بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

کراچی کیوں ڈوبا۔۔۔۔؟

تحریر: حسن شبیر میو(کراچی)

غیر معمولی بارش سے کراچی ڈوب گیا۔ دیوار گرنے،کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے نتیجے میں بیس افراد جاں بحق ہوگئے ۔بارش اس قدر شدید تھی کہ پورے کراچی شہر کی سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ جب کراچی میں تیز ہواو ¿ں کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوا توآنا فاناً پورا شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا۔سرجانی ٹاﺅن، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، قیوم آباد ، گلستان جوہر، ملیر، شارع فیصل، ناظم آباد، نیو کراچی میں موسلادھار بارش ہوئی۔شہر کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ حسن اسکوائر، نیپا چورنگی، ضیاءکالونی، گلشن شمیم، لیاقت آباد 10 نمبر، جیل چورنگی، کارساز، کورنگی اور ایکسپریس وے اور دیگر علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ریڈ زون بھی گھنٹوں پانی میں ڈوبا رہا، بدترین ٹریفک جام کے سبب سیکڑوں گاڑیاں بند ہوگئیں، بیسیوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں ڈوبنے کے باعث خراب ہو گئیں۔شہر کے 900فیڈر بند ہونے سے کئی گھنٹے بجلی بند رہی ، شہر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بری طرح متاثر رہی۔شہر قائد میں اربن فلڈنگ کی بنیادی وجوہات میں نکاسی آب کا ناکارہ نظام، کنکریٹ کے جنگل کہلانے والی بے ہنگم رہائشی اور کاروباری تعمیرات، برساتی نالوں پر تجاوزات یا قبضے اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہے۔
پچھلے کم و بیش ساڑھے تین عشروں سے شہر کو بارش کی صورت میں ایسے ہی بحرانی حالات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً شارع فیصل اور آئی آئی چندریگر روڈ کی ابتر حالت شہری حکومت کی ناقص کاکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مون سون بارشوں کے نتیجے میں بارہا کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال دیکھی گئی، مگر ہر سال یہی سوال اٹھتا ہے کہ شہری حکومت 35سالوں کے دوران مرکزی شاہراہوں پر نکاسی کا نظام بہتر نہ کرسکی1992ءمیں کلفٹن اور باتھ آئی لینڈ جیسے پوش علاقوں میں شدید بارش کے بعد کئی دنوں تک پانی جمع رہا۔ستمبر 2011ءمیں تقریباً 140ملی میٹر بارش نے شہریوں کو نہایت سنگین مسائل سے دوچار کیا۔2020ءمیں کراچی کی تاریخ کا بدترین سیلاب یا اربن فلڈنگ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران 40سے زائد ہلاکتیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔جولائی 2022ءمیں کئی روز کی مسلسل بارش نے شہر کو سخت افراتفری سے کا نشانہ بنایا۔سال 2024ءفروری میں غیر معمولی بارش نے بجلی کے 700فیڈرز ٹرپ کر دیے اور ایک بار پھر مرکزی شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں۔ رواں سال مون سون سے پہلے بھی ماہرین اور قومی آفات مینجمنٹ اتھارٹی نے واضح کر دیا تھا کہ نکاسی کے نالوں کی موثر صفائی نہ ہوئی تو کراچی ایک بار پھر ڈوب سکتا ہے اور خدشات کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ 19اگست کو ہونیوالی بارش نے انتظامیہ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ واقعاتی حقائق پر مبنی یہ رپورٹ شہری اور صوبائی حکام کیلئے اپنی ذمے داریوں کے حوالے سے وضاحت طلب ہے۔دنیا میں کتنے ہی ایسے بڑے شہر ہیں جن میں کراچی سے کہیں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں لیکن وہاں نہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں، نہ بجلی کا نظام معطل ہوتا ہے، نہ شہریوں کوٹریفک جام کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہی بارش میں شہر کا آفت زدہ نظر آنا یقینی طور پر بدانتظامی اور ذمے داریوں کی ادائیگی میں غفلت کا نتیجہ ہے جس کے ازالے کے بغیر حکمرانی کے حق کا دعویٰ جائز نہیں کہلا سکتا۔
بارشیں کوئی ایسا قدرتی مظہر نہیں جو اچانک ظہور میں آتا ہے۔ہر سال مون سون اپنے مقررہ ایام میں آتا ہے۔مون سون کے دوران تقریباً دو ماہ میں سال کے دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ان بارشوں کی شدت کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں کے پاس اعدادوشمار ہوتے ہیں کہ موجودہ سیزن سے پہلے مون سون میں کتنی بارش ہوئی اور اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنی بارش ہوئی ہے۔یہ ریکارڈ قیام پاکستان سے پہلے انگریز دور میں بھی مرتب ہوتا تھا اور اب بھی مرتب ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ بارش کا تخمینہ موجود نہیں ہے اور اچانک بہت زیادہ بارش ہوئی۔ ٹاو ¿ن پلاننگ کا اصول یہی ہے کہ کم از کم 50برس کا ریکارڈ سامنے رکھ کر سیوریج سسٹم ڈیزائن کیا جاتا ہے ‘50برس گزرنے کے بعد اگلے 50برس کے لیے سابقہ ریکارڈ کو دیکھ کر شہر کے پھیلاو ¿ کے مطابق ڈرینیج سسٹم میں توسیع کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ شہر میں سے گزرنے والے گندے نالے اور برساتی نالے نکاسی آب کا اہم ترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ سیوریج سسٹم اور گندے نالوں اور برساتی نالوں کی صفائی کا کام تواتر کے ساتھ کرنے کے لیے ادارے قائم ہیں۔ آج بھی یہ ادارے کاغذوں کی سطح پر بھی قائم ہیں اور ان اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں افسراور ملازمین کام کر رہے ہیں۔ان افسران اور ملازمین کو سرکاری خزانے سے ہر مہینے باقاعدگی کے ساتھ تنخواہیں اور دیگر مراعات اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ‘ یہ شہر پاکستان کا کاروباری دارالحکومت ہے اور انٹرنیشنل پورٹ بھی۔قیام پاکستان سے پہلے کراچی متحدہ ہندوستان کے انتہائی خوبصورت اور ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں بھی کراچی کا یہی اسٹیٹس قائم رہا۔لیکن پھر بتدریج کراچی میں سسٹم زوال پذیر ہونے لگا‘ انسانی آبابادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ‘نئی آبادیاں ابھرنے لگیں ‘شروع میں تو پرانا سسٹم اچھا ہونے کی بنا پر مسائل سامنے نہیں آئے لیکن جب آبادیوں کا جنگل اگنے لگا تو پھر آہستہ آہستہ شہری نظام زوال پذیر ہونا شروع ہوا اور اس میں تیزی آگئی۔ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی روز گار کے سلسلے میں لوگ جوق در جوق کراچی میں آنے لگے ‘قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد کراچی میں آبسی ‘ یوں خود رو آبادیاں وجود میں آنے لگیں اور کراچی شہر کے ارد گرد کچی آبادیوں اور جھگیوں کا جنگل اگنے لگا۔ ان آبادیوں میں سیوریج سسٹم موجود نہیں تھا ‘اگر موجود بھی تھا تو وہ جدید تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ڈنگ ٹپاو ¿ پالیسیوں کے تحت کچی آبادیوں میں ناقص سیوریج سسٹم بنایا گیا ‘آبادی مزید بڑھنے لگی اور ٹاو ¿ن پلاننگ کا اختتام ہو گیا۔ شہری ادارے موجود تو تھے لیکن ان کی کارکردگی انتہائی ناقص رہنے لگی ‘شہری اداروں میں سفارشی بھرتیوں کی بھرمار کے باعث بھی ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہونا شروع ہوئی۔ کراچی میں چائینہ کٹنگ کا عمل تیز ہوا ‘ندی نالوں کے ارد گرد آبادیاں بننے لگیں ‘گندے نالوں کے اوپر کمرشل عمارتیں تعمیر ہو گئیں اور پانی کے نکاس کی متعدد گزر گاہیں بند ہو گئیں۔ کراچی میں مختلف قسم کے سیاسی تنازعات کے ساتھ ساتھ یہاں انتظامی بریک ڈاو ¿ن بھی سامنے آیا ۔ کراچی میں معمولی بارش بھی شہر کو اتھل پتھل کر دیتی ہے۔ سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام ہو جاتی ہے شہریوں کے معمولات زندگی رک جاتے ہیں۔ یوں برسوں کی غفلتوں ‘کوتاہیوں اور نااہلی کا نتیجہ آج سب کے سامنے آچکا ہے۔شہر میں نہ ٹرانسپورٹ کا جدید سسٹم موجود ہے اور نہ ہی شہری انتظامیہ کا ڈھانچہ مسائل حل کرنے کے قابل ہے۔کراچی کا اربوں کھربوں روپے کا بجٹ ہے۔لیکن اس کے باوجود کراچی شہر کی حالت کھنڈر جیسی ہے۔بیوروکریسی پر کوئی چیک ہے اور نہ ہی سول سوسائٹی کا کوئی رول نظر آتا ہے۔ شہر کو لسانیت اور گروہی تعصبات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔حالیہ دو دنوں کی بارشیں اتنی بھی زیادہ نہیں ہیں کہ پورا شہر مفلوج ہو جائے اور جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جائے ۔اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ شہر کا انفرااسٹرکچر برباد ہو چکا ہے۔شہری انتظامی اداروں کی بیوروکریسی اور ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے ادا نہیں کر رہے۔کراچی کو دوبارہ ایک ترقی یافتہ شہر بنانے کے لیے سیاسی قیادت کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button