پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحت

سی این این اردو کی خبر پر ایکشن،سروسزہسپتال میں پٹرول چوری کی تحقیقات شروع

سیکرٹری صحت عظمت محمود کی کرپشن کیخلاف زیروٹالرنس پالیسی جاری ،ہیڈڈرائیورعمران افضل کو26جون کو ریکارڈسمیت پیش ہونے کا حکم

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)سی این این اردو کی خبر پر حکام نے نوٹس لیتے ہوئے سروسز ہسپتال میں پٹرول سکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کردیا ،خزانے کو مبینہ طورپر لاکھوں روپے کےنقصان کی انکوائری کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

سیکرٹری صحت عظمت محمود کی کرپشن کیخلاف زیروٹالرنس پالیسی جاری ہے ،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ میر محمدنواز نے پٹرول کے بے دریغ استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال پرسروسز ہسپتال کے ہیڈ ڈرائیورعمران افضل کوریکارڈ سمیت طلب کیا ہے۔ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ طیب طاہر اور سیکشن آفیسر محمد عاطف نے بھی سخت نوٹس لیا ہے۔

قبل ازیں ایم ایس سروسزہسپتال عابد غوری سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا تھا تاہم اب محکمہ پنجاب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے انچارج ڈرائیور محمد عمران کو کرپشن کے حوالے سے شکایات پرمتعلقہ ریکارڈ سمیت 26جون بروز جمعرات طلب کرلیا۔ایم ایس سروسزہسپتال کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس حوالے سے درخواست گزار کو مطلع کیا جائے اورگریڈ17کے افسرکومقررکیاجائے جو حقائق سے باعلم ہوایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی تمام متعلفہ ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

سروسز ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج برقرار ہے ،سی این این اردوڈاٹ کام نے پٹرول کے بے دریغ استعمال اور حکومتی وسائل کو نقصان پہنچانے کی خبربریک کی تھی۔

سی این این اردوکو موصول ریکارڈ کے مطابق سابق ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر منیر ملک کے دور میں جنوری 2024 میں 3936 لیٹر فروری میں 3832 مارچ میں 3789 لیٹر استعمال ہواجبکہ سابق ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان نے اسے کم کر کے 2640 لیٹر پر چھوڑا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس ذوالقرنین کےمطابق پٹرول 8 سے 9 لاکھ کا ماہانہ استعمال ہوتا ہے جو پہلے 13 لاکھ تھا جبکہ موجودہ انچارج ڈرائیور عمران نے ایم ایس کی آشیر آباد سے اسے دوبارہ 3500 لیٹر تک پہنچا دیا۔

پڑول ایم ایس ڈائریکٹر فنانس کی گاڑی سمیت پروٹوکول اور ایمبولینس کی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے،شہریو ں نے وسائل کے بے دریغ استعمال پر وزیر اعلیٰ مریم نواز،محکمہ صحت کےحکام سے گزشتہ 8ماہ کے دوران وسائل کی لوٹ مار کا آڈٹ کرانے اورحکومتی وسائل کو نقصان پہنچانے والے ذمہ دران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button