عید الاضحٰی پر بھی اسرائیلی بمباری، مزید 70 فلسطینی شہید،حماس کی کارروائی ،5 صہیونی کمانڈوز ہلاک
خان یونس میں دو اسرائیلی کمانڈوز زخمی، شہداء کی مجموعی تعداد 54 ہزار 677 ہوگئی،اسرائیلی طیاروں نے بیروت کوبھی نشانہ بنایا، مغربی کنارے کی صورتحال بھیانک:گوتریس
غزہ :(ویب ڈیسک )غزہ عید الاضحٰی کے روز بھی ماتم کدہ بن گیا،اسرائیلی طیارے نے خان یونس اور غزہ سٹی پر بم برسا دئیے،چوبیس گھنٹے میں مزید سترفلسطینی شہید ہو گئے،شہدا کی مجموعی تعداد چون ہزار چھ سو ستتر ہوگئی،عید کے روز ایک ماں دو بیٹوں سے محروم ہوگئی۔
اسرائیل نے عید پر بھی غزہ میں نسل کشی جاری رکھی،عید کی نماز کی مہلت نہ قربانی کا کوئی وسیلہ،مظلوم فلسطینیوں کیلئے صرف زندہ رہنا ہی چیلنج بن گیا، اہلی عرب ہسپتال پربمباری سے چارصحافی شہید ہوگئے، خان یونس میں مجاہدین نے اسرائیلی فوج پرگھات لگا کرحملہ کردیا جس کے بعداسرائیلی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے اوپر نچلی پروازیں کیں اور بیروت پر بھی بم برسا دیئے،لبنانی شہری عید کے روز بھی جنازے اٹھاتے رہے ۔
ادھر غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں حماس کے بڑے حملے میں پانچ اسرائیلی کمانڈوز مارے گئے جبکہ دو شدید زخمی ہوئے ۔ا سرائیلی فوج کی ایلیٹ فورس کا بارہ رکنی دستہ خان یونس میں تباہ شدہ بلڈنگ میں گھات لگائے مجاہدین کا نشانہ بنا۔مجاہدین نے کارروائی کو عید کا تحفہ قرار دیا۔
اسرائیل غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی علامت کے طور پر آنے والے فریڈم فلوٹیلا کو غزہ میں داخل نہیں ہونے دے گا۔اسرائیلی ایلیٹ کمانڈر یونٹ اور میزائل بردار جنگی کشتی کو فریڈم فلوٹیلا روکنے کے لیے تعینات کردیاگیا۔فریڈم فلوٹیلا پر سوار انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ، غزہ کے فلسطینیوں کو خوراک و امدادی سامان کی ترسیل اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے جہاز پر موجود جن لوگوں نے بھی اسرائیلی فوج کا حکم نہ ماناانہیں گرفتار کر کے واپس ڈی پورٹ کر سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی کوششوں کو تیز تر کریںماس وقت ہم غزہ اور مغربی کنارے میں جو بھیانک صورتحال دیکھ رہے ہیں اس میں انتہائی ضروری ہے کہ ہم دو ریاستی حل کی امید کو زندہ رکھیں۔
جنرل اسمبلی کی جانب سے طلب کردہ کانفرنس کا مقصد بھی عملی لائحہ عمل ترتیب دینا ہے جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر استوار ہو،جو لوگ دو ریاستی حل پر شک کرتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں متبادل کیا ہے؟، آیا متبادل ایک ایسی ریاست ہے جس میں فلسطینیوں کو بیدخل کر دیا جائے یا انہیں ان کی اپنی سرزمین پر بغیر کسی حق کے زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے؟۔



