انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

مہنگائی کی بلند ترین سطح اور بجٹ

سپیڈبریکر، میاں حبیب

یہ ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتا جا رہا ہے مڈل کلاس طبقہ تیزی کے ساتھ ختم ہو رہا ہے پاکستان میں خطہ غربت سے نیچے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تقریبا 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے شتر بے مہار مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے کاروبار محدود ہوتے جا رہے ہیں توانائی کے بحران نے پاکستانی معیشت کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اس وقت مہنگائی کا تناسب 11.7 فیصد تک جا پہنچا ہے جو 2024 کے بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نے پاکستان کی کرنسی کو ڈی ویلیو کر دیا ہے 500 کا نوٹ اب 300 کا رہ گیا ہے حکومت فی لیٹر تیل کی قیمت سیکڑوں میں بڑھا چند روپوں کی کمی سے عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی یہی حال بجلی اور گیس کے بلوں کا ہے یہ بنیادی ضرورتیں ہیں لیکن حکومتوں کا کہیں اور زور نہیں چلتا وہ پٹرولیم بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر اپنی ضرورتیں پوری کر لیتی ہیں جبکہ ہمارا ٹیکس اکھٹا کرنے کا محکمہ مسلسل ناکامی سے دوچار ہے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے باوجود ایف بی آر ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہے ۔

توانائی کی قیمتوں کے ذریعے عوام سے زبردستی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے بےبس عوام یہ بھتہ دینے پر مجبور ہیں اس وقت صنعتیں یا تو بند ہو رہی ہیں یا سکڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے بےروزگاری بڑھ رہی ہے عوام کو دو دھاری تلوار کا سامنا ہے ایک طرف ان کی آمدن ہر آنے والے دن میں کم ہو رہی ہے جبکہ روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بحالی ہے باقی سارے مسائل اس کے پیدا کردہ ہیں غیریقینی کے حالات بچے کھچے کاروبار بھی تباہ کر رہے ہیں بنگلہ دیش میں ہم سے بڑا انقلاب آ کر گزر گیا ہے انھوں نے حالات پر قابو پا لیا ہے نہ صرف وہاں سیاسی استحکام آ چکا ہے بلکہ وہ اپنی معیشت کو دوبارہ اپنی ڈگر پر لے آئے ہیں لیکن ہم چار سال سے عدم استحکام کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

عوام کا خون نچوڑنے کے باوجود ٹیکس کولیکشن میں شارٹ فال موجود ہے اور آئی ایم ایف کے مطالبات شیطان کی آنت کی طرح بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں 5جون کوآنیوالا بجٹ موخرکردیا گیا ہے جو چند روز تک متوقع ہے پاکستان کا قومی بجٹ آ رہا ہے ایک بار پھر لرزا طاری ہے کہ نہ جانے حکومت آئی ایم ایف کے مطالبے پورے کرتے ہوئے کون کون سے نئے ٹیکس لگا دے ویسے تو پاکستان کا بجٹ اب بےمعنی سا ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ بجٹ تو اعداد وشمار کا گورکھ دھندا ثابت ہوتا ہے ۔

بہت ساری چیزیں مخفی رکھی جاتی ہیں صرف اخراجات کی فہرست پیش کی جاتی جبکہ پورا سال مختلف حیلوں بہانوں سے ٹیکسوں کی بھرمار جاری رہتی ہے پاکستان کے سارے حکمت کاروں کو صرف ایک ہی کام ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسے کس طرح اکھٹے کرنے ہیں جس کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا کر عوام کو نچوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے پاکستان ایک کمرشل ریاست بنتی جا رہی ہے کبھی کسی نے عوام کی حالت زار کو مدنظر رکھ کر ان کو ریلیف دینے کے کسی منصوبے پر کبھی نہیں سوچا مالی معاملات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان خلیج پایا جاتا ہے۔

وفاق کہتا ہے وسائل صوبوں کے پاس ہیں اس لیے آمدنی بھی صوبوں کی زیادہ ہے جبکہ صوبے کہتے ہیں کہ وفاق ان کا مالیاتی حصہ پورا ادا نہیں کر رہا سنا ہے کہ 28 ویں آئینی ترامیم کی تیاریاں ہیں جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالہی معاملات کی ازسرنو تشکیل طے کی جائے گی بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کو ہرقسم کے معاملات میں اندھیرے میں رکھا جاتا ہے انھیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے حکومتیں عوام کو اعتماد میں نہیں لیتیں جس سے عوام بھی معاملات سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں بےبسی اور بےحسی بڑھ رہی ہے خدارا بجٹ میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے کاروبار چل پڑیں کاروبار ہوں گے تو حکومت بھی ٹیکس اکھٹا کر سکے گی۔

حکومت پٹرول مہنگا کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ ہم نے اتنی اضافی رقم اکھٹی کر لی ہے لیکن یہ بھی دیکھا جائے عوام کے مسائل میں کتنا اضافہ ہوا ہے پٹرول کی طلب میں کتنی کمی آئی ہے پہیہ کتنا سست ہوا ہے یا رک گیا ہےبجٹ میں مختلف شعبوں کو ریلیف دے کر کاروباری سرگرمیوں کو بڑھایا جائے عوام کو اعتماد میں لیا جائے ایران سے بارٹر سسٹم کے ذریعے پٹرول حاصل کیا جائے ایران سے گیس پائپ لائن مکمل کی جائے زراعت صنعت اور سروسز کے شعبہ میں اصلاحات کرکے حالات کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button