بلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیکالم

یوم تکبیرقومی دن

میاں حبیب

آج یوم تکبیر ہے۔ آج کے دن پاکستان نے دھماکے کرکے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا تھا حکومت نے اب باقاعدہ طور پر 28 مئی کو بطور یوم تکبیر قومی دن ڈیکلیر کردیا ہے۔ ملک بھر میں اس روز تعطیل ہوا کرے گی۔

پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چاغی میں 6دھماکے کیے تو پورے عالم اسلام میں جشن منایا گیا کیونکہ یہ طاقت کسی بھی اسلامی ملک کے پاس نہ تھی۔ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے یہ صلاحیت حاصل کی تھی۔ اسی وجہ سے مغربی بلاک اسے اسلامی بم بھی کہتا رہا۔ اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا لیکن پاکستان کا موقف بڑا واضح تھا کہ ہم نے اپنی بقا کی ضمانت کے لیے ایٹم بم بنایا ہے۔ چونکہ پاکستان کو ہمیشہ سے بھارت سے خطرہ رہا ہے بھارت نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، وہ آج کے دور میں بھی اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتا ہے۔ وہ پاکستان کو ختم کرنے کے لیے کئی جنگیں ہم پر مسلط کر چکا ہے۔

1971ء میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوایا تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو نے تہیہ کر لیا کہ وہ پاکستان کی بقا کی ضمانت کے لیے ہر صورت ایٹم بم بنائیں گے۔ انھوں نے کہا ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ پھر انھوں نے ڈاکٹر قدیر کے ذمہ یہ پراجیکٹ لگایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاالحق نے اس کی آبیاری کی لیکن اس کی سکیورٹی کے حوالے سے اور ہر معاملے میں پاک فوج کا کلیدی کردار رہا۔ سابق صدر غلام اسحاق خان نے ساری زندگی ایٹم بم کی تیاری کے لیے فنانس کی کمی نہ ہونے دی بلکہ اگر کہا جائے کہ اس منصوبہ میں پوری قوم نے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کی بعض چیزیں میاں سعید ڈیرے والے کی بھٹی میں تیار کی گئیں۔

سیٹھ عابد کی اس حوالے سے بڑی خدمات ہیں۔ ہمارے دوست نعیم الحق کے والد بریگیڈیئر انعام الحق بھی اس پروگرام سے جڑے ہوئے تھے، ان کی خدمات بھی قابل قدر ہیں ان کو تو باقاعدہ جرمنی سے گرفتار کر کے امریکہ پہنچا دیا گیا تھا جہاں وہ قید رہے۔ مجھے اعزاز حاصل ہے کہ میں نے بریگیڈیئر انعام الحق کی رہائی کے بعد ان پہلا اور آخری انٹرویو کیا تھا کیونکہ وہ اس حوالے سے کسی سے بھی بات نہیں کرتے تھے۔

میں نے سیٹھ عابد کو بھی بہت کریدنے کی کوشش کی۔ میرا ان سے اچھا تعلق تھا، وہ مجھے کہا کرتے تھے پتر میرے سینے میں بہت راز ہیں جو میرے ساتھ ہی دفن ہو جائیں گے۔ میری عادت ہے میں کبھی کسی کاراز فاش نہیں کرتا اور تم مجھ سے قومی راز پوچھتے ہو۔ وہ مجھ سے اپنی ذاتی باتوں کے علاوہ خاندان کی باتیں بھی کرتے رہتے تھے لیکن میری تمام تر کوششوں کے باوجود انھوں نے نہ تو ایٹم کے حوالے سے ان سے جڑی کہانیوں کے بارے میں ساری زندگی ایک لفظ بولا اور نہ ہی سیاست اورسیاستدانوں بارے ان سے نتھی باتوں پر کسی سے کوئی بات کی۔

مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے بھی کئی بار ملاقاتوں کا موقع ملا مجھے سال تو یاد نہیں لیکن یہ 1990ء کے لگ بھگ کا زمانہ تھا وہ لاہور میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے آئے، پروٹوکول والوں سے میرا بڑا اچھا تعلق تھا۔ میں نے کہا میں نے ہر صورت ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہے۔ پروٹوکول والوں نے ڈاکٹر قدیر صاحب کے ساتھ مجھے گاڑی میں بٹھا دیا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تو انھوں نے بتایا ہم تو کب کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں حکومت جب کہے گی ہم دھماکہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے مجھے اسے شائع کرنے سے منع کر دیا حالانکہ اس سے قبل حکومت کئی ذرائع سے بھارت پر واضح کر چکی تھی کہ کسی بھول میں نہ رہنا ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو ہمارے پاس سرنگیں بھی تیار تھیں اور ہم نے 28 مئی 1998ء کو چاغی بلوچستان میں بٹن دبا کر ان سرنگوں میں دھماکے کر دیے جس سے ان پہاڑوں کی رنگت بھی تبدیل ہو گئی۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے آخری حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اس سے بھی بڑھ کر قربانیاں دینی پڑی ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنے کے لیے دنیا بھر نے کئی جال بچھائے لیکن پاکستان کی سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ نے اس بارے میں رتی برابر لغزش نہیں آنے دی۔ پاکستان پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہمارا حفاظتی انتظام کئی ایٹمی طاقتوں سے زیادہ بہتر اور فول پروف ہے بلکہ ہمارے ایٹمی اثاثے بھی بھارت کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہیں۔

جہاں تک ایٹمی دھماکوں کے کریڈٹ کا تعلق ہے تو اس فیصلہ سازی میں قائد صحافت، امام صحافت جناب مجید نظامی کا بھی بنیادی کردار ہے جنھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ اور بالاآخر ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ اللہ نے میاں نواز شریف کے کھاتے میں لکھا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک بھر میں چوکوں چوراہوں پر چاغی کے ماڈل بنائے گئے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایک سپر پاور کے دباؤ میں آکر ہمیں یہ ماڈل چپ چپیتے ہٹانے پڑے۔

آج جب بھارت نے ایک خود ساختہ واقعہ کو جواز بنا کر پاکستان پر حملہ کیا تو ایٹم بم جیسے ڈیٹرنس کی اہمیت کا اور زیادہ احساس ہونے لگا۔ حکومت نے اسی احساس کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ طور پر 28 مئی کو قومی تہوار تسلیم کرتے ہوئے اس روز عام تعطیل کا مستقل اعلان کردیا ہے۔ آج دفاع کے حوالے سے پوری قوم کے جذبات عروج پر ہیں ہماری بہادر افواج نے حال ہی میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا غرور خاک میں ملایا ہے اب بھی وقت ہے بھارت آج کے حالات کے تقاضوں کو سمجھے کہ پاکستان دفاع کے حوالے سے ناقابل تسخیر ہے اور پاکستانی اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

آئیں جدید دور کے تقاضوں کو ملحوض خاطر رکھتے ہوئے ترقی کا سفر شروع کریں، حل طلب مسائل کو ڈائیلاگ کی ٹیبل پر حل کرکے آگے بڑھا جائے اور خطے کی دوارب آبادی کو تحفظ کا احساس دلائیں تاکہ خطے میں بسنے والے لوگ امن و آشتی کے ساتھ ترقی کا سفر شروع کر سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button