بھارتی فلم’’ستارے زمین پر‘‘ کو عامر خان نے صرف پروڈیوس ہی نہیں کیا بلکہ اسے روح سے محسوس بھی کیا ہے۔ فلم میں عامر خان ایک باسکٹ بال کوچ کا کردار نبھاتے ہیں جو اپنی زندگی کے زوال کا شکار ہے۔ ایک حادثہ، شراب نوشی کی سزا اور عدالت کا فیصلہ اس کی زندگی کو ایک نئے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ اسے ڈائون سنڈروم اور آٹزم کے شکار نوجوانوں کی باسکٹ بال ٹیم کی کوچنگ سونپی جاتی ہے۔ابتدائی طور پر وہ ان بچوں کو دیکھ کر مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔
اس کا خیال ہوتا ہے کہ یہ سب دماغی مریض ہیں۔ یہ زندگی کے کسی شعبے میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن وقت کے ساتھ وہ ان کے جذبات، احساسات اور قابلیت کو پہچانتا ہے۔ آخر میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ اصل تربیت یافتہ وہ نہیں بلکہ یہ نوجوان ہیں جنہوں نے اسے انسانیت، ہمدردی اور سچائی کا سبق سکھایا۔
یہ فلم ایک کہانی سے بڑھ کر ایک آئینہ ہے جس میں وہ چہرہ دکھائی دیتا ہے جس سے اکثر معاشرے نظریں چراتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں بھی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بچے اور نوجوان ڈائون سنڈروم اور آٹزم جیسے عارضوں میں مبتلا ہیں۔پاکستان میں ڈاؤن سنڈروم اور آٹزم کے شکار بچوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک کئی پہلوؤں پر محیط ہے اور اس کا تعلق نہ صرف خاندانی رویوں سے ہے بلکہ معاشرتی، تعلیمی اور ریاستی نظام سے بھی ہے۔
بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ایسے بچوں کو وہ قبولیت، توجہ اور سہولتیں نہیں ملتیں جن کے وہ حق دار ہیں۔ ان بچوں کو اکثر ترحم یا نظراندازی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بہت سے والدین بھی معلومات کی کمی، معاشرتی دباؤ اور وسائل کی قلت کے باعث بروقت ان کی تشخیص اور علاج کی طرف مائل نہیں ہوتے۔دیہی علاقوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں تعلیم کی کمی اور فرسودہ روایات کے سبب ان بچوں کو بسا اوقات’’پریشان کن‘‘،’’بدقسمت‘‘ یا ’’اللہ کا عذاب‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
بعض خاندان انہیں چھپاتے ہیں اسکول نہیں بھیجتے یا ان کی جسمانی کمزوریوں کو عبرت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ انہیں معاشرے کے سامنے لانے سے گریز کرتے ہیں۔شہری علاقوں میں اگرچہ کچھ شعور موجود ہے اور نجی سطح پر مخصوص تعلیمی ادارے، تھراپی سینٹرز اور ڈاکٹرز میسر ہیں لیکن ان کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ سرکاری سطح پر ایسے بچوں کے لیے سہولیات محدود ہیں مخصوص اسکول نہ ہونے کے برابر ہیں اور خصوصی اساتذہ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
حکومت نے کچھ ادارے قائم کیے ضرور ہیں مگر ان میں سہولیات ناقص اور عملہ غیر تربیت یافتہ ہوتا ہے۔سوشل میڈیا، این جی اوز اور بعض فلاحی ادارے ان بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ اقدامات جزوی اور ناکافی ہیں۔ میڈیا میں بھی ایسے بچوں کی نمائندگی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے اور جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ یا تو ترحم پر مبنی ہوتا ہے یا سنسنی خیز۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اب کچھ والدین اپنے بچوں کو قبول کر کے ان کے لیے بہترین تعلیم، تھراپی اور سماجی زندگی کی کوشش کر رہے ہیں۔
کچھ پاکستانی بچے بین الاقوامی سطح پر کھیلوں، فنونِ لطیفہ اور تعلیم کے میدان میں کارنامے انجام دے رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر انہیں محبت، رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ کسی عام فرد سے کم نہیں۔تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں ڈاؤن سنڈروم اور آٹزم سے متاثرہ بچوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ معاشرتی ناپسندیدگی، معلومات کی کمی اور ریاستی عدم توجہی ہے۔یہ نوجوان صرف طبی علاج کے متلاشی نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی قبولیت اور انسانی وقار کے بھوکے ہوتے ہیں۔
جب وہ اداروں سے علاج کے بعد واپس آتے ہیں تو ہمارا معاشرہ انہیں دوبارہ اسی نقطۂ آغاز پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم ان کی محنت، شعور اور صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک بار پھر انہیں ذہنی مریض کا لیبل دے کر کسی مرکز میں چھوڑ آتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اصل مریض کون ہے؟ وہ نوجوان جو خاموشی سے جینے کی کوشش کرتا ہے یا وہ معاشرہ جو ہر خاص کو عام اور ہر باصلاحیت کو ناکارہ بنا دیتا ہے؟ معاشرے کا رویہ صرف ان بچوں کو نہیں بلکہ پورے سماج کو بیمار کر دیتا ہے۔ یہ بیماری جسم کی نہیں روح کی ہوتی ہے جو محبت قبولیت اور شعور سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔
ہم نے کبھی سوچا کہ اگر اس فلم جیسا کوئی کردار پاکستان میں ہو تو کیا اسے عدالت کسی ادارے میں بھیجنے کے بجائے جیل میں نہ ڈال دیتی؟ کیا وہ نوجوان یہاں بھی کسی کوچ کی موجودگی میں اپنی صلاحیتیں دکھا پاتے؟ یا ان کا مقدر صرف تنہائی تذلیل اور خاموشی ہوتا؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں کہانیاں فلموں میں تو سنوار لی جاتی ہیں لیکن حقیقت میں ہر کہانی المناک انجام کی طرف دھکیلی جاتی ہے۔معاشرہ جب کسی فرد کی شناخت اس کی بیماری سے کرتا ہے تو وہ نہ صرف انصاف سے محروم ہوتا ہے بلکہ انسانیت سے بھی بےگانہ ہو جاتا ہے۔
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ معذوری کسی کی پہچان نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے۔ جس طرح کوئی اندھا بینا ہو سکتا ہے اسی طرح ذہنی امراض کے شکار افراد بھی باشعور قابل اور باعزت انسان ہو سکتے ہیں۔ہر فرد جو آٹزم یا ڈاون سنڈرم کا شکار ہے اس کے اندر ایک مکمل کائنات آباد ہے۔ صرف ایک نگاہ ایک موقع اور ایک راستہ اسے روشنی کی طرف لا سکتا ہے۔ ہمیں ان کی زندگی میں وہ کوچ بننا ہوگا جو ناامیدی سے امید نکالے اور معاشرے کو یہ سکھائے کہ اصل طاقت قبولیت میں ہے نہ کہ رد میں۔اگر ہم نے ان بچوں کو اداروں میں دھکیل کر اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے تو ہمیں خود کو باشعور کہنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ وہ افراد ہیں جو وقت پر کھانا کھانے نظم و ضبط اپنانے اور بے ضرر رہنے میں ہم سے زیادہ مکمل ہیں۔ ان کی خاموشی میں وہ صدا ہے جو ہمیں سننی ہے۔ ان کی آنکھوں میں وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں دینا ہے۔عامر خان کی فلم ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ ہر انسان سکھانے کے قابل نہیں ہوتا لیکن ہر انسان سیکھنے کے قابل ضرور ہوتا ہے اور بعض اوقات سب سے بڑے استاد وہ ہوتے ہیں جنہیں ہم ذہنی بیمار سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ان نوجوانوں کو انسان تسلیم کریں مریض نہیں۔انہیں اداروں میں بند کر دینا مسائل کا حل نہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ زندگی گزاریں انہیں اپنی محفلوں میں جگہ دیں ان سے سیکھیں اور انہیں جینے کا حق دیں۔ کیونکہ ان کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی اور کی۔یہ تحریر فقط ایک فلم کی تعریف نہیں بلکہ ایک اجتماعی آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اس منظر کو سمجھ لیا تو شاید ہم وہ کوچ بن سکیں جو اپنی زندگی کی بازی ہار کر دوسروں کی جیت لکھتا ہے۔



