو نظر انداز کیا تو ہم ملک میں سیاسی عدم استحکام کو بڑھا دیں گے۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہیں تاکہ جمہوریت میں اخلاقی معیار برقرار رہ سکے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
"زبان کا جو استعمال ہے، وہ دل کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔”
یعنی جو ہم بولتے ہیں، وہ ہمارے جذبات اور نظریات کو ظاہر کرتا ہے، اور سیاسی رہنماؤں کو ہمیشہ اپنے الفاظ کی طاقت کا خیال رکھنا چاہیے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button