انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

19جولائی کویوم الحاق پاکستان، دنیا بھر میں کشمیری سرگرم

کشمیریوں کا دنیا بھر میں تقریبات ،پاکستان سے الحاق یقینی بنانے کیلئے جدوجہدتیز کرنے کے عہد کی تجدید،5اگست کو لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کی تیاریا ں مکمل

سرینگر :(ویب ڈیسک ) دنیا بھر میں کشمیری 19جولائی ہفتے کو یوم الحاق پاکستان منائیں گے۔ یوم الحاق پاکستان کے موقع پر دنیا بھر میں تقریبات اور مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا، بھارتی قبضے سے آزادی اور جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق یقینی بنانے کے لیے جدوجہد تیز کرنے کے عہد کی تجدید بھی کی جائے گی۔

19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے منظور کی گئی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس قرارداد میں کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بھارت نے کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ توڑنے کے لیے تمام تر مظالم بھی آزما لیےیہی وجہ ہے کہ بھارت نے نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لاکھوں کشمیری آزادی کا نعرہ لگاتے جام شہادت نوش کر گئے۔لیکن آج بھی کشمیری عوام بھارتی سامراج کے غیر قانونی قبضے کے خلاف آزادی کیلئے مسلسل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریں اثنا پانچ اگست کو لندن میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے اور کشمیر مارچ کے حوالے سے صدر کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی راجہ فہیم کیانی جنرل سکریٹری خواجہ انعام الحق نے برطانیہ کے شہروں لیوٹن اور سلو کا دورہ کیا اور مختلف اجلاسوں سے خطاب کیا ۔لیوٹن اجلاس کی صدرات مرکزی مسجد لیوٹن کے چئیرمین حاجی محمد شفاعت نے کی، اور سلو میں اجلاس سردار امجد عباسی، سابق میئر سلاو، کی میزبانی میں منعقد ہوا۔

فہیم کیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم ان بہادر شہدا جنہوں نے ظلم، جبر اور غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت کی اور یہ تسلسل آج بھی جارہی ہے کشمیری جدوجہد آزادی میں قربانیاں دے رہے ہیں فہیم کیانی نے کشمیری مزاحمتی جدوجہد کے تناظر میں 5 اگست کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر آئین کی دفعات 370 اور 35A ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت کو ختم کر دیا یہ اقدام بھارتی فوجی قبضے کو باقاعدہ نوآبادیاتی شکل دینے کی کوشش تھی، جس نے کشمیریوں کی سیاسی شناخت، زمین کے حقوق اور قانونی تحفظات چھین لیے۔

یہ سب کچھ جموں و کشمیر کے عوام کی رضامندی کے بغیر کیا گیا۔ خواجہ انعام الحق نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے غیر قانونی اقدامات کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت آبادیاتی دہشت گردی کے ذریعے علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تارکین وطن کی متحرک کوششیں اور بین الاقوامی مقف نے حالیہ عالمی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا 10 مئی کو پاکستان کی عسکری کارروائی نے نہ صرف بھارت کو شدید دھچکا پہنچایا، بلکہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اجلاس میں کمیونٹی کی اہم سیاسی سماجی شخصیات کونسلرز، علماکرام نے شرکت اور مظاہرہے کی بھرپور حمایت اور شرکت کا اعلان کیا۔

دریں اثنا ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے سربراہ مزمل ایوب ٹھاکر نے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نئے اتحاد کے قیام کے لیے میری آشیرباد کی کوئی بھی افواہ سراسر جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزاد ی کشمیر سے غداری کرنے والوں کااحتساب ہو گا۔ لندن میں مقےم مزمل ایوب ٹھاکر نے انسٹا گرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام نے 2019 کے بعد ازمائشوں کا دور دیکھا ہے بھارت نے کشمیر میں اپنے غدار تلاش کیے،یہ غدار کشمیر کی ازادی کا سودا کرنے کے لیے خود آزادی کے حامی بن گئے ،کشمیری عوام اتنے بے وقوف نہیں تھے کہ وہ ان کا شکار بن جاتے، اب افوائیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ جموں و کشمیر میں کوئی نیا اتحاد سرحد پار کی سرپرستی میں بنا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button