لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)ایس این جی پی ایل کے ملازمین نے اعلیٰ افسر صولت رشید لون پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کردیئے ۔
جون 2021میں ڈپٹی چیف انجینئر ایل این جی، ایل پی جی پراجیکٹ صولت رشید لون بھی ترقی پانے والوں میں شامل تھے،جی ایم پی اینڈ ڈی صولت رشید پر اپنے ہی سابق سیکرٹر ی کی جانب سے الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ صولت رشید نے مجھے بھی کرپشن پر مجبور کرنے کی کوشش کی تاہم میں نے ان کا آ لہ کا ر بننے کی بجا ئے اپنی ڈیو ٹی تبدیل کرالی جس کی پاداش میں صولت رشید تاحال مختلف طر یقوں سے اپنے اختیا رات کا نا جا ئز استعما ل کر تے ہو ئے تنگ کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طورپرصولت رشید کے زیر استعما ل دو گا ڑ یا ں رہیں جن کا رجسٹر یشن نمبر ایف اے اے 869اور ایف اے اے 244ہے یہ گا ڑ یا ں عر صہ دراز سے نا ن ٹر یکرچل رہی ہیں مبینہ طور پرصولت رشید ان گاڑیوں کے بہانے پٹر ول بیچ کر ڈرائیو روں کے ذریعے رقم وصو ل کر تے رہے ہیں۔
محکمہ ایس این جی پی ایل کے ایک اور ملازم خو اجہ خر م جو کہ ڈرائیور ہیں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے صولت رشید کی جانب سے کر پشن کو روکنے کی کو شش کی، میا نو الی میں مبینہ طورپرصولت رشید کے سا تھ ملے ہو ئے لو گو ں جن میں دوسر ے ڈرائیو ر اور سر وئیر شا مل ہیں جو کمپنی کا قیمتی سا ما ن بیچنے میں شا مل تھے انہوں نے مجھے اس عمل پر نوکری سے نکلوانے کی کوشش کی۔
کمپنی کے دوملازمین کے والد خواجہ عبدالجبار نے بھی صولت رشید پر الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے کہا ہےکہ میرے پاس صولت رشید کی کرپشن کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں جو وزیر اعظم انکو ائری کمیٹی کے چیئر مین اور ڈی جی ایف آ ئی کو بھجواچکا ہوں۔
خواجہ عبدالجبار کا کہنا ہےکہ میری 83سال عمر ہے عارضہ قلب میں مبتلا ہوں اوردل کی بیٹری لگی ہوئی ہے میرے بچوں کو کرپشن بے نقاب کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں، میر ی وزیر اعظم پا کستا ن میا ں محمد شہبا ز شر یف ،وزیر اعظم انکو ائری کمیٹی کے چیئر مین بر یگیڈ یئر مظفر علی رانجھا اور ڈی جی ایف آ ئی اے راجہ رفعت مختا ر سے اپیل ہے کہ نوٹس لے کر فوری انکوائری کرائی جائے ۔
دوسری جانب سوئی ناردرن کےمتعلقہ حکام نے جی ایم پی اینڈ ڈی صولت رشید پر الزاما ت کی تردید کرتےہوئے کہا ہے کہ الزامات کی کوئی حقیقت نہیں سارے الزامات بے بنیاد ہیں۔



