بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

مریم نواز کا سیلاب زدگان کی مکمل بحالی کاعہد

حالیہ سیلاب پنجاب کی تاریخ میں ایک ایسا ہولناک امتحان ثابت ہوا جس نے ہر طرف ویرانی اور بے بسی کی تصویریں بکھیر دیں۔ بارشوں کی مسلسل یلغار اور دریاؤں میں بڑھتی ہوئی طغیانی نے جہاں کھیت کھلیان اجاڑ ڈالے وہاں ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آ گئے، سینکڑوں مکانات زمین بوس ہوئے، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی بہہ گئے اور لوگوں کی برسوں کی محنت لمحوں میں بہہ کر دریاؤں کی بے رحم لہروں میں غائب ہو گئی۔

 

اس ہنگامہ خیز صورتحال میں ہر آنکھ حکومت کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی کہ آیا وہ حسب روایت صرف اعلانات کر کے رخصت ہو جائے گی یا حقیقت میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ مگر اس بار منظر کچھ مختلف تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس کٹھن گھڑی میں جس طرح کی قیادت اور جرات کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف متاثرین کے دل جیت لیے بلکہ ایک نئی سیاسی روایت کو بھی جنم دیا۔جب دریائے راوی ستلج اور چناب کی بپھری لہریں بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھیں اور پانی دیواروں کو چومتا ہوا گھروں کے اندر داخل ہو رہا تھا تو اکثر رہنما اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر اعلانات اور اجلاسوں تک محدود رہتے ہیں۔ مگر مریم نواز شریف نے یہ روایت توڑ دی۔ انہوں نے کسی پروٹوکول، کسی خطرے یا کسی رسمی طریقہ کار کی پروا کیے بغیر خود کشتی میں بیٹھ کر متاثرہ علاقوں کا رخ کیا۔

 

پانی کی سطح بلند، لہریں تیز، بارش کے آثار ابھی موجود اور خطرات بے شمار تھے لیکن ان کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ ہچکچاہٹ۔ ان کی آنکھوں میں صرف ایک جذبہ جھلک رہا تھا اپنی عوام کا ساتھ دینے کا جذبہ۔یہ دورہ محض رسمی نوعیت کا نہ تھا۔ مریم نواز شریف نے گاؤں گاؤں جا کر متاثرین سے براہ راست ملاقات کی۔ عورتیں اپنے بچوں کو گود میں لیے، بوڑھے اپنے لٹھوں کے سہارے اور نوجوان اپنے اجڑے گھروں کے درمیان وزیر اعلیٰ کے گرد جمع تھے۔ ان کی آنکھوں میں سوال بھی تھے اور امید بھی۔ جب مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ اکیلے نہیں ہیں آپ کی بہن اور بیٹی مریم آپ کے ساتھ ہے تو یہ جملہ وہاں موجود ہر فرد کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ یہ جملہ سیاستدان کا نعرہ نہیں بلکہ ایک بہن کا پیغام محسوس ہوا۔

خواتین کی آنکھوں میں آنسو آئے، بزرگوں نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیں، نوجوانوں کے چہروں پر حوصلے کی جھلک ابھری اور بچوں نے حیرانی سے اپنی وزیر اعلیٰ کو دیکھتے ہوئے ایک نئی اُمید کو محسوس کیا۔اس سیلاب نے مجموعی طور پر پنجاب کے 23 اضلاع کو متاثر کیا۔ قریباً 650 سے زائد دیہات زیر آب آئے، پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ براہ راست متاثر ہوئے اور ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔ مریم نواز شریف نے فوری طور پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو متحرک کیا، فوج اور ریسکیو اداروں کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی اور اپنے دفتری اوقات کو دن رات میں بدل ڈالا۔

ان کے احکامات کے بعد 450 سے زائد عارضی شیلٹرز قائم کیے گئے، دو لاکھ سے زیادہ راشن بیگ تقسیم کیے گئے، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ متاثرین تک ادویات پہنچائی گئیں اور ہزاروں مریضوں کے لیے فیلڈ ہسپتال قائم کیے گئے۔یہ سب صرف حکم دینے سے نہیں ہوا بلکہ مریم نواز شریف خود ہر لمحہ نگرانی کرتی رہیں۔ ان کے دفاتر رات گئے تک کھلے رہے، رپورٹس مسلسل وصول کی جاتیں، ویڈیو لنک میٹنگز کے ذریعے ضلعی انتظامیہ سے براہ راست رابطہ رکھا گیا اور ہر صبح وہ خود متاثرہ علاقوں کے لیے روانہ ہوتیں۔ وہ بار بار خیموں میں گئی تاکہ ان کے مسائل کو براہ راست دیکھ سکیں۔متاثرین کی زبانوں پر یہ جملہ عام تھا کہ برسوں بعد کسی نے ہمارے پاس آ کر ہمارا حال پوچھا ہے۔

ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ اس کی ساری زندگی کی کمائی چند بکریاں تھیں جو پانی میں بہہ گئیں لیکن وزیر اعلیٰ کے آنے سے اسے امید ملی کہ شاید حکومت اس کے لیے کچھ کرے گی۔ ایک نوجوان نے کہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا تھا مگر اب زمین برباد ہو چکی ہے تاہم وزیر اعلیٰ نے جو بحالی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ دوبارہ کھڑا ہو سکے گا۔ بچوں نے بتایا کہ سکول ڈوب گئے ہیں مگر وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی نئے سکول قائم ہوں گے اور کتابیں فراہم کی جائیں گی۔

مریم نواز شریف نے واضح طور پر کہا کہ یہ حکومت صرف وقتی ریلیف دے کر پیچھے نہیں ہٹے گی بلکہ مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ اسی لیے زرعی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے، کھاد اور بیج رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے پیکجز تیار کیے گئے، چھوٹے کسانوں کے قرضے معاف یا ری شیڈول کرنے کے لیے بینکوں سے بات چیت کی گئی، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے ہنگامی بجٹ منظور کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل رہائشی منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔یہ تمام اقدامات بیوروکریسی کے لیے بھی ایک پیغام تھے۔ جب قیادت خود میدان میں موجود ہو تو ماتحت اداروں کی کارکردگی میں بھی تیزی آتی ہے۔ ہر افسر جانتا تھا کہ اگر وزیر اعلیٰ براہ راست نگرانی کر رہی ہیں تو کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی لیے اس بار ریلیف کے کام میں وہ سنجیدگی اور رفتار دیکھنے کو ملی جو اکثر کمیاب ہوتی ہے۔

مریم نواز شریف نے نہ صرف متاثرین کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دی بلکہ ان کی عزت نفس کا بھی خیال رکھا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ امداد کی تقسیم کے دوران لوگوں کو قطاروں میں ذلیل نہ کیا جائے، خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جائیں، بچوں کے لیے دودھ اور خوراک فراہم کی جائے اور بیماروں کے لیے ڈاکٹرز ہمہ وقت موجود ہوں۔ یہ وہ پہلو ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے مگر انہوں نے اسے اپنی اولین ترجیح بنایا۔سیلاب کے دوران ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ سیاست صرف اقتدار کے کھیل کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت کا فریضہ ہے۔ ان کی سیاسی مخالفت کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اس بحران میں ان کی موجودگی حقیقی تھی۔ وہ صرف تصویریں بنوانے نہیں گئیں بلکہ ہر لمحہ متاثرین کے ساتھ رہیں۔ یہ وہ سیاست ہے جو دل جیتتی ہے جو اعتماد پیدا کرتی ہے اور جو آنے والے برسوں کے لیے ایک معیار قائم کر دیتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ ایسے لمحات کو محفوظ کر لیتی ہے۔ برسوں بعد جب اس سیلاب کی داستان بیان کی جائے گی تو اس کے ساتھ مریم نواز شریف کا نام ضرور لیا جائے گا۔ وہ نام جس نے مشکل وقت میں اپنی عوام کے لیے بہن اور بیٹی بن کر ان کے درمیان وقت گزارا، ان کے آنسو پونچھے، ان کے لیے راتیں جاگیں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ قیادت کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ اگر وہ یہی جذبہ اپنی مستقل حکمرانی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف پنجاب قدرتی آفات کا بہتر مقابلہ کرے گا بلکہ ایک ایسی مثال بنے گا جسے دیگر صوبے بھی اپنانے کی کوشش کریں گے۔

مریم نواز شریف نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ سیاست کرسیوں کی جنگ نہیں بلکہ دلوں کی خدمت کا نام ہے۔ انہوں نے دکھا دیا کہ اگر نیت خالص ہو تو اقتدار عوامی فلاح کا سب سے موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔یہ بحران ختم ہو جائے گا، پانی اتر جائے گا، سڑکیں اور پل دوبارہ بن جائیں گے مگر اس مشکل گھڑی میں جو جذبہ عوام اور قیادت کے درمیان قائم ہوا ہے وہ دیرپا ہوگا۔ آج پنجاب کے متاثرہ علاقے یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ان کی وزیر اعلیٰ نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ نبھایا۔ یہ وہ طرز قیادت ہے جو نہ صرف موجودہ دور میں مثال ہے بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی رہنماؤں کے لیے ایک نصیحت رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button