پاکستانتازہ ترینکاروبار

کراچی چیمبر نے سیلزٹیکس شق37 کو مستردکردیا،ملک گیر ہڑتا ل کی دھمکی

کراچی:(کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق ’37 اے‘ اور ’37 بی‘ کو کاروبار دشمن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان شقوں کو فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔

صدر جاوید بلوانی نے واضح کیا کہ احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک یہ ’سخت گیر‘ قوانین مکمل طور پر منسوخ نہیں ہو جاتے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اعلان کیا ہے کہ اگر تمام چیمبرز متفقہ طور پر سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق ’37 اے‘ اور ’37 بی‘ کی مخالفت کریں، تو وہ ملک گیر مکمل ہڑتال کی بھرپور حمایت کرے گا، ان شقوں کو چیمبر نے سخت گیر اور کاروباری ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

کے سی سی آئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جاوید بلوانی نے کہا کہ چیمبر ساتوں صنعتی ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر ان شقوں کے خلاف کسی بھی مشترکہ ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بینرز لگانا اور پریس کانفرنسز کرنا محض آغاز ہے، احتجاج اس وقت تک بڑھتے رہیں گے جب تک حکومت شق 37 اے اور 37 بی کو مکمل طور پر واپس نہیں لیتی۔

جاوید بلوانی نے انکشاف کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے ان سے رابطہ کر کے شق 37 اے پر عمل درآمد کے لیے ایس او پیز (معیاری طریقہ کار) تیار کرنے پر بات کی تھی، تاہم انہوں نے ان تجاویز کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے متفقہ مطالبے کے مطابق ہم ایس او پیز کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے واحد مطالبے کو دہراتے ہیں کہ شق 37 اے کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

ممکنہ ہڑتال کے ٹائم فریم سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ دیگر چیمبرز، تجارتی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

جاوید بلوانی نے ایف بی آر کی ناقص کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں ایسے بیشتر مقدمات کا فیصلہ ٹیکس دہندگان کے حق میں آیا، جب کہ صرف چند مقدمات میں ٹیکس حکام کو کامیابی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ کے سی سی آئی نے ٹیکس نظام میں 30 خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے پانچ یا چھ کو اتنا سنگین قرار دیا گیا ہے کہ ان کی موجودگی میں ٹیکس ریٹرن جمع کرانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان خامیوں کو فوری طور پر قانون سازی کے ذریعے دور کیا جائے۔

بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے بھی جاوید بلوانی کے خدشات سے اتفاق کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر گرفتاری کے اختیارات کو بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دیا گیا، تو اس سے بڑے پیمانے پر ہراسانی اور بدعنوانی کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے اختیارات رکھنے والے اہلکار ان اختیارات کو ذاتی مفاد کے لیے غلط استعمال کر سکتے ہیں، اور دیانت دار ٹیکس دہندگان کو غیر قانونی مطالبات ماننے پر مجبور کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی عزت بچا سکیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹیکس نیٹ سے باہر افراد کو نشانہ بنائے، نہ کہ پہلے سے دستاویزی معیشت پر مزید بوجھ ڈالے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button