بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریںکالم

محکمہ صحت،ہسپتال،میڈیکل یونیورسٹیوں پر معمر افراد کا راج،قابل نوجوان دربدر

فیصل درانی

 

اسے اپنے پیارے ملک پاکستان کی بدقسمتی کہوں کہ حکمرانوں کے گناہوں کا بوجھ جس کے باعث اس پیارے ملک کے ہر اہم شعبے پر بڈھے کھوسٹ افسران مسلط ہیں جو اس ملک کو 60 سال تک لوٹنے کے بعد بھی تمام اہم اور اور کشش عہدوں سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر کے تمام پڑھے لکھے نوجوان گاہے بگاہے اور موقع ملتے ہی ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں اور اپنی بے پناہ تکنیکی صلاحیتوں سے دیگر ممالک کی عوام کے لیے نہایت سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ملک بھر کے تمام اہم ترین اور پرکشش عہدوں پر زیادہ تر بڈھے کھوسٹ ہی قابض ہیں۔ جن میں سے چند ایسے بھی ہیں جو سہارے سے چلتے اور بولتے وقت بھی بعض اوقات ان کی زبان لڑکھڑاتی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کے سوچنے کی قوت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ ملک کے چند مضبوط ترین بیوروکریٹس کے والدین اور ان کے عزیز و اقارب کو نواز کر ان سے مخصوص خدمات حاصل کر کے ملک کو اپنے انداز میں چلایا جا رہا ہے۔ یہ اقربہ پروری اگر دیگر غیر اہم محکموں تک رہتی تو شاید قابل قبول تھی مگر صحت اور تعلیم کے شعبوں کے اہم ترین پرکششوں عہدوں پر بڈھوں کو تعینات کر کے حکومت نہ جانے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو تصویر کا ایسا رخ دکھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ زائد العمر ان عہدوں پر تعینات نہ کیے گئے تو شاید صوبہ ڈوب جائے۔
وزیراعلی اگر حساس اداروں سے تحقیقات کروائیں تو معلوم ہوگا کہ محکمہ صحت میں نچلی سطح سے اوپر تک ہر طرف ریٹائرڈافرادہی قابض نظر ائیں گے ۔
کیا وجوہات ہیں کہ حکمران مجبور ہیں بے بس ہیں لاچار ہیں جو ان زائد العمرافراد کو نہ صرف لاکھوں روپے تنخواہ سرکاری گاڑیاں لاکھوں روپے کا پٹرول، ایئر کنڈیشن دفاتر، خدمت کے لیے کئی کئی ملازم فراہم کیے گئے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ آج صوبے بھر کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے خالی عہدوں پر قابض ہونے کے لیے کچھ ایسےزائد العمر سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں جو اپنی عمر کے آخری حصے میں ہیں مگر دولت مرتبہ اور لامحدود طاقت کو کسی صورت گنوانا نہیں چاہتے۔ جن کی آخری آرزو اور خواہش بھی یہی ہے کہ ان کی زندگی کا اختتام بھی ان ہی یونیورسٹیز کے پرکشش عہدوں کے ساتھ ہی ہو اور اس کے لیے حکومت اتنی بے بس اور مجبور نظر ارہی ہے کہ ایک قانون کے تحت یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے عمر کی حد بڑھانے کے لیے قانون سازی کرنے کی شنید ہے۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز ہوں یا محکمہ صحت کے مختلف اداروں کی انتظامی کمیٹیاں ان کے بھی تمام عہدوں پر زائدالعمرافراد ہی تعینات کیے گئے ہیں جو صرف ایک ہی کمیٹی نہیں بلکہ کئی کئی کمیٹیوں میں ممبر ہیں ۔ یہ مختلف ہسپتالوں یونیورسٹیوں اور دیگر پرائیویٹ اداروں میں بھی خدمات انجام دے کر لاکھوں وصول کرتے ہوئے ایک ٹکٹ میں کئی کئی مزے لے رہے ہیں جب کہ سرکاری طور پر بھی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔

لگتا ہے پنجاب بھر میں کوئی بھی تعلیم یافتہ نوجوان نہیں بچا جو ان عہدوں کے قابل ہو یا پھر وہ نوجوان جو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود صرف سیاست دانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اانتخابی مہم اور جلسوں میں دھوپ ہو یا سردی صرف نعرے لگاتے ہیں صرف اس امید پر کہ شاید اس کا صلہ ہمیں ملازمت کی صورت میں مل جائے مگر بعد ازاں ’’ مکھن ملائی ‘‘ یہ زائد العمرافراد لے جاتے ہیں اور نوجوان منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔
کیا اس صوبے کی مجبور و لاچار عوام سوال کر سکتی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان کہاں جائیں پاکستان میں رہیں تو بھوک و افلاس اور باہر جانے کی کوشش کریں تو روک لیے جائیں شاید ان کی قسمتوں میں ذلت و خواری لکھی جا چکی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button