اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 11افراد سمیت مزید 90فلسطینی شہید
اگر امداد فوری فراہم نہ کی گئی تو مزید لوگ جان سے جائیں گے:اقوام متحدہ، مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نئے علاقائی نظام کی بنیادبھی ہے:سعودی عرب
غزہ ، ریاض:(ویب ڈیسک ) اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جارحیت کے دوران انسانیت کو شرما دینے والے جرائم کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روزبھی صیہونی طیاروں نے غزہ کے مختلف مقامات پر کھانا ملنے کی آس میں جمع بے گھر فلسطینیوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ ڈرون حملے بھی کیے جن میں ایک ہی خاندان کے 11افراد سمیت مزید 90فلسطینی شہید اور 211زخمی ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسانی امداد تک فوری اور مسلسل رسائی نہ دی گئی تو مزید لوگ جان سے جائیں گے اور اس کے طویل المدتی نتائج پوری آبادی پر انتہائی گہرے ہوں گے۔سعودی عرب نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا سٹریٹجک ضرورت ہے، اس تبدیلی کے خواہاں ہیں جو تنازع کے پرامن حل کیلئے فیصلہ کن ہو۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سعودی وفد کے سربراہ منال رضوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نہ صرف اخلاقی اور قانونی ضرورت ہے بلکہ یہ بقائے باہمی پرمبنی ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد بھی ہے، ہم مستقل اور ٹھوس بنیادوں پر ایسی تبدیلی کے خواہاں ہیں جو فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل کیلئے فیصلہ کن ہو۔
اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین کے پرامن تصفیہ اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد کانفرنس جون میں ہوگی، سعودی عرب اور فرانس کانفرنس کے میزبان ہوں گے۔کانفرنس کا ا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابقت سے جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب واضح اور ناقابل واپسی لائحہ عمل بنانا ہے۔



