ایک طرف حکومت کی اعلی ترین کارکردگی کی اشتہاری خبریں چھپ رہیں ہیں ۔
مہنگائی میں کمی کے الگ دعوے کیا جارہے ہیں کہ انفلیشن 10 سال کی کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو پھر عوام کو کوئی خاص ریلیف محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ آخر مسئلہ کیا ہے؟
کہیں مسئلہ خبر دینےوالوں کا تو نہیں ؟
اگر ہم اس بات کو ایک آسان مثال سے سمجھیں، تو صورتحال کچھ یوں سامنے آتی ہے۔
تصور کریں کہ شدید گرمی کے موسم میں آپ کو ایک ایسے کمرے میں بٹھا دیا جائے جہاں اے سی لگا ہوا ہو اور تھرموسٹیٹ 16 ڈگری دکھا رہا ہو۔ مگر دراصل اے سی کا کمپریسر بند ہو اور صرف اے سی کے پنکھے چل رہے ہوں۔ ایسے میں اگرچہ تھرموسٹیٹ اچھی ٹھنڈک بتا رہا ہو، آپ کو اصل میں ٹھنڈک کا کوئی اثر محسوس نہیں ہوتا۔ یہی صورتحال حکومت کے مہنگائی میں کمی کے دعووں کے ساتھ ہے۔
وہ عمل جس میں قیمتیں تو بڑھ رہی ہوں مگر ان میں اضافہ پچھلے سال کی نسبت آہستہ ہو گیا ہے، اسے ڈس انفلیشن کہتے ہیں۔ نہ کہ مہنگائی میں کمی
مثال کے طور پر
اگر پچھلے سال ایک کلو چاول کی قیمت 100 روپے تھی اور اب یہ بڑھ کر 110 روپے ہو گئی، تو اس میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔
اگر آئندہ سال چاول کی قیمت میں اضافہ صرف 5 فیصد ہو کر 115 روپے تک پہنچ جائے، تو قیمتیں ابھی بھی بڑھ رہی ہیں، مگر اضافے کی رفتار کم ہو گئی ہے۔
یہاں ڈس انفلیشن کا مطلب صرف اتنا ہے کہ مہنگائی کی رفتار مدھم ہو گئی ہے، نہ کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ اگر آپ کی تنخواہیں اتنی شرح سے نہ بڑھیں تو آپ کی قوت خرید میں کمی برقرار رہتی ہے، اور قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت کم ہونے کے باوجود بھی آپ خرید نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر، اگر مہنگائی 10 فیصد ہے اور آپ کی تنخواہ میں صرف 5 فیصد اضافہ ہوا ہے تو آپ کی حقیقی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے حکومت عموماً اُن اشیاء کے اعداد پیش کرتی ہے جن میں قیمتوں میں اضافہ آہستہ ہو گیا ہے، جبکہ کھانے کی اشیا، پٹرول ، صحت، تعلیم اور سفری کرایہ اور مکان کے کرایوں جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں۔
مہنگائی کو ماپنے کے لیے حکومت کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کا استعمال کرتی ہے، جس میں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ کپڑے، صحت، تعلیم، کرایہ اور ٹرانسپورٹ بھی شامل ہیں۔ لیکن یہ پیمانہ اکثر اُن اشیاء کو ترجیح دیتا ہے جن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہو گئی ہے ۔ اس سے
عوام کی حقیقی معاشی مشکلات مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آتیں۔
حکومت کے دعوے صرف اعداد و شمار کے ایک محدود زاویے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈس انفلیشن کا مطلب یہ ہے کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن ان میں اضافے کی رفتار پچھلے سال کی نسبت کم ہو گئی ہے۔
یہ ایک مثبت اقتصادی اشارہ تو ضرور ہے لیکن اس بات کی ضمانت نہیں کہ قیمتیں خود کم ہو گئی ہیں یا عوام کی حقیقی زندگی میں ریلیف آیا ہے۔ جب کوئی خریدے گا ہی نہیں تو بیچنے والے مہنگائی میں کمی پر مجبور ہوتے ہیں۔مگر اس کے باوجود کی جیب اجازت نہیں دیتی ۔
البتہ اشرافیہ کا مسئلہ اور ہے کیونکہ انکی معیشت اور ہے.
لوگوں کی تنخواہیں یا آمدنی اتنی تیزی سے نہیں بڑھتیں جتنی کہ ضروریات کی قیمتیں، جس سے عام آدمی کی قوت خرید مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، نوکریوں کے خاتمے اور بے روزگاری سے غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ایک اچھا بھلا موٹر سائیکل یا گاڑی پر سوار آدمی کسی بھی وقت نوکری ختم ہونے پر سڑک پر آجاتا ہے۔
اب تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ خبریں دینے والے خود خبر بنتے جا رہے ہیں۔ مختلف ٹی چینلز جہاں ناپسندیدہ اینکرز کو فارغ کیا جا رہا ہے، وہاں اس پروگرام کے ساتھ جڑے پروڈیوسرز اور دیگر عملے کو بھی نکالا جا رہا ہے، مطلب غربت کی لکیر سے نیچے دھکا دیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان مزدوروں کا کیا قصور ہے جو اینکرز کے ساتھ رگڑے گئے ہیں؟ دوسری طرف حکومتی ترجمان ‘ نیم سرکاری اینکرز’ کے ساتھ بیٹھ کر یہ دعوے کرتے ہیں کہ چینلز کا اپنا معاملہ ہے حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں اور اینکرز بھی ثابت کرتا ہے کہ اس نے سخت سوال پوچھ کر ‘جرنلزم’ کا حق ادا کردیا ، مگر بیچ میں جو میڈیا ورکرز کو بے روزگار کر دیا گیا اس کا کیا قصور ہے ، اس کا کون ذمہ دار ہے ؟ اس کا ذکر ‘ نیم سرکاری اینکرز’ بھی نہیں کرتے۔
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں تقریباً 40.5 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور اضافی 2.6 ملین پاکستانی بھی غربت کی حد میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ اعداد و شمار میں مہنگائی کی رفتار میں کمی (یعنی ڈس انفلیشن) کا دعویٰ کیا جاتا ہے، عوام کی قوت خرید اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں سنگین مسائل برقرار ہیں۔
ہمیں ایک ایسے معاشی نظام کی اشد ضرورت ہے جو صرف اعداد و شمار تک محدود نہ ہو بلکہ عوام کی حقیقی جدوجہد، روزمرہ کی مشکلات اور بنیادی ضروریات کو بھی سامنے لائے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے جن سے مہنگائی کی رفتار میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔ ساتھ ہی، ہمیں اپنی آواز بلند کر کے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہماری معاشی پالیسیاں اور کی ضروریات کی صحیح عکاسی کریں۔
اور خبر دینے والوں کو خبر نہ بننے دیا جائے ورنہ پھر درست خبر کہاں سے آئے گی ؟



