غزہ:اسرائیلی بمباری،مزید32فلسطینی شہید،81زخمی
قابض فوجیوں نےگرفتار ڈاکٹر، مریضوں کی برہنہ پریڈکرائی،تھوکتے رہے
غزہ :(ویب ڈیسک)اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں پانچ مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 32فلسطینی شہید اور 81زخمی ہو گئے۔
صیہونی طیاروں نے خیمہ بستیوں اور کھانا لینے کیلئے جمع لوگوں کو نشانہ بنایا۔ قبل ازیں اسرائیل نے غزہ میں آخری بڑے اور فعال کمال عدوان ہسپتال کو آگ لگا دی تھی اور بعد ازاں اسے بند کر دیا۔
اسرائیلی فوجی ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ سمیت 300 سے زائد ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل سٹاف اور مریضوں کو گرفتار کر کے لے گئے تھے جن میں سے چند افراد کو رہا کر دیا گیا۔
واپس آنے والے افراد نے بتایا کہ صیہونی فوجیوں نے تمام لوگوں کو برہنہ کر کے پریڈ کروائی اور سخت سردی میں کھلے آسمان تلے گھنٹوں تک کھڑے رکھا، فوجی ان پر تھوکتے رہے اور تضحیک آمیز سلوک کا نشانہ بنایا۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شمال میں طبی، انسانی اور شہری دفاع کے نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
امدادی تنظیموں نے بتایا کہ بے گھر افراد کیلئے لگائے گئے ایک لاکھ 35ہزار خیموں میں سے ایک لاکھ 10ہزار تباہ ہو چکے ہیں، سخت سردی میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
فی الوقت بچے سب سے زیادہ خطرے کی حالت میں ہیں، اسرائیلی فوج نے کھلے آسمان تلے موجود بے گھر افراد تک خوراک اور امدادی سامان پہنچنے سے روک دیا ہے۔



