انگلش لینگویج پرائیویٹ اسکول میں سالانہ گریجویشن تقریب
قونصل جنرل پاکستان حسین محمد مہمانِ خصوصی تھے ،اہم شخصیات کی شرکت
دبئی (حافظ زاہد علی )دبئی کے معروف تعلیمی ادارے انگلش لینگویج پرائیویٹ اسکول (ELPS)، جو دبئی میں برٹش نصاب کے تحت ایک معروف غیر منافع بخش تعلیمی ادارہ ہے، میں سال 2025 کی اے لیول گریجویشن تقریب نہایت شایانِ شان انداز میں منعقد ہوئی، جس میں فارغ التحصیل طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں اور ہمہ جہتی ترقی کا جشن منایا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور متحدہ عرب امارات کے قومی ترانے سے ہوا۔ اس پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے قونصل جنرل حسین محمد تھے، جنہوں نے طلبہ کو اسناد سے نوازا اور اپنے خطاب میں تعلیمی میدان میں ELPS کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا:“انگلش لینگویج پرائیویٹ اسکول نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے بلکہ نئی نسل کی کردار سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ دبئی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک روشن مثال ہے۔”تقریب میں کئی ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں شامل تھے:عزت ماب راشد سیف الغریر، الغریر گروپ ،عزت ماب محمد عبدالرحمٰن سیف الغریرمحمد شبیر مرچنٹ، چیئرمین، پاکستان بزنس کونسل دبئ،حسن ابراہیم ہوکل، چیئرمین، بورڈ آف گورنرز، ELPS محمد راشد اشرف، شریک چیئرمین، بورڈ آف گورنرز، ELPSدیگر معززین، والدین، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعدادنے شرکت کی تقریب کے میزبان پرنسپل محمد عاطف نے استقبالیہ خطاب میں طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:“آپ نے اے لیول مکمل کر کے دنیا کی اُن 10 فیصد تعلیم یافتہ افراد میں جگہ حاصل کی ہے جو علم کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے۔

”انگلش لینگویج پرائیویٹ اسکول، جو پاکستان ایجوکیشنل اینڈ کلچرل بورڈ کے زیرِانتظام اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) دبئی سے لائسنس یافتہ ہے، ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جو اپنی تمام آمدنی دوبارہ طلبہ کی بہتری پر صرف کرتا ہے۔ اسکول کا مشن ہر بچے کو معیاری، جدید اور جامع تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک باوقار اور مؤثر شہری بن سکے۔تقریب کے دوران اسکول کے اہم شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا، خصوصاً الغریر گروپ اور ٹریگون کی خدمات کو سراہا گیا۔
جن کی معاونت سے اسکول کے تمام کیمپسز میں سمارٹ بورڈز کی تنصیب ممکن ہوئی، جو ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں اہم سنگ میل ہے۔آخر میں، فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد دی گئیں، مہمانانِ گرامی نے ان کے تابناک مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اور اساتذہ، والدین و طلبہ نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ کامیابی بھرپور جوش و خروش سے منائی۔



