انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاک، چین دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری، کوئی جدا نہیں کر سکتا، ملکر ترقی کرینگے، وزیراعظم

چینی مہارت سے استفادہ کرکے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے موثر احتیاطی تدابیر کی جاسکیں گی، سیلابی صورتحال میں قومی سطح پر بھرپور کوششیں، امدادی کارروائیاں جاری ہیں، شہباز شریف

تیانجن، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، دونوں ممالک مل کر ترقی کی منزل حاصل کریں گے، کوئی بھی ہمیں جدا نہیں کر سکتا، پاکستان اور چین تاریخی و ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تیانجن یونیورسٹی کے دورے کے دوران فیکلٹی اور طلبہ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیانجن یونیورسٹی میں موجودگی میرے لئے باعث فخر ہے، پہلی مرتبہ 2017ء میں یونیورسٹی کا دورہ کیا، تیانجن یونیورسٹی علم و دانش کی بہترین درس گاہ ہے، یونیورسٹی نے بہترین سائنسدان اور مفکر تیار کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ نے چین کی ترقی کے سفر میں عظیم کردار ادا کیا، 200سے زائد پاکستانی طلبہ تیانجن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، پاکستانی طلبہ اس عظیم درسگاہ سے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طلبہ پاکستان کے سفیر ہیں، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، پاک چین دوستی باہمی اعتماد، احترام اور پرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے، پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔
دونوں ممالک نے ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی اور تعلقات اتنے ہی دیرینہ ہیں جتنے کہ شاہراہ ریشم ہے، پاکستان اور چین تاریخی و ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہیں، شاہراہ قراقرم دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک عظیم منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے بھی ایک صدی قبل چین کی ترقی کی پیشگوئی کی تھی، 60برس قبل بیجنگ جانے والی پہلی بین الاقوامی پرواز کراچی سے روانہ ہوئی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین نے جس طرح اپنے 8کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نکالا وہ دنیا کیلئے ماڈل ہے، چین آج دنیا کی ایک بڑی معاشی و فوجی طاقت ہے، ہمیں چین کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی کے وژن نے دنیا کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔
عوام کی فلاح و بہبود چین کی حکومت کی ترجیح ہے، غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کا صدر شی جن پنگ کا وژن ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے، پاکستان کی آبادی 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، آج 30ہزار پاکستانی طلبا چین میں زیر تعلیم ہیں، یہ طلبا جدید تحقیق، عصری تعلیم اور فنی مہارتوں سے استفادہ کر رہے ہیں، ووکیشنل ٹریننگ وقت کا تقاضا ہے، تعلیم کے میدان میں پاکستانی اور چینی جامعات کے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی زرعی گریجویٹس نے چین میں تربیت مکمل کر لی ہے، چینی کمپنی کے تعاون سے پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں ہنر مند بنانے کے پروگرام جاری ہیں، پاک چین دوستی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاک چین دوستی کی مشعل اب نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے، آئیں مل کر ترقی و خوشحالی کے دور کا ایک نیا باب رقم کریں۔ قبل ازیں وزیراعظم نے تیانجن یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات کی، انہیں جامعہ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ دوران بریفنگ بتایا گیا کہ تیانجن یونیورسٹی کا شمار چین کی قدیم درسگاہوں میں ہوتا ہے، یونیورسٹی میں انجینئرنگ، سائنس، مینجمنٹ، قانون، آرٹس اور طب کی اعلی تعلیم دی جا رہی ہے، تیانجن یونیورسٹی کا چین کی صنعتی اور سائنسی ترقی میں کردار اہم ہے، پاکستان اور چین کے طلبہ کے درمیان یونیورسٹی پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ مزید برآں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے چینی مہارت سودمند ثابت ہوگی، پاکستان میں موجود بین الاقوامی میڈیکل سینٹر اور چین پاکستان جوائنٹ لیب جیسے منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے اور اس ضمن میں چین اور پاکستان کی مابین شراکت داری کو مزید توسیع دی جائے۔ شہباز شریف نے تیانجن یونیورسٹی میں نیشنل ارتھ کوئیک سمولیشن سینٹر کا دورہ کیا، وزیراعظم کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیکنالوجیز بشمول نئی تیار کردہ میڈیکل ریسکیو گاڑیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کو قدرتی آفات کے لیے احتیاطی تدابیر کے لئے تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چین اور پاکستان کے تعاون سے اس ضمن میں کئی منصوبے موجود ہیں اور متعدد پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کے تحت تعمیر شدہ چائنا پاکستان جوئنٹ لیب فار ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی میڈیسن، بین الاقوامی میڈیکل کواپریشن سنٹر، چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تعریف کی اور کہا کہ چینی مہارت سے مستفید ہونے سے پاکستان میں مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے موثر احتیاطی تدابیر اور لائحہ عمل استعمال کئے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی سطح پر بھرپور کوششیں جاری ہیں، نارووال، سیالکوٹ، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں حالیہ سیلابی صورتحال سے متاثرہ خاندانوں کے لیے اضافی امدادی سامان کے قافلے وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجے جا چکے ہیں جو کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو بھرپور تعاون فراہم کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب وزیر اعظم نے چین میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے موقع پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے دو طرفہ ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاک، ترک تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں سمیت وسیع میدان میں اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور تعاون میں مسلسل اضافے کو سراہا۔ ترکیہ کے صدر نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر پاکستان کی عوام کے ساتھ اپنے ملک کی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ مشکل کی گھڑی میں ترکیہ کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دونوں فریقوں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرنے اور جاری اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کی پالیسیوں کی مذمت کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارم استعمال کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا اور مسلم دنیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم پر زور دیا۔ جبکہ وزیراعظم نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو اپنا ’’ عزیز بھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر تیانجن میں انتہائی گرمجوش اور مفید ملاقات ہوئی، جس میں فلسطین کے لیے متحد رہنے، خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
شہباز شریف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں ہم نے پاک، ترکیہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا جبکہ خطے اور دنیا میں وقوع پذیر حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ترکیہ کے صدر کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔دریں اثنا تیانجن میں وزیراعظم نے عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے غیر رسمی ملاقات کی، ساتھ ہی وزیراعظم کی صدر بیلاروس الیکزانڈر لوکاشینکو اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے بھی ملاقات ہوئی۔ شہباز شریف کی تاجکستان کے صدر سے بھی غیر رسمی ملاقات ہوئی، شہباز شریف نے ترکمانستان اور کرغستان اور مالدیپ کے صدور سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گوتریس سے بھی غیر رسمی ملاقات ہوئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button