لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)بیجنگ انڈر پاس میں نجی سکیورٹی کمپنی کے گارڈ کی شہری پر براہ راست فائرنگ کے واقعہ کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے نجی سکیورٹی کمپنی کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا ۔ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اونکس سکیورٹی اینڈ مینجمنٹ سروسز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کمپنی 30 یوم میں شوکاز نوٹس کا تحریری جواب جمع کروانے کی پابند ہے۔ غیر تسلی بخش جواب پر سکیورٹی کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنی کے دفاتر عارضی طور پر سیل کر دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی کمپنی پر پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) (ترمیم) ایکٹ 2004 ضابطے کی پابندی لازم تھی۔ ضابطے کے مطابق سکیورٹی کمپنی کسی ایسے شخص کو گارڈ نہیں رکھ سکتی جو ذہنی یا جسمانی طور پر موزوں نہ ہو۔
محکمہ داخلہ نے سکیورٹی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو سوموار کو پرسنل ہیئرنگ کیلئے بھی بلا لیا ہےسیکیورٹی کمپنی کی خدمات لینے والا کون تھا؟
دریں اثنا، واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق روفاس کرسٹی نامی پادری نے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کی سروسز لیں، روفاس کرسٹی کے 2 امریکی مہمان تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق میزبان اور مہمان امریکی شہری ایک ساتھ اگلی گاڑی میں سوار تھے، سڑک پر اوور ٹیکنگ کے دوران سیکیورٹی گارڈز کی شہری کے ساتھ تکرار ہوئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق گارڈز اور شہری کے درمیان معاملہ روڈ ریج بنا اور فائرنگ کردی گئی، جس کے بعد روفاس کرسٹی امریکی مہمانوں کے ہمراہ موقع سے روانہ ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق روفاس کرسٹی اور امریکی مہمانوں کو ایک پولیس اہلکار بھی سیکیورٹی کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔



