جب سے انوکھے لاڈلے محسن نقوی کو کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ دی گئی ہے پاکستان کرکٹ کا بحرانی دور طویل تر ہوتا جا رہا ہے یہ تو صاف نطر آتا ہے کہ محسن نقوی کو کرکٹ کی قاف کا بھی نہیں پتہ شاید موصوف نے کبھی کرکٹ بیٹ بھی ہاتھ میں نہ پکڑا ہو۔
انہوں نے جن مشیروں کو اپنے ارگرد جمع کر رکھا ہے ان کے مشورے پر چلتے چلتے پاکستانی کرکٹ ٹیم شکستوں کے چکرویو میں ایسی الجھ گئی ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی محسن نقوی کی چیئرمین شپ میں پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں امریکہ جیسی نووارد ٹیم سے ہارے پھر بنگلہ دیش سے ٹیسٹ سریز میں وائٹ واش ہوا تین ملکی کرکٹ سیریز میں ناکامی ہوئی پھرچیمپئنز ٹرافی میں بدترین ناکامی اور دوررہ نیوزی لینڈ میں ٹی ٹونٹی سریز میں چار ایک سے ناکامی اور ون ڈے سریز میں تین صفر کا وائٹ واش یہ ایک بدترین شکست ہے کیونکہ جو نیوزی لینڈ سکواڈ پاکستان کے خلاف اس وائٹ بال سریز میں تھا اس میں انکے 9 اہم ترین کھلاڑی شامل نہیں تھے ۔
کچھ فٹ تھے اور کچھ آئی پی ایل کھیل رہے تھے ولیمسن ، ڈیون کونوائے، لوکی فوگن، میٹ ہینری ، ٹام لیتھم ، رویندرا ، مچل سینٹر، براہن نیگ، جمسن کے بغیر کھلنے والی اس ٹیم کو میں نہیں جانتا بھی نہیں ٹیم لکھوں کے سی ٹیم لکھوں یہ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر پاکستان کی کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی اور عبرتناک شکست ہے۔
محمد رضوان جب سے کپتان بنے ہیں آسٹریلیا میں ون ڈے سریز میں کامیاب رہے ٹی ٹونٹی سریز ہارگئے زمبابوے میں ون ڈے سریز جیت گئے،جنوبی افریقہ میں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی دونوں سریز ہار گئے پھر اپنے ملک میں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تین ملکی کرکٹ سریز ہارگئے۔
ہوم گرائونڈ پر چیمپئنز ٹرافی کے پہلے رائونڈ سے ہی بار ہو گئے اور نیوزی لینڈ میں ون ڈے سیریز میں تاریخی وائٹ واش ، محمد رضوان حادثاتی طور سرفراز احمد جیسے ذہین کھلاڑی اور کپتان کے نعم بدل بن گئے اور بدقسمتی سے سرفراز کی کرکٹ 3 سال پہلے ہی ختم ہو گئی ، رضوان کو نہ ہی ریویو لینا آتا ہے نہ بائولرز کو استعمال کرنا آتا ہے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سریز کے 3 میں سے 2 میچز میں سلو اور ریٹ پر جرمانہ ہوا ہے ان سے جان چھڑا لیں تو بہتر ہے ان کی بیٹنگ ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں خراب ہے اور ٹی ٹونٹی میں وسے ہی سلمان علی آغا کپتان بن چکے ہیں ، عبوری ہیڈ کوچ اور غیر اعلانیہ چیف سلکیٹر عاقب جاوید کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اپنی سلیکشن کمیٹی کی ٹیم اظہر علی اور اسد شفیق اور کوچنگ ٹیم محمد یوسف اور اظہر محمود کے ساتھ طویل گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانیہ کے خلاف ٹیسٹ سریز میں کامیابی سے جو ان کا گراف بلند ہوا تھا وہ جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سریز میں ناکامی ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سریز میں برابری ، تین ملکی کرکٹ سریزچیمپئنزٹرافی اور اب نیوزی لینڈ سے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سریز میں ناکامی کے بعد بہت نیچے گر چکا ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



