پاکستانتازہ ترینصحتکالم

قوتِ سماعت سے محروم بچوں کی کوکلئیر امپلانٹ سرجری

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پاکستان میں سرکاری اداروں کی طرف سے ملازمین اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات وقتاً فوقتاً کیے جاتے رہے ہیں، لیکن ان دنوں پنجاب پولیس کی قیادت میں ایک ایسا قابلِ تقلید منصوبہ سامنے آیا ہے جو نہ صرف انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال ہے۔ بلکہ یہ اقدام فلاحی ریاست کے خواب کو بھی عملی صورت دینے کی سعی ہے۔ یہ منصوبہ ہے "پولیس ملازمین کے قوتِ سماعت سے محروم بچوں کی بحالی کا مشن” جسے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی سرپرستی میں نہایت منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں معذور افراد، بالخصوص قوتِ سماعت سے محروم بچوں کی بحالی ہمیشہ سے ہی ایک نظر انداز شدہ مسئلہ رہا ہے۔ اگرچہ مختلف فلاحی ادارے اور NGOs اس میدان میں کام کرنے کا دعویٰ تو کرتے رہے ہیں، لیکن سرکاری سطح پر منظم اقدامات کی کمی محسوس کی جاتی رہی یے۔ پولیس جیسا ادارہ جو خود بے پناہ دباؤ اور خطرات کا شکار ہوتا ہے، اس کا اپنی فورس کے اہلکاروں کے بچوں کی بحالی کیلئے اس درجے پر اقدام کرنا نہایت خوش آئند اور تاریخی پیشرفت ہے۔ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

کوکلئیر امپلانٹ سرجری ایک جدید طبی عمل ہے جو پیدائشی یا بعد از پیدائش قوتِ سماعت سے محروم بچوں کو دوبارہ سننے اور بعدازاں بولنے کے قابل بناتا ہے۔ اس سرجری کی لاگت پاکستان جیسے ملک میں عام افراد کی دسترس سے باہر ہے۔ ایسے میں پنجاب پولیس کی جانب سے اپنے ملازمین کے بچوں کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کی منظوری اور عملدرآمد ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے مزید 07 پولیس ملازمین کے قوتِ سماعت سے محروم بچوں کی بحالی کیلئے 1 کروڑ 16 لاکھ 20 ہزار روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔ ہر بچے کے لیے فی کس 16 لاکھ 60 ہزار روپے کی رقم مخصوص کی گئی ہے۔ اس سے قبل 34 بچوں کی کامیاب کوکلئیر امپلانٹ سرجریز مکمل کی جا چکی ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 7 کروڑ 17 لاکھ 20 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ تمام سرجریز ایور کئیر ہسپتال لاہور جیسے معتبر طبی ادارے میں انجام دی جا رہی ہیں جو اس منصوبے کے معیار اور سنجیدگی کا ثبوت ہے۔

یہ سرجری متاثرہ بچوں کیلئے امید کی کرن ثابت ہوئی ہے۔ ایسے پولیس اہلکار جو زندگی کے ہر میدان میں اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے خطرات مول لیتے ہیں، ان کے بچوں کی معذوری پر ریاست کی سطح پر ردعمل نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ایک انسانی تقاضا بھی ہے۔ نائب قاصد سے لے کر اے ایس آئی تک جن کے بچوں کا ذکر پریس ریلیز کی حالیہ فہرست میں آیا ہے، ان کیلئے یہ اقدام نئی زندگی کا پیغام ہے۔ طاہر عمر کی ایک سالہ بیٹی ہو یا کانسٹیبل محمد آصف کا پانچ سالہ بیٹا، سب کیلئے یہ ایک نئی آواز، نیا احساس اور نئی امید ہے۔
پنجاب پولیس کی یہ پہل سماجی ذمہ داری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ پولیس کا یہ اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ جب ادارے اپنے افراد کے لیے انسانی بنیادوں پر پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں تو وہ نہ صرف ادارے کے وقار کو بڑھاتے ہیں بلکہ سماج میں بھروسے اور اعتبار کی فضا بھی قائم کرتے ہیں۔ یہ اقدام دیگر سرکاری و نجی اداروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن سکتا ہے کہ وہ صرف کام لینے کے بجائے اپنے افراد کی فلاح و بہبود پر بھی توجہ دیں۔
انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پولیس ملازمین کے بچوں کی بحالی کیلئے جاری یہ مشن دراصل ایک ایسا بیانیہ ہے جو ریاست کے "فلاحی” تصور کو عملی شکل دے رہا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف پولیس فورس کا مورال بلند ہوگا بلکہ یہ اقدام معاشرتی یکجہتی اور باہمی ہمدردی کو بھی فروغ دے گا۔ امید ہے کہ یہ مشن مزید وسعت اختیار کرے گا اور دوسرے صوبوں کی پولیس اور دیگر ادارے بھی اس سے سبق سیکھیں گے۔
یہ مشن صرف بچوں کی سننے کی صلاحیت کی بحالی ہی نہیں، بلکہ انسانیت، احساس اور فلاح کا روشن استعارہ بھی ہے۔ آئی جی پنجاب صاحب میں آپ سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button