پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سپریم کورٹ ، ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم کی فوری گرفتاری لازمی قرار

اگر 33سال میں کیس کافیصلہ نہیں ہوا تو عدالت کی خامی، والد کوبچے سے ملاقات سے نہیں روک سکتے:ریمارکس

اسلام آباد:(کورٹ رپورٹر)سپریم کور ٹ نے اہم فیصلے میں کہاہے ضمانت قبل ازگرفتاری مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے،صرف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرناگرفتاری کو نہیں روک سکتا،عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد انصاف کی بنیاد ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 4صفحات کا فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق عبوری تحفظ خودکار نہیں، عدالت سے واضح اجازت لینالازم ہے۔

آئی جی پنجاب نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی، پولیس گرفتاری میں تاخیر کا جواز انتظامی سہولت نہیں بن سکتی،تاخیر سے نظام انصاف اورعوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے،اپیل زیرالتوا ہو تو بھی گرفتاری سے بچاؤممکن نہیں جب تک کوئی حکم نہ ہو۔

عدالت عظمیٰ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ملزم زاہد خان و دیگر کی گرفتاری میں 6 ماہ کی تاخیر پر واضح کیالاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے باوجود پولیس نے گرفتاری کےلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا، درخواست گزار وکیل کی جانب سے اپیل واپس لینے پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے اگر 33سال میں کیس کافیصلہ نہیں ہوا تویہ عدالت کی خامی ہے، اس میں درخواست گزار کی غلطی نہیں،اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کیس کافیصلہ نہ ہونے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے ہائی کورٹ کی جانب سے ثالثی کے معاملہ پر کیس فیصلہ کے لئے واپس ماتحت عدالت کوبھجوانے کے خلاف ایم ایس اورینٹ ایسوسی ایٹ آرکیٹیکٹس اینڈ کنٹریکٹرز (پرائیویٹ لمیٹڈ)فیصل آباد کی جانب سے فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف دائر درخواست پرکہاماتحت عدالت تیزی سے ٹرائل مکمل کرکے چھٹیوں کے علاوہ دو ماہ کے اندرفیصلہ کرے اور ہردوہفتے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو پیشرفت رپورٹ جمع کرائے۔

بینچ نے چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے غیرقانونی طور پر پلاٹ کی فروخت کے معاملہ پراسلام آباد ہائی کورٹ کے یکطرفہ فیصلہ کے خلاف خوشی محمد اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر اصل مالک کو پیشی کے حوالہ سے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے کہا ہے والد کوبچوں سے ملنے کاحق ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ والد کوبچے سے ملاقات سے نہیں روک سکتے۔بینچ نے ایپلٹ کورٹ اورپشاورہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قراردیتے ہوئے خاوند کی جانب سے نکاح کے وقت 30تولے سونا بیوی کواداکرنے کے حوالہ سے معاملہ فیصلے کے لئے واپس ایپلٹ کورٹ کوبھجوادیا۔ بینچ نے کیپٹن فرح اور دولت خان مروت کی جانب سے شادی ختم کرنے اوربچے کی تحویل کے معاملہ پرایک دوسرے کے خلاف 4درخواستوں پرسماعت کی۔ چیف جسٹس نے دونوں فریقین کے وکلاء کوہدایت کی کہ آپس میں بیٹھ کر والد کی بچے سے ملاقات کاشیڈول طے کرکے دیں، اسی کے مطابق ہم حکم جاری کریں گے۔ فریقین کے وکلاء مشاورت کرنے کے بعد بچے کی والد سے ملاقات کے حوالہ سے کسی نتیجہ پرنہ پہنچ سکے۔کورٹ ایسوسی ایٹ احمد سعید نے ججز کو صورتحال سے آگا ہ کردیا جس پر دونوں ججز نے کہا ہم خود بچے کی والد سے ملاقات کے معاملہ پر فیصلہ کردیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button