لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے گھوسٹ اور جعلی ترقی پانے 10 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا۔

گھر بیٹھے تنخواہیں، دیگر مراعات اور ترقی حاصل کرنے والے گھوسٹ ملازمین کے خلاف مقدمہ درج جبکہ 3 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو تمام گھوسٹ اور جعلی ترقی پانے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ عمر بن جاوید کو نوکری سے برخاست جبکہ 46 لاکھ، 46 ہزار اور 365 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
جونیئر کلرک محمد ذیشان کو نوکری سے برخاست جبکہ 36 لاکھ، 92 ہزار اور 910 روپے ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
جونیئر کلرک تجمل شاہ نواز کو نوکری سے برخاست جبکہ 34 لاکھ، 32 ہزار اور 627 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
سٹینو گرافر محمد زاہد شریف کو 2 لاکھ، 33 ہزار اور 043 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
اسسٹنٹ عمران ممتاز کو نوکری سے برخاست جبکہ 49 لاکھ، 58 ہزار اور 581 روپے کی سزا سنائی گئی۔
سٹینو گرافر زین العابدین کو نوکری سے برخاست جبکہ 40 لاکھ، 37 ہزار اور 543 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
سابق آفسسپرنٹنڈنٹ گل نواز چیمہ کو نوکری سے برخاست جبکہ 24 لاکھ، 80 ہزار اور 705 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
سابق آفس سپرنٹنڈنٹ محمد سرفراز کو نوکری سے برخاست جبکہ 24 لاکھ، 12 ہزار اور 496 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
سابق آفس سپرنٹنڈنٹ زاہد علی کو نوکری سے برخاست جبکہ 22 لاکھ، 85 ہزار اور 353 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی۔
انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئی پی ایچ کے تمام گھوسٹ اور جعلی ترقی پانے والے ملازمین کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔



