بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

اسحاق وردگ کے” شہر میں گاؤں کے پرندے !”

تنقیدی جائزہ:واجد امیر

کوئی صنفِ سخن یونہی لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کرتی پہلے تو اس سے حواسِ خمسہ متعارف ہو تے ہیں ،ذہن قبول کرتا ہے ،اِدھر اُدھر سے تنقید ہوتی ہے اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے مگر پھرمقبولیت پسندیدگی سے بڑھ جاتی ہے پھر اُسی پہ سب سوچتے ہیں ذہن اسی نہج پہ چلتے ہیں، اسی طرز کے سانچے بنتے ہیں انہی میں لفظ بھرے جاتے ہیں اور خیال اُسی فریم میں ساری چُولوں کے ساتھ فِٹ بیٹھتے ہیں اسی تناظر میں غزل ہی کو لے لیں یہ ساری تمہید اسی نیم وحشی صنفِ سخن کے لیے ہے کیوں کہ ہماری بیشتر شاعری غزل ہی کے گرد گھومتی ہے اس میں نعت سلام منقبت کو شامل کر لیں تو دوسری اصناف کے لیے چند فیصد ہی گنجائش نکلتی ہے نظم پہ کہیں کہیں غزل کے مصرعوں کا گماں پڑتا ہے بلکہ بڑے نظم نگاروں کے بقول ، غزل کو توڑ کے بہترین نظم بنتی ہے ۔

یہ غزل ہی ہے جو ہماری اُردو شاعری کی مقبولیت کو لیے جگہ جگہ پھری اور لوگوں کو اپنا اسیر کیا ہمارے تعلیمی نصاب میں بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی صورت موجود ہے گو کہ تسلی بخش نہ بھی سہی مگر موجود تو ہے اوراسی غزل نے اُن زبانوں کے اہلِ سخن کو بھی متوجہ کیا جن کا اپنا فنی اثاثہ قابلِ رشک رہا ہے یہ نصابی اور تعلیمی و تدریسی غزل نے ادبی میلان رکھنے والوں کیااشتہا بڑھائی ہو گی؟ یوں ادبی پرچوں اور شعری مجموعوں ، مشاعروں ، ریڈیو ، ٹی وی نے غزل کی زُلفِ گرہ گیر میں کیسے اسیر کیا ہوگا یوں اُن علاقوں سے غزل کا وہ ذائقہ سامنے آیا جو دوسری زبانوں کی ملائمت و کھردرے پن اور علمی و فنی تجربے پہ مبنی تھا ۔

ایسے ہی ایک شاعراسحاق وردگ ہیں جن کا تعلق صوبہ خیبر پختوں خواہ سے ہے اول تو ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں بلکہ اب گلوبل ویلج کے باسی ہیں اور دوسری زبان صوبے علاقے کی بات کرنی کچھ لوگوں کو بھاتی نہیں مگر یہ بات کرنی چاہیے کیوں کہ سب لوگوں کو معلوم تو ہو اپنی زبان سے باہر نکل کے ایک تدریسی زبان یا قومی زبان میں شعر کہنے کے لیے کن لوازمات کی ضر رت ہو تی ہے یہ مشکل کا م ہے اُن کے لیے بھی جن کی مادری زبان اُردو نہیں ۔

اسحاق وردگ کو ادبی رسائل اور ادھر اُدھر سے پڑھا ضرور تھا مگر جو تاثر کتاب کا بنتا ہے وہ الگ ہی ہوتا ہے اُن کے فن پہ بہت سے سخن وروں نے لکھا ہے اور بہت خوب لکھا ہے وہ اس کے حقدار بھی ہیں کہ وہ عرصہ دراز سے لکھ رہے ہیں اسحاق وردگ کی غزل پہ کسی علاقے کی چھاپ نہیں یہ وہی غزل ہے جو اس وقت کہی جارہی ہے وہ تمام منظر نامے سے آگاہ ہیں اُنہیں لفظ کی نشت و برخواست سے واقفیت ہے وہ غزل کے مزاج سے بھی آشنا ہیں انہوں نے زبردستی ٹھونسا ٹھانسی سے کام نہیں لیا اس کتاب میں ایسے کومل اشعار جابجا مل جائیں گے جو عمد ہ غزل کا سرمایہ ہیں ۔

”کاغذکے بنے پھول جو گُلدان میں رکھنا
تتلی کی اُداسی کو بھی امکان میں رکھنا”
” اِس لیے تو غُلام تھا ہی نہیں
دل کو دُنیا سے کام تھا ہی نہیں”
”آسمانوں کو دیکھتا ہوں میں
ایک درویش آئینہ ہوں میں”
” دیوار میں نمی کا اثر دیکھنے کے بعد
تصویر کو وہاں سے ہٹانا پڑا مجھے”
” مزاجِ دِل کے مطابق نظام ہے کہ نہیں
تمہارے شہر میں گاؤں کی شام ہے کہ نہیں”
” ہمارے خواب ہماری چھتوں پہ بیٹھے ہیں
ہماری نیند کا کچھ اہتمام ہے کہ نہیں”

جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے’’شہر میں گاؤں کے پرندے‘‘ سو اس کے خالق اُس اجنبیت سے گزر رہے ہیں جو دو فطری اور غیر فطری ماحول کے تضاد نے پیدا کیا ہے بلا شبہ یہ عدم توازن ایسا ہے جس کا پاٹنا حساس دل کے لیے مشکل ہوتا ہے سو کہتے ہیں

”مجھ کو ملوائیے پرندوں سے
آپ کے شہر میں نیا ہوں میں ‘‘

محبت کرنے والے ہر تخلیق کار کی طرح ہمارے ان بھائی کو بھی اُسی کرب سے گزرنا پڑا جو سارے پاکستان کا مقدر بن چُکا ہے بلکہ اُن کاصوبہ اور علاقہ بلا واسطہ مسلسل کئی دہائی سے جنونیت کی زدّ پہ ہے یعنی مذہبی انتہا پسندی ، فرقہ واریت ، مذہبی جنونیت اوراس کے نتیجے میں دہشت گردی ۔

اگر اس مجموعے میں اس لعنت کے کے متعلق شاعری نہ ہوتی تو ہم اسحاق وردگ سے شکوہ سرا ہوتے لیکن کئی جگہ ہمیں قبیح اور نامراد اذیت ناک ظالمانہ رَو کے خلاف اشعار ملے جو یقینا ہر حساس سخن ور کی طرح ہمارے بھائی کے لیے بھی تکلیف دہ ہے :

شہر میں آرہا ہے اِک خود کش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی سے ڈرا ہوا ہوں میں

پھول بچوں کو دُکھ سُنا تا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اِن کو پتھر بنا رہا ہوں میں
زندہ ماؤں کا مرثیہ ہوں میں ۔۔۔اِک دھماکے کا واقعہ ہوں میں

بم دھماکوں سے ڈر گیا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔چھوٹے بچوں کا آسر اہوں میں
کون دہشت گروں سے یہ پوچھے ۔۔۔۔۔۔ کن خطاؤں سے مر رہا ہوں میں

یہ عام بات ہے سو اس کی کیا خبر دینی۔۔۔۔۔کہ آج شہرِ پشاور میں سانحہ ہوا ہے

اس دہشت گردی نے ہمیں اندر باہر سے اتنا نحیف و نزار کر دیا کہ ہم تماشا بن گئے ہیں ہم نے اُس دنیا کی جنگ کی جو ہمیں اس عذاب میں مبتلا کر کے اپنے گھروں میں سکون سے جی رہی ہے اور ہم ابھی تک مر رہے ہیں ہمارے حکمران ڈالروں کی چکا چوند کے آگے بک گئے اور اپنے ڈالرلے کے انہیں ملکوں میں چلے گئے جن سے لیے تھے اور ہماری نسلیں نجانے کب تک اس آگ میں جلیں گی اگرچہ ہمارے اہلِ قلم ہمیشہ جاگتے رہے اور متنبہ کرتے رہے کہ باز آجاؤمگر سُنی کس نے ۔
”وہ آگ جو مری بستی میں لارہے ہو جناب
اُسے بجھانے کو کچھ انتظام ہے کہ نہیں؟”
حضرات اگرجتنے شعر نکالے تھے اگر سب کے سب مضمون میں شامل ہوتے تو بات بڑھ جانی تھی سو برادرم اسحاق وردگ آپ اپنے قلم سے غزل کی کوملتا میں بسے شعر کہتے رہیں اور ہاں غزل اب بد بختوں کے کلیجے چیرنے کے لیے بھی موئثر ہتھیا رہے سو کہتے رہیے بہت دُعائیں
”نہیں جاتی اگر یہ آسماں تک
تو پھر اِس چیخ کی حد ہے کہاں تک”

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button