FBRکی کارکردگی کا جائزہ لیا، ہر شخص معیشت میں کردار ادا کرے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 13.5فیصد پر لے جائینگے، وزیرخزانہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وفاقی ریونیو بورڈ ( ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا اور منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائے گی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی کو ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر بریفنگ دی گئی۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے شرکا کو بتایا کہ ٹیکس قوانین ترمیمی بل میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے، صرف نان فائلنگ اور انڈر فائلنگ کو ٹھیک کر رہے ہیں، انکم ڈیکلیئریشن اور اخراجات میں فرق بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کاروبار غیر رجسٹرڈ ہیں یا کم ٹیکس ادا کر تے ہیں، سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا گیا ہے۔
فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا اور منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائے گی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ نئی تجاویز سے 95فیصد لوگ متاثر نہیں ہوں گے، ترامیم سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح پانچ سال میں 18فیصد تک جائے گی، 62لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، 42لاکھ افراد ایکٹو ٹیکس پیئرز ہیں۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کاروباری افراد سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے خوفزدہ ہیں، کاروباری افراد کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن بارے کوئی علم نہیں ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، اور ادارے سے جون میں کارکردگی بارے پوچھا جائے گا جبکہ اس بل پر کاروباری افراد سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کر رہے انہیں ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں، ہر شخص کو معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10.3فیصد ہے جو آئندہ 3سال میں 13.5فیصد پر لے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ٹیکس اتھارٹی پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت کا سائز کم اور ایف بی آر پالیسی یونٹ کو الگ کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کو ایک مزاحیہ ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، ہمارے ہمسایہ ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18.5فیصد ہے، بطور ملک ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔



